سانسوں میں اک شور بپا ہے

سانسوں میں اک شور بپا ہے
کوئی من میں بول رہا ہے
رات گئے کچھ آس بندھی ہے
دور کہیں اک دیپ جلا ہے
گلشن گلشن پھول کھلے ہیں
لیکن اس کی بات جدا ہے
پریم سفر میں میرے ہمدم
ایک سمندر، ایک گھڑا ہے
اس فرقت کے زور کے آگے
کوئی کب تک ٹھہر سکا ہے
میری آنکھیں دیکھ رہے ہو؟
یہ الفت کا خمیازہ ہے
دیکھ لو ساجن تم نہیں آئے
پورا ساون بیت چکا ہے
میں کوئل ہوں پریم نگر کی
اور مری آواز جدا ہے
میرے سپنے گروی رکھ لو
ضبط کا بندھن ٹوٹ رہا ہے
سیدہ فرح شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے