سارے تحفے نئے دیئے اُس نے

سارے تحفے نئے دیئے اُس نے
زخم چن کر مجھے دیئے اُس نے
آنکھ کو آنسوءوں کی رونق دی
دشت کو قافلے دیئے اُس نے
ایک منزل نہ دے سکا لیکن
اَن گنت راستے دیئے اس نے
مجھ کو دنیا پہ حکمرانی دی
اور پھر ضابطے دیئے اس نے
ہر سمند ر سے دُور اِ ک صحرا
پیاس کو فاصلے دیئے اُس نے
زندگی کی پہلی الجھا کر
سوچ کو زاویے دیئے اُس نے
شاذ تنہائی چھین کر میری
رشتوں کے دائرے دیئے اُس نے
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے