سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے

سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے
رات گئے جب کوئی دریچہ کھلتا ہے
خواب کے جھونکے آنکھوں سے ٹکراتے ہیں
نفس نفس اک شعلہ سا لہراتا ہے
ہاتھ دعاؤں سے خالی ہو جاتے ہیں
آنکھوں میں سنّاٹا سا بھر جاتا ہے
سُرخ گلاب، چنبیلی اور تری خوشبو
دھیان میں ایک انوکھے گھر کا نقشہ ہے
پیڑوں کی شاخوں میں چڑیا کھو جائے
ہَرے بھرے موسم کا نشہ ایسا ہے
پورے چاند کا جادو اُس کی آنکھوں میں
آدھی رات کا دِ یا ہَوا سے کہتا ہے
خاور اُس کے لہجے کی سرگوشی بھی
برف کو جیسے کوئی آگ دِکھاتا ہے
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے