روز و شب اک ایک پل زخمِ جُدائی دیکھئے

روز و شب اک ایک پل زخمِ جُدائی دیکھئے
آرزو کے ساتھ دردِ نارسائی دیکھئے
وقت کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر یاد کا
دائرہ در دائرہ کاٹے گا کائی دیکھئے
میرا لہجہ ہے خزاں آثار، دل خاموش ہے
گلشنِ ہستی میں میری کم نوائی دیکھیئے
وہ اگر سورج ہے اُسکی دھوپ بن جاؤں گی میں
مجھ میں بھی یعنی وہی جلوہ نمائی دیکھئے
عشق کی جلوہ گری کے واسطے کم ہے یہ دہر
اک جہانِ تازہ کیا ساری خدائی دیکھیئے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے