روز و شب یوں نہ اذیّت میں گزارے ہوتے

روز و شب یوں نہ اذیّت میں گزارے ہوتے
چین آ جاتا اگر کھیل کے ہارے ہوتے
خود سے فُرصت ہی میسّر نہیں آئ ورنہ
ہم کسی اور کے ہوتے تو تمہارے ہوتے
تجھ کو بھی غم نے اگر ٹھیک سے برتا ہوتا
تیرے چہرے پہ خد و خال ہمارے ہوتے
کُھل گئ ہم پہ محبت کی حقیقت ورنہ
یہ جو اب فائدے لگتے ہیں خسارے ہوتے
ایک بھی موج اگر میری حمایت کرتی
میں نے اُس پار کئ لوگ اُتارے ہوتے
لگ گئ اور کہیں عمر کی پُونجی ورنہ
زندگی ہم تری دہلیز پہ ہارے ہوتے
خرچ ہو جاتے اسی ایک محبت میں کبیر
دل اگر اور بھی سینے میں ہمارے ہوتے
ڈاکٹر کبیر اطہر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے