سبز سینڈل

سبز سینڈل

’’آپ سے اب میرا نباہ بہت مشکل ہے۔ مجھے طلاق دے دیجیے‘‘

’’لاحول ولا کیسی باتیں منہ سے نکال رہی ہو۔ تم میں سب سے بڑا عیب ایک یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً تم پر ایسے دورے پڑتے ہیں کہ ہوش و حواس کھو دیتی ہو‘‘

’’آپ تو بڑے ہوش و حواس کے مالک ہیں۔ چوبیس گھنٹے شراب کے نشے میں دُھت رہتے ہیں‘‘

’’میں شراب ضرور پیتا ہوں لیکن تمہاری طرح بِن پئے مدہوش نہیں رہتا۔ واہی تباہی نہیں بکتا۔ ‘‘

’’گویا میں واہی تباہی بک رہی تھی‘‘

’’یہ میں نے کب کہا۔ لیکن تم خود سوچو یہ طلاق لینا کیا ہے‘‘

’’بس میں لینا چاہتی ہوں۔ جس خاوند کو اپنی بیوی کا ذرا بھر خیال نہ ہو اس سے طلاق نہ مانگی جائے تو اور کیا مانگا جائے؟‘‘

’’تم طلاق کے علاوہ اور سب چیزیں مجھ سے مانگ سکتی ہو‘‘

’’آپ مجھے دے ہی کیا سکتے ہیں؟‘‘

’’یہ ایک نیا الزام تم نے مجھ پر دھرا۔ تمہاری ایسی خوش نصیب عورت اور کون ہو گی۔ گھر میں۔ ‘‘

’’لعنت ہے ایسی خوش نصیبی پر‘‘

’’اس پر لعنت نہ بھیجو۔ معلوم نہیں تم کس بات پر ناراض ہو۔ لیکن میں تمھیں خلوصِ دل سے یقین دلاتا ہوں کہ مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے‘‘

’’خدا مجھے اس محبت سے پناہ دے‘‘

’’اچھا۔ چھوڑو ان جلی کٹی باتوں کو۔ بتاؤ، بچیاں اسکول چلی گئیں‘‘

’’آپ کو ان سے کیا دلچسپی ہے۔ اسکول جائیں یا جہنم میں۔ میں تو دُعا کرتی ہوں مر جائیں۔ ‘‘

’’کسی روز تمہاری زبان مجھے جلتے چمٹے سے باہر کھینچنا پڑے گی۔ شرم نہیں آتی کہ اپنی اولاد کے لیے ایسی بکواس کر رہی ہو۔ ‘‘

’’میں نے کہا میرے ساتھ ایسی بد کلامی نہ کیجیے۔ شرم آپ کو آنی چاہیے کہ ایک عورت سے جو آپ کی بیوی ہے اور جس کا احترام آپ پر فرض ہے اس سے آپ بازاری انداز میں گفتگو کررہے ہیں۔ اصل میں یہ سب آپ کی بُری سُوسائٹی کا قصور ہے‘‘

’’اور جو تمہارے دماغ میں خلل ہے اُس کی وجہ کیا ہے؟‘‘

’’آپ اور کون؟‘‘

’’قصور وار ہمیشہ مجھے ہی ٹھہراتی ہو۔ سمجھ میں نہیں آتا تمھیں کیا ہو گیا ہے۔ ‘‘

’’مجھے کیا ہوا ہے۔ جو ہوا ہے صرف آپ کو ہوا ہے۔ ہر وقت میرے سر پر سوار رہتے ہیں۔ میں آپ سے کہہ چکی ہوں۔ مجھے طلاق دے دیجیے۔ ‘‘

’’کیا دوسری شادی کرنے کا ارادہ ہے۔ مجھ سے اُکتا گئی ہو‘‘

’’تھو ہے آپ پر۔ مجھے کوئی ایسی ویسی عورت سمجھا ہے۔ ‘‘

’’طلاق لے کر کیا کرو گی؟‘‘

’’جہاں سینگ سمائے چلی جاؤں گی۔ محنت مزدوری کروں گی اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالوں گی‘‘

’’تم محنت مزدوری کیسے کر سکو گی۔ صبح نو بجے اٹھتی ہو۔ ناشتہ کر کے پھر لیٹ جاتی ہو۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد کم از کم تین گھنٹے سوتی ہو۔ خود کو دھوکا تو نہ دو‘‘

’’جی ہاں، میں تو ہر وقت سوئی رہتی ہوں۔ آپ ہیں کہ ہر وقت جاگتے رہتے ہیں۔ ابھی کل آپ کے دفتر سے ایک آدمی آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ہمارے افسر صاحب کو جب دیکھو میز پر سر رکھے انٹا غفیل ہوتے ہیں‘‘

’’وہ کون تھا اُلو کا پٹھا‘‘

’’آپ اپنی زُبان درست کیجیے‘‘

’’بھئی مجھے تاؤ آگیا تھا۔ غصے میں آدمی کو اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا‘‘

’’مجھے آپ پر اتنا غصہ آرہا ہے لیکن میں نے ایسا کوئی غیر مہذب لفظ استعمال نہیں کیا۔ انسان کو ہمیشہ دائرہ ءِ تہذیب میں رہنا چاہیے۔ مگر یہ سب آپ کی بری سوسائٹی کی وجہ ہے جو آپ ایسے الفاظ اپنی گفتگو میں استعمال کرتے ہیں‘‘

’’میں تم سے پوچھتا ہوں، میری بُری سُوسائٹی کون سی ہے‘‘

’’وہ کون ہے جو خود کو کپڑے کا بہت بڑا تاجر کہتا ہے۔ اُس کے کپڑے آپ نے کبھی ملاحظہ کیے۔ بڑے ادنیٰ قسم کے اور وہ بھی میلے چکٹ۔ یوں تو وہ بی اے ہے، لیکن اس کی عادات و اطوار اٹھنا بیٹھنا ایسا واہیات ہے کہ گھن آتی ہے‘‘

’’وہ مرد مجذوب ہے‘‘

’’یہ کیا بلا ہوتی ہے‘‘

’’تم نہیں سمجھو گی۔ مجھے بیکار وقت ضائع کرنا پڑے گا‘‘

’’آپ کا وقت بڑا قیمتی ہے۔ ہمیشہ ایک بات کرنے پر بھی ضائع ہو جاتا ہے‘‘

’’تم اصل میں کہنا کیا چاہتی ہو‘‘

’’میں کچھ کہنا نہیں چاہتی۔ جو کہنا تھا، کہہ دیا۔ بس مجھے طلاق دے دیجیے تاکہ میری جان چھٹے۔ ان ہر روز کے جھگڑوں سے میری زندگی اجیرن ہو گئی ہے‘‘

’’تمہاری زندگی تو محبت سے بھرے ہوئے ایک کلمے سے بھی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اس کا کیا علاج ہے؟‘‘

’’اس کا علاج صرف طلاق ہے‘‘

’’تو بُلاؤ کسی مولوی کو۔ تمہاری اگر یہی خواہش ہے تو میں انکار نہیں کروں گا۔ ‘‘

’’میں کہاں سے بُلاؤں مولوی کو‘‘

’’بھئی طلاق تم چاہتی ہو۔ اگر مجھے لینا ہوتی تو میں دس مولوی چٹکیوں میں پیدا کر لیتا۔ مجھ سے تم کو اس سلسلے میں کسی مدد کی توقع نہیں کرنی چاہیے تم جانو، تمہارا کام جانے‘‘

’’آپ میرے لیے اتنا کام بھی نہیں کرسکتے‘‘

’’جی نہیں‘‘

’’آپ تو اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ آپ کو مجھ سے بے پناہ محبت ہے‘‘

’’درست ہے۔ رفاقت کی حد تک۔ مفارقت کے لیے نہیں‘‘

’’تو میں کیا کروں‘‘

’’جو جی میں آئے کرو۔ اور دیکھو مجھے اب زیادہ تنگ نہ کرو۔ کسی مولوی کو بلوا لو۔ وہ طلاق نامہ لکھ دے میں اس پردستخط کر دُوں گا۔ ‘‘

’’حق مہر کا کیا ہو گا؟‘‘

’’طلاق چونکہ تم خود طلب کر رہی ہو اس لیے اس کے مطالبے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘

’’واہ جی واہ‘‘

’’تمہارے بھائی بیرسٹر ہیں۔ ان کو خط لکھ کر پوچھ لو۔ جب عورت طلاق چاہے تو وہ اپنا حق مہر طلب نہیں کرسکتی‘‘

’’تو ایسا کیجیے کہ آپ مجھے طلاق دے دیں‘‘

’’میں ایسی بے وقوفی کیوں کرنے لگا۔ مجھے تو تم سے پیار ہے‘‘

’’آپ کے یہ چونچلے مجھے پسند نہیں۔ پیار ہوتا تو مجھ سے ایسا سلوک کرتے؟‘‘

’’تم سے میں نے کیا بد سلوکی کی ہے‘‘

’’جیسے آپ جانتے ہی نہیں۔ ابھی پرسوں کی بات ہے آپ نے میری نئی ساڑھی سے اپنے جوتے صاف کیے‘‘

’’خدا کی قسم نہیں‘‘

’’تو اور کیا فرشتوں نے کیے تھے‘‘

’’میں اتنا جانتا ہوں کہ آپ کی تینوں بچیاں اپنے جوتوں کی گرد آپ کی ساڑھی سے جھاڑ رہی تھیں۔ میں نے ان کو ڈانٹا بھی تھا‘‘

’’وہ ایسی بد تمیز نہیں ہیں‘‘

’’کافی بد تمیز ہیں۔ اس لیے کہ تم ان کو صحیح تربیت نہیں دیتی ہو۔ اسکول سے واپس آئیں تو اُن سے پوچھ لینا کہ وہ ساڑھی کا ناجائز استعمال کر رہی تھیں یا کہ نہیں‘‘

’’مجھے ان سے کچھ پوچھنا نہیں ہے‘‘

’’تمہارے دماغ کو آج معلوم نہیں کیا ہو گیا ہے۔ اصل وجہ معلوم ہو جائے تو میں کوئی نتیجہ قائم کر سکوں۔ ‘‘

’’آپ نتیجے قائم کرتے رہیں گے لیکن میں اپنا نتیجہ قائم کر چکی ہوں۔ بس آپ مجھے طلاق دے دیجیے۔ جس خاوند کو اپنی بیوی کا مطلقاً خیال نہ ہو اس کے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ ٗ‘

’’میں نے ہمیشہ تمہارا خیال رکھا ہے‘‘

’’آپ کو معلوم ہے کل عید ہے‘‘

’’معلوم ہے۔ کیوں؟۔ کل ہی تو میں بچیوں کے لیے بُوٹ لایا ہوں اور ان کے فراکوں کے لیے میں نے آج سے آٹھ روز پہلے تمھیں ساٹھ روپے دیے تھے‘‘

’’یہ روپے دے کر آپ نے بڑا میرے باپ پر احسان کیا‘‘

’’احسان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بات کیا ہے‘‘

’’بات یہ ہے کہ ساٹھ روپے کم تھے۔ تین بچوں کے لیے آرکنڈی چالیس روپے میں آئی۔ فی فراک درزی نے سات روپے لیے۔ بتائیے آپ نے مجھ پر اور ان بچیوں پر کون سا کرم کیا‘‘

’’باقی روپے تم نے ادا کر دیے‘‘

’’ادا نہ کرتی تو فراک سلتے کیسے؟‘‘

’’تو یہ روپے مجھ سے ابھی لے لو۔ میرا خیال ہے ساری ناراضی اسی بات کی تھی‘‘

’’میں کہتی ہوں کل عید ہے‘‘

’’ہاں ہاں! مجھے معلوم ہے۔ میں دو مُرغ منگوا رہا ہوں۔ اس کے علاوہ سویاں بھی۔ تم نے بھی کچھ انتظام کیا؟‘‘

’’میں خاک انتظام کروں گی‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’میں چاہتی تھی کل سبز ساڑھی پہنوں۔ سبز سینڈل کے لیے آرڈر دے آئی تھی، آپ سے کئی مرتبہ کہا کہ جائیے اور چینیوں کی دکان سے دریافت کیجیے کہ وہ سینڈل ابھی تک بنے ہیں یا نہیں۔ مگر آپ کو مجھ سے کوئی دلچسپی ہو تو آپ وہاں جاتے‘‘

’’لاحول ولا۔ یہ جھگڑا سارا سبز سینڈل کا تھا؟۔ جناب آپ کے یہ سینڈل میں پرسوں ہی لے آیا تھا۔ آپ کی الماری میں پڑے ہیں۔ آپ تو سارا وقت سوئی رہتی ہیں۔ آپ نے الماری کھولی ہی نہیں ہو گی۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے