سانس لیتا وہ سمندر موت کا تھا

سانس لیتا وہ سمندر موت کا تھا
ڈوبتے سورج میں منظر موت کا تھا
بین کرتی تھیں مری تنہائیاں بھی
میں جہاں رہتا تھا وہ گھر موت کا تھا
کائناتیں مجھ میں گُم ہونے لگی تھیں
ایک سناٹا سا اندر موت کا تھا
پی لیا تھا زہر رس اُس سیپ نے بھی
پیٹ میں اب اس کے گوہر موت کا تھا
زندگی جس پر سکوں سے سو رہی تھی
مجھ کو حیرت ہے وہ بستر موت کا تھا
شاذؔ کیا بنتا کسی کی زندگی میں
جو ملا مجھ کو مقدر موت کا تھا
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے