روز ابھرتے ہیں، روز ڈوبتے ہیں

روز ابھرتے ہیں، روز ڈوبتے ہیں
رات دن ہم یہ کس کو ڈھونڈتے ہیں
ہجر کیا، وصل کیا ہے، چاہت کیا
آپ کیوں بار بار پوچھتے ہیں
یہ محبت ہے، مصلحت ہے کہ وہم
آج اُن کو بُلا کے پوچھتے ہیں
دیکھ کر اک خیال پرور کو
کیسے کیسے خیال سُوجھتے ہیں
چاند ہے ، دُودھیا سمندر ہے
ریت پر ننگے پاؤں گھومتے ہیں
شاید اُن کا خیال آ جائے
آنکھ اِک ثانیے کو موندتے ہیں
اس طرح کون کس کو ڈھونڈتا ہے
جس طرح ہم کسی کو ڈھونڈتے ہیں
بے سبب دل میں درد اُترتا ہے
بے سبب لوگ ہم سے رُوٹھتے ہیں
کس قدر خود فریب ہیں ہم بھی
کیسے کیسے بتوں کو پوجتے ہیں
حالِ دل کیا کہیں کسی سے کہ اب
بات کیجے تو لفظ ٹوٹتے ہیں
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے