Saaz E Faqeerana

نظم
از مجید امجد

سازِ فقیرانہ

گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا
نہ مل کے خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا

فقیر ہیں، دو فقیرانہ ساز رکھتے ہیں
ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا

ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام
زمانے بھر سے ہے کم دِل کا ایک کونا کیا

نظامِ دہر کو تیورا کے کس لئے دیکھیں
جو خود ہی ڈوب رہا ہو اسے ڈبونا کیا

بساطِ سیل پہ قصرِ حباب کی تعمیر
یہ زندگی ہے تو پھر ہونا کیا، نہ ہونا کیا

نہ رو کہ ہیں ترے ہی اشک ماہ و مہر امجد
جہاں کو رکھنا ہے تاریک اگر تو رونا کیا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے