رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھا

رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھا
جب ہو گئے سبک تو یہ بار گراں اٹھا
معنی میں کر تلاش معاش دماغ و دل
حیواں صفت نہ لذت کام و دہاں اٹھا
گر خندہ یاد آئے تو سینہ کو چاک کر
گر غمزہ یاد آئے تو زخم سناں اٹھا
یا آنکھ اٹھا کے چشم فسوں ساز کو نہ دیکھ
یا عمر بھر مصائب دور زماں اٹھا
اس انجمن میں جائیے اب کس امید پر
ہم بیٹھنے نہ پائے کہ وہ بد گماں اٹھا
بے یاد دوست عمر گرامی نہ صرف کر
اس گنج شائگاں کو نہ یوں رائیگاں اٹھا
وصل و فراق وہم سہی دل لگی تو ہے
پھر ہم کہاں جو پردۂ راز نہاں اٹھا
پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں
کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا
اسماعیلؔ میرٹھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے