ساعتِ صبر کرم لگتی ہے

ساعتِ صبر کرم لگتی ہے
اپنی غربت کا بھرم لگتی ہے

دکھ نہیں رزق کے کم ہونے کا
شکر ہے بھوک بھی کم لگتی ہے

ہر تمنا نہیں پوری ہوتی
ہر ضرورت میں رقم لگتی ہے

دو قدم چلتا ہوں تھک جاتا ہوں
اب مجھے زندگی کم لگتی ہے

جو دعا پوری نہ ہو کعبہ میں
شمع محرابِ حرم لگتی ہے

ٹیس تحریر میں ڈھل جائے تو
حسنِ قرطاس و قلم لگتی ہے

جس گلی میں میرا بچپن گزرا
مثلِ گلزارِ ارم لگتی ہے

مجھ سے رکھتا ہے کدورت جو بھی
بات اس کو مری سم لگتی ہے

لوٹ چلتے ہیں عزائی واپس
دنیا مصروفِ ستم لگتی ہے

(اعجاز عزائی)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے