روز آتی ھے اِک صدا مجھ میں

روز آتی ھے اِک صدا مجھ میں
کون رھتا ہے میں سِوا مجھ میں
کیوں یہ ھنگامہ ھے بپا مجھ میں
کیا کوئی خواب مر گیا مجھ میں
کیوں اُسے ڈھونڈوں آسماں کے پار
ہے یقیں رہ رھا خدا مجھ میں
سانس لیتا ھوں درد ھوتا ھے
کیا کوئی حادثہ ہوا مجھ میں
کرب کی آگ میں جلا ھے بدن
زندگی آ مجھے بچا مجھ میں
ماں نے روشن اِ سے کیا طارق
کیسے بجھ پائے گا دیا مجھ میں
طارق جاوید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے