ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

 ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
عاصم واسطی پیشے کے اعتبار سے نامور ڈاکٹرہیں شعر گوئی کا ہنر اپنے ماحول سے کشید کیابچپن سے شعر وادب کی خوشبو گھر میں والدمحترم کی دجہ سے پھیلی ہوئی تھی ادب کے بڑے بڑے ناموںکی قربت اورشفقت بچپن سے ہی ملی۔والد پروفیسر صلاح الدین شوکت واسطی نے انگلی پکڑکر ادب کے راستےsabhat wasti پر بھی چلنا سکھا دیا۔عاصم واسطی انگلستان گئے تو اپنی توجہ کا مرکز تعلیم کو بنا لیاطویل عرصہ انگلستان میں ہی مقیم رہے تعلیم مکمل کرتے ہی شعروشاعری نے پھراپنی طرف متوجہ کر لیاشاعری نے فضاؤں کو سازگاز پایا تو کرن کرن اندھیرا،آگ کی صلیب اورترا احسان غزل ہے نامی تین شعری مجموعوں میں اتر آئی۔ عاصم واسطی دو ڈھائی سال سے ابوظبی کے ایک سرکار ی ہسپتال میں کنسلٹینٹ کی حیثیت سے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔اور شاعری کی طرف بھی پوری توجہ دے رہے ہیں میرے ہاتھوں میں اس وقت ان کا شعری مجموعہ تر ا احسان غزل ہے موجود ہے کتاب کانام انھوں اپنے ہی ایک شعر سے لیا ہے
مجھ پر ہیں کئی اور عنایات بھی لیکن
الہام کے مالک ترا احسان غزل ہے
کرن کرن اندھیرا اور آگ کی صلیب کے بعد کتاب کا نام ترا احسان غزل ہے جیسارکھنے کا مطلب صاف نظر آرہا ہے کہ طبیعت کی بے چینی اور ناآسودگی جو ناپسندیدہ سماجی ماحول کی گھٹن سے پیدا ہوتی ہے وہ گھٹن اور بے چینی شاعری نے اپنے اندر کہیں جذب کر لی فکرو آگہی کے نئے در یچے کھل گئے ہیں اور شاعر جان چکا ہے کہ جو کچھ بھی ہے اسی کی عطا ہے عاصم واسطی بے ساختہ کہتے ہیں الہام کے مالک ترا احسان غزل ہے ان کے شعروں پر نظرڈالیں تو کلام میں سادگی و پر کاری کا انداز نمایا ں ہے
گو سخاوت ہے یہاں شیوہِ اہل ثروت
کس رعونت سے مگر کیسۂ زر کھولتے ہیں
مجھے لگتا ہے عاصم واسطی کے موضوعات زندگی سے جڑے ہوئے ہیں زندگی جو امتحان ہے زندگی جو انسان کی پہچان ہے ایک حساس دل سامنے نظر آنے والے مناظر کو اپنے انداز میں دیکھنے کا عادی ہوتا ہے عاصم واسطی کو اپنے فن پر اعتماد ہے اور اپنے نئے پن پر ناز وہ کہتے ہیں
تب یقیں آئے گا خود اپنے نئے پن کا مجھے
جب مرے وقت کا ناقد مجھے رد کردے گا
اپنے قلم پر اعتمادہی لکھنے والوں کا اثاثہ ہوتا ہے وہ بے فکری سے منزل پر نظریں جمائے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اپنے تاثرات اور اپنی سوچ اپنے انداز میں قلم بند کرکے تسکین حاصل کرتے ہیں
سوؤں بھی تو رہتا کوئی بیدار ہے مجھ میں
اک خوف زدہ شخص گرفتار ہے مجھ میں
آج کے سفاک دور میں یہ جو ہم ہنستے بولتے نظر آتے ہیں یہ زندگی کاظاہری رخ ہے ۔خوف کے سائے اندر تک ہمیں گھیرے ہوئے ہیں دنیا تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف بھاگتی دوڑتی نظر آتی ہے لمحے بھر میں بارود انسان کو کھاجاتا ہے آنے والی نسلوں کو ڈر اور خوف کی فضائیں دی جا رہی ہیں بے حسی عام ہو رہی ہے ایسے میں حساس دل تڑپ جاتے ہیں
میں کیا بتاؤں کہ برتے ہیں کیا کڑے موسم
شدید کرب سے گذرا ہوں سنگ ہونے تک
عشق کے موضوع پر عاصم واسطی کے اشعار ا پنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔یہ بھی اچھا ہے کہ شاعری میں ایسے موضوعات باقی رہیں ۔ورنہ شاعری صرف آج کے دور کی تلخیوں کا نوحہ بن کر رہ جائے گی ۔زندگی میں امنگ اور ترنگ کو قائم رکھنا ضروری ہے۔
بات کر فرہاد سے بھی انتہائے عشق پر
مشورہ مجھ سے بھی کرکچھ تجربہ میرا بھی ہے
ہم نے کیا ہے عشق بڑے اعتماد سے
ہم نے کبھی نہیں یہ کہا،جان پر بنی
ایک ہی شخص نے بس عشق نبھایا عاصم
کوہ کن کوئی ہوا ہی نہیں فرہاد کے بعد
عشق تو کب کا موتی بن کر تاج وفامیں سج بھی چکا
ڈھونڈنے والوں کو سمجھاؤ صرف گھڑا ہے پانی میں
زندگی کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ مادی زندگی نظروں کو خیرہ کرتے ہوئے زیادہ اہم اور ضروری ہوتی جا رہی ہے۔محبت کے ریشم سے لمحے ہاتھوں سے نکلتے جا رہے ہیں
زندگی نے ہمیں فرصت ہی نہیں دی ورنہ
سامنے تجھ کو بٹھا ،بیٹھ کے دیکھا کرتے
وہ خود ملنے نہیں آیا تو اس کے گھر گیا میں
حدیں معلوم تھیں لیکن تجاوز کر گیا میں
محبت سے ضرورت کچھ زیادہ کھینچتی ہے
اسے گھر پر اکیلا چھوڑ کر دفتر گیا میں
میرے چاروں طرف نفرت کا پہرہ لگ چکا ہے
مگر پھر بھی کسی صورت محبت کر گیا میں
کہیں کہیں عاصم واسطی نے قلم کی نوک پر الفاظ سے رقص کرایا ہے لفظ غنائی توازن میں ڈھل جائیں تو عجب مزہ دیتے ہیں
کہیں جب ذکر آتا ہے تمہارا میرے شعروں میں
قلم کی نوک پر الفاظ سارے رقص کرتے ہیں
مجھے تقدیر نے لا کر جہاں تم سے ملایا تھا
وہاں اب بھی مقدر کے ستارے رقص کرتے ہیں
تمہارے حسن کا ہوتا ہے جب بھی تذکرہ جاناں
مثالیں جھومتی ہیں استعارے رقص کرتے ہیں
ہمیں جو شعر گوئی کی توفیق ملی۔قلم کی روشنائی سے روشنی بکھیرنے کا ہنر عطا ہوا اپنے تخلیقی کام کرتے ہوئے عاصم واسطی کا دھیان اسی مالک و خالق کی طرف لوٹ جاتا ہے جو ہر شے پر قادر ہے۔
تمام باغ کی تخلیق ہے ہنر اس کا
اسی نے پھول بنایا ہے خار اس کا ہے
اس قدر اپنے خدا پہ ہے بھروسہ مجھ کو
جب ضرورت کوئی ہوگی تو مدد کر دے گا
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔میں ڈاکٹر عاصم واسطی کو ان کے نئے مجموعۂ کلام کی اشاعت پر مبارک باد دیتی ہوں
غزل
دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک
نظر میں اس نے رکھے میرے گھر کے کونے تک
میں کیا بتاؤں کہ بیتے ہیں کیا کڑے موسم
شدید کرب سے گذرا ہوں سنگ ہونے تک
وہ روشنی کی طرح تیز تیز چلتا ہے
گزر نہ جائے کہیں آنکھ میں سمونے تک
کوئی کرے گا نہیں دیکھ بھال پھولوں کی
سب اہتمام ِ بہاراں ہے بیج بونے تک
تباہ تو نہیں کرتا تمام نیند مری
مجھے یہ درد جگاتا ہے صرف سونے تک
کہاں وہ مسلک پاکیزگی رہا عاصم
ہے اب تو مشقِ وضو دست و پا کو دھونے تک
صبیحہ صبا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے