سب سمجھ کر بھی زیادہ نہ سمجھ

سب سمجھ کر بھی زیادہ نہ سمجھ
دلِ سادہ اُسے سادہ نہ سمجھ
اُس کی دو دن کی رفاقت کو ابھی
ساتھ چلنے کا ارادہ نہ سمجھ
وسعتیں دل میں ہوا کرتی ہیں
ہر کھلے گھر کو کشادہ نہ سمجھ
ایسی دو دن کی شناسائی کو
کچھ ضرورت سے زیادہ نہ سمجھ
ساقیا ، پاسِ تعلق کو مِرے
کششِ ساغر و بادہ نہ سمجھ
صورتِ ریگِ رواں ہے دنیا
نقشِ پا کو یہاں جادہ نہ سمجھ
جس نے کچھ دن تجھے پہنا تھا سعید
خود کو اُس بُت کا لِبادہ نہ سمجھ
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے