صبر , گریہ , نہ یوں اچھال مرا

صبر , گریہ , نہ یوں اچھال مرا
آسماں کچھ تو کر خیال مرا

دیکھتے کیوں نہیں مری آنکھیں
پوچھتے کیوں ہو, مجھ سے حال مرا

کاش تُو مجھ کو یاد رکھ پائے
کاش اک شعر ہو کمال مرا

بےسبب تو نہیں اذیت دے
بے سبب تو کہا نہ ٹال مرا

مت سنا پیڑ سوکھ جائیں گے
دوست قصہ ء پائمال مرا

نیند کو خواب سے الجھنے تک
بدنگاہی غبار پال مرا

لوگ من کی مراد پاتے ہیں
رد ہوا تھا جہاں سوال مرا

اس حسیں وہم کے بھی کیا کہنے
یاد کرتا ہے خوش جمال مرا

جن کے در کا گدا ہوں میں ارشاد
دھیان رکھتی ہے ان کی آل مرا

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے