سڑک کے کنارے

سڑک کے کنارے

’’یہی دن تھے۔ آسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔ دھلا ہوا، نتھرا ہوا۔ اور دھوپ بھی ایسی ہی کنکنی تھی۔ سہانے خوابوں کی طرح۔ مٹی کی باس بھی ایسی ہی تھی جیسی کہ اس وقت میرے دل و دماغ میں رچ رہی ہے۔ اور میں نے اسی طرح لیٹے لیٹے اپنی پھڑپھڑاتی ہوئی روح اس کے حوالے کردی تھی۔ ‘‘

’’اسً نے مجھ سے کہا تھا۔ تم نے مجھے جو یہ لمحات عطا کیے ہیں یقین جانو۔ میری زندگی ان سے خالی تھی۔ جو خالی جگہیں تم نے آج میری ہستی میں پُر کی ہیں۔، تمہاری شکر گزار ہیں۔ تم میری زندگی میں نہ آتیں تو شاید وہ ہمیشہ ادھوری رہتی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں تم سے اور کیا کہوں۔ میری تکمیل ہو گئی ہے۔ ایسے مکمل طور پر کہ محسوس ہوتا ہے مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں رہی۔ اور وہ چلا گیا۔ ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ ‘‘

’’میری آنکھیں روئیں۔ میرا دل رویا۔ میں نے اس کی منت سماجت کی۔ اس سے لاکھ مرتبہ پوچھا کہ میری ضرورت اب تمہیں کیوں نہیں رہی۔ جبکہ تمہاری ضرورت۔ اپنی تمام شدتوں کے ساتھ اب شروع ہوئیہے۔ ان لمحات کے بعد جنہوں نے بقول تمہارے، تمہاری ہستی کی خالی جگہیں پُر کی ہیں۔ ‘‘

اس نے کہا۔

’’تمہارے وجود کے جس جس ذرے کی میری ہستی کی تعمیر و تکمیل کو ضرورت تھی، یہ لمحات چن چن کر دیتے رہے۔ اب کہ تکمیل ہو گئی ہے تمہارا میرا رشتہ خود بخود ختم ہو گیا ہے۔ ‘‘

کس قدر ظالمانہ لفظ تھے۔ مجھے سے یہ پتھراؤ برداشت نہ کیا گیا۔ میں چیخ چیخ کر رونے لگی۔ مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ میں نے اس سے کہا۔

’’یہ ذرے جن سے تمہاری ہستی کی تکمیل ہوئی ہے، میرے وجود کا ایک حصہ تھے۔ کیا ان کا مجھ سے کوئی رشتہ نہیں۔ کیا میرے وجود کا بقایا حصہ ان سے اپنا ناطہ توڑ سکتا ہے؟۔ تم مکمل ہو گئے ہو۔ لیکن مجھے ادھورا کرکے۔ کیا میں نے اسی لیے تمہیں اپنا معبود بنایا تھا؟‘‘

اس نے کہا۔

’’بھونرے، پھولوں اور کلیوں کا رس چوس چوس کر شہید کشید کرتے ہیں، مگر وہ اس کی تلچھٹ تک بھی ان پھولوں اور کلیوں کے ہونٹوں تک نہیں لاتے۔ خدا اپنی پرستش کراتا ہے، مگر خود بندگی نہیں کرتا۔ عدم کے ساتھ خلوت میں چند لمحات بسر کرکے اس نے وجود کی تکمیل کی۔ اب عدم کہاں ہے۔ اس کی اب وجود کو کیا ضرورت ہے۔ وہ ایک ایسی ماں تھی جو وجود کو جنم دیتے ہی زچگی کے بستر پر فنا ہو گئی تھی۔ ‘‘

عورت رو سکتی ہے۔ دلیلیں پیش نہیں کرسکتی۔ اس کی سب سے بڑی دلیل اس کی آنکھ سے ڈھلکا ہوا آنسو ہے۔ میں نے اس سے کہا۔

’’دیکھو۔ میں رو رہی ہوں۔ میری آنکھیں آنسو برسا رہی ہیں تم جارہے ہو تو جاؤ، مگر ان میں سے کچھ آنسوؤں کو تو اپنے رومال کے کفن میں لپیٹ کر ساتھ لیتے جاؤ۔ میں تو ساری عمر روتی رہوں گی۔ مجھے اتنا تو یاد رہے گا کہ چند آنسوؤں کے کفن دفن کا سامان تم نے بھی کیا تھا۔ مجھ خوش کرنے کے لیے!‘‘

اس نے کہا۔

’’میں تمہیں خوش کرچکا ہوں۔ تمہیں اس ٹھوس مسرت سے ہمکنار کرچکا ہوں۔ جس کے تم سراب ہی دیکھا کرتی تھیں۔ کیا اس کا لطف اس کا کیف، تمہاری زندگی کے بقایا لمحات کا سہارا نہیں بن سکتا۔ تم کہتی ہوکہ میری تکمیل نے تمہیں ادھورا کردیا ہے۔ لیکن یہ ادھورا پن ہی کیا تمہاری زندگی کو متحرک رکھنے کے لیے کافی نہیں۔ میں مرد ہوں۔ آج تم نے میری تکمیل کی ہے۔ کل کوئی اور کرے گا۔ میراوجود کچھ ایسے آب و گل سے بنا ہے جس کی زندگی میں ایسے کئی لمحات آئیں گے جب وہ خود کو تشنہ تکمیل سمجھے گا۔ وہ تم ایسی کئی عورتیں آئیں گی جو ان لمحات کی پیدا کی ہوئی خالی جگہیں پُر کریں گی۔ ‘‘

میں روتی رہی۔ جھنجھلاتی رہی۔ میں نے سوچا۔ یہ چند لمحات جو ابھی ابھی میری مٹھی میں تھے۔ نہیں۔ میں ان لمحات کی مٹھی میں تھی۔ میں نے کیوں خود کو ان کے حوالے کردیا۔ میں نے کیوں اپنی پھڑپھڑاتی روح ان کے منہ کھولے قفس میں ڈال دی۔ اس میں مزا تھا۔ ایک لطف تھا۔ ایک کیف تھا۔ تھا، ضرور تھا۔ اور یہ اس کے اور میرے تصادم میں تھا۔ لیکن۔ یہ کیا کہ وہ ثابت و سالم رہا۔ اورمجھ میں تریڑے پڑ گئے۔ یہ کیا، کہ وہ اب میری ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ لیکن میں اور بھی شدت سے اس کی ضرورت محسوس کرتی ہوں۔ وہ طاقتور بن گیا ہے۔ میں نحیف ہو گئی ہوں۔ یہ کیا کہ آسمان پر دو بادل ہم آغوش ہوں۔ ایک رو رو کر برسنے لگا، دوسرا بجلی کا کوندا بن کر اس بارش سے کھیلتا، کدکڑے لگاتا بھاگ جائے۔ یہ کس کا قانون ہے؟۔ آسمانوں کا؟۔ زمینوں کا۔ یا ان کے بنانے والوں کا؟ میں سوچتی رہی اور جھنجھلاتی رہی۔ دو روحوں کا سمٹ کر ایک ہو جانا اور ایک ہو کر والہانہ وسعت اختیار کرجانا۔ کیا یہ سب شاعری ہے۔ نہیں، دو روحیں سمٹ کر ضرور اس ننھے سے نکتے پر پہنچتی ہیں جو پھیل کرکائنات بنتا ہے۔ لیکن اس کائنات میں ایک روح کیوں کبھی کبھی گھائل چھوڑ دی جاتی ہے۔ کیا اس قصور پر کہ اس نے دوسری روح کو اس ننھے سے نکتے پر پہنچنے میں مدد تھی۔ یہ کیسی کائنات ہے۔ یہی دن تھے۔ آسمان کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔ اور دھوپ بھی ایسی ہی کنکنی تھی۔ اور میں نے اسی طرح لیٹے لیٹے اپنی پھڑپھڑاتی ہوئی روح اس کے حوالے کردی تھی۔ وہ موجود نہیں ہے۔ بجلی کا کوندا بن کر جانے وہ کن بدلیوں کی گریہ و زاری سے کھیل رہا ہے۔ اپنی تکمیل کر کے چلا گیا۔ ایک سانپ تھا جو مجھے ڈس کر چلا گیا۔ لیکن اب اس کی چھوڑی ہوئی لکیر کیوں میرے پیٹ میں کروٹیں لے رہی ہے۔ کیا یہ میری تکمیل ہورہی ہے؟ نہیں، نہیں۔ یہ کیسی تکمیل ہو سکتی ہے۔ یہ تو تخریب ہے۔ لیکن یہ میرے جسم کی خالی جگہیں پُر ہورہی ہیں۔ یہ جو گڑھے تھے کس ملبے سے پُر کیے جارہے ہیں۔ میری رگوں میں یہ کیسی سرسراہٹیں دوڑ رہی ہیں۔ میں سمٹ کر اپنے پیٹ میں کس ننھے سے نکتے پر پہنچنے کے لیے پیچ و تاب کھا رہی ہوں۔ میری ناؤ ڈوب کر اب کن سمندروں میں ابھرنے کے لیے اٹھ رہی ہے۔ ؟ یہ میرے اندر دہتے ہوتے چولھوں پر کس مہمان کے لیے دودھ گرم کیا جارہا ہے۔ یہ میرا دل میرے خن کو دھنک دھنک کر کس کے لیے نرم و نازک رضائیاں تیار کررہا ہے۔ یہ میرا دماغ میرے حالات کے رنگ برنگ دھاگوں سے کس کے لیے ننھی منی پوشاکیں بن رہا ہے؟ میرا رنگ کس کے لیے نکھر رہا ہے۔ میرے انگ انگ اور روم روم میں پھنسی ہوئی ہچکیاں لوریوں میں کیوں تبدیل ہورہی ہیں۔ یہی دن تھے۔ آسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔ لیکن یہ آسمان اپنی بلندیوں سے اتر کر کیوں میرے پیٹ میں تن گیا ہے۔ اس کی نیلی نیلی آنکھیں کیوں میری رگوں میں دوڑتی پھرتی ہیں؟ میرے سینے کی گولائیوں میں مسجدوں کے محرابوں ایسی تقدیس کیوں آرہی ہے؟ نہیں، نہیں۔ یہ تقدیس کچھ بھی نہیں۔ میں ان محرابوں کو ڈھا دوں گی۔ میں اپنے اندر تمام چولھے سرد کردوں گی جن پر بن بلائے مہمان کی خاطر داڑیاں چڑھی ہیں۔ میں اپنے خیالات کے تمام رنگ برنگ دھاگے آپس میں الجھا دوں گی۔ یہی دن تھے۔ آسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔ لیکن میں وہ دن کیوں یاد کرتی ہوں جن کے سینے پر سے وہ اپنے نقش قدم بھی اٹھا کر لے گیا تھا۔ لیکن یہ۔ یہ نقش قدم کس کا ہے۔ یہ جو میرے پیٹ کی گہرائیوں میں تڑپ رہا ہے۔ ؟۔ کیایہ میرا جانا پہچانا نہیں۔ میں اسے کھرچ دوں گی۔ اسے مٹادوں گی۔ یہ رسولی ہے۔ پھوڑا ہے۔ بہت خوفناک پھوڑا۔ لیکن مجھے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پھاہا ہے۔ پھاہا ہے تو کس زخم کا؟۔ اس زخم کا جو وہ مجھے لگا کر چلا گیا تھا؟۔ نہیں نہیں۔ یہ تو ایسا لگتا ہے کسی پیدائشی زخم کے لیے ہے۔ ایسے زخم کے لیے جو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ جو میری کوکھ میں جانے کب سے سورہا تھا۔ یہ کوکھ کیا؟۔ فضول سی مٹی کی ہنڈکلیا۔ بچوں کا کھلونا۔ میں اسے توڑ پھوڑ دوں گی۔ لیکن یہ کون میرے کان میں کہتا ہے۔

’’یہ دنیا ایک چوراہا ہے۔ اپنا بھانڈا کیوں اس میں پھوڑتی ہے۔ یاد رکھ تجھ پر انگلیاں اٹھیں گی۔ انگلیاں۔ ادھر کیوں نہ اٹھیں گی، جدھر وہ اپنی ہستی مکمل کرکے چلا گیا تھا۔ کیا ان انگلیوں کو وہ راستہ معلوم نہیں۔ یہ دنیا ایک چوراہا ہے۔ لیکن اس وقت تو وہ مجھے ایک دوراہے پر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ ادھر بھی ادھورا پن تھا۔ اُدھر بھی ادھورا پن۔ اِدھر بھی آنسو، اُدھر بھی آنسو۔ لیکن یہ کس کا آنسو، میرے سیپ میں موتی بن رہا ہے۔ یہ کہاں بندھے گا؟ انگلیاں اٹھیں گی۔ جب سیپ کا منہ کھلے اور موتی پھسل کر باہر چوراہے میں گر پڑے گا تو انگلیاں اٹھیں گی۔ سیپی کی طرف بھی اور موتی کی طرف بھی۔ اور یہ انگلیاں سنپولیاں بن بن کر ان دونوں کو ڈسیں گی اور اپنے زہر سے ان کو نیلا کردیں گی۔ آسمان اس کی آنکھوں کی طرح ایسا ہی نیلا تھا جیسا کہ آج ہے۔ یہ گر کیوں نہیں پڑتا۔ وہ کون سے ستون ہیں جو اس کو تھامے ہوئے ہیں۔ کیا اس دن جو زلزلہ آیا تھا وہ ان ستونوں کی بنیادیں ہلا دینے کے لیے کافی نہیں تھا۔ یہ کیوں اب تک میرے سر کے اوپر اسی طرح تنا ہوا ہے؟ میری روح پسینے میں غرق ہے۔ اس کا ہر مسام کھلا ہوا ہے۔ چاروں طرف آگ دہک رہی ہے۔ میرے اندر کٹھالی میں سونا پگھل رہا ہے۔ دھونکنیاں چل رہی ہیں۔ شعلے بھڑک رہے ہیں۔ سونا، آتش فشاں پہاڑ کے لاوے کی طرح ابل رہا ہے۔ میری رگوں میں نیلی آنکھیں دوڑ دوڑ کر ہانپ رہی ہیں۔ گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ کوئی آرہا ہے۔ کوئی آرہا ہے۔ بند کردو۔ بند کردو کواڑ۔ کٹھالی الٹ گئی ہے۔ پگھلا ہوا سونا بہہ رہا ہے۔ گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ وہ آرہا ہے۔ میری آنکھیں مند رہی ہیں۔ نیلا آسمان گدلا ہو کر نیچے آرہا ہے۔ یہ کس کے رونے کی آواز ہے۔ اسے چپ کراؤ۔ اس کی چیخیں میرے دل پر ہتھوڑے مار رہی ہیں۔ چپ کراؤ۔ اسے چپ کراؤ۔ اسے چپ کراؤ۔ میں گود بن رہی ہوں۔ میں کیوں گودبن رہی ہوں۔ میری بانھیں کھل رہی ہیں۔ چولھوں پر دودھ ابل رہا ہے۔ میرے سینے کی گولائیاں پیالیاں بن رہی ہیں۔ لاؤ اس گوشت کے لوتھڑے کو میرے دل کے دھنکے ہوئے خون کے نرم نرم گالوں میں لٹا دو۔ مت چھینو۔ مت چھینو اسے۔ مجھ سے جدا نہ کرو۔ خدا کے لیے مجھ سے جدا نہ کرو۔ انگلیاں۔ انگلیاں۔ اٹھنے دو انگلیاں۔ مجھے کوئی پروا نہیں۔ یہ دنیا چوراہا ہے۔ پھوٹنے دومیری زندگی کے تمام بھانڈے۔ میری زندگی تباہ ہو جائے گی؟۔ ہو جانے دو۔ مجھے میرا گوشت واپس دے دو۔ میری روح کا یہ ٹکڑا مجھ سے مت چھینو۔ تم نہیں جانتے یہ کتنا قیمتی ہے۔ یہ گوہر ہے جو مجھے ان چند لمحات نے عطا کیا ہے۔ ان چند لمحات نے جنہوں نے میرے وجود کے کئی ذرے چن چن کر کسی کی تکمیل کی تھی اور مجھے اپنا خیال میں ادھورا چھوڑ کے چلے گئے تھے۔ میری تکمیل آج ہوئی ہے۔ مان لو۔ مان لو۔ میرے پیٹ کے خلا سے پوچھو۔ میری دودھ بھری ہوئی چھاتیوں سے پوچھو۔ ان لوریوں سے پوچھو، جو میرے انگ انگ اور روم روم میں تمام ہچکیاں سلا کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ ان جھولنوں سے پوچھو جومیرے بازوؤں میں ڈالے جارہے ہیں۔ میرے چہرے کی زردیوں سے پوچھو جو گوشت کے اس لوتھڑے کے گالوں کو اپنی تمام سرخیاں چھپاتی رہی ہیں۔ ان سانسوں سے پوچھو، جو چھپے چوری اس کو اس کا حصہ پہنچاتے رہے ہیں۔ انگلیاں۔ اٹھنے دو انگلیاں۔ میں انھیں کاٹ ڈالوں گی۔ شور مچے گا۔ میں یہ انگلیاں اٹھا کر اپنے کانوں میں ٹھونس لوں گی۔ میں گونگی ہو جاؤں گی، بہری ہو جاؤں گی، اندھی ہو جاؤں گی۔ میرا گوشت، میرے اشارے سمجھ لیا کرے گا۔ میں اسے ٹٹول ٹٹول کر پہچان لیا کروں گی۔ مت چھینو۔ مت چھینو اسے۔ یہ میری کوکھ کی مانگ کا سیندھور ہے۔ یہ میری ممتا کے ماتھے کی بندیا ہے۔ میرے گناہ کا کڑوا پھل ہے؟۔ لوگ اس پرتھو تھو کریں گے؟۔ میں چاٹ لوں گی یہ سب تھوکیں۔ آنول سمجھ کر صاف کردوں گی۔ دیکھو، میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔ تمہارے پاؤں پڑتی ہوں۔ میرے بھرے ہوئے دودھ کے برتن اوندھے نہ کرو۔ میرے دل کے دھنکے ہوئے خون کے نرم نرم گالوں میں آگ نہ لگاؤ۔ میری بانھوں کے جھولوں کی رسیاں نہ توڑو۔ میرے کانوں کو ان گیتوں سے محروم نہ کرو جو اس کے رونے میں مجھے سنائی دیتے ہیں۔ مت چھینو۔ مت چھینو۔ مجھ سے جدا نہ کرو۔ خدا کے لیے مجھے اس سے جدا نہ کرو۔ لاہور21جنوری دھوبی منڈی سے پولیس نے ایک نوزائیدہ بچی کو سردی سے ٹھٹھرتے سڑک کے کنارے پڑی ہوئی پایا اور اپنے قبضے میں لے لیا۔ کسی سنگدل نے بچی کی گردن کو مضبوطی سے کپڑے میں جکڑ رکھا تھا اور عریاں جسم کو پانی سے گیلے کپڑے میں باندھ رکھا تھا تاکہ وہ سردی سے مر جائے۔ مگر وہ زندہ تھی۔ بچی بہت خوبصورت ہے۔ آنکھیں نیلی ہیں۔ اس کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے