رُوئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا

رُوئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا
بِن تیرے زندگی کے نشیب و فراز کیا
کتنی اداس شام ہے شامِ فراقِ یار
جانے گا کوئی رنجِ ستم ہائے راز کیا
بہتر ہے آئنے کے مقابل نہ آئیں ہم
تو جو نہیں تو خود سے بھی راز و نیاز کیا
تُو تو ہمارے شعر کے ظاہر پہ مر گیا
حُزن و ملال کیا تجھے سوز و گداز کیا
یہ شہرِ سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئنے
اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا
جس کو نہ تابِ دید ہو، اے حسنِ بدگماں
اس کو ادا و عِشوہ و غمزہ و ناز کیا
غافل نہیں ہیں دوست کبھی بندگی سے ہم
عشقِ حقیقی گر نہیں عشقِ مجاز کیا
حاکم ہیں سعدؔ ہم نہ کسی کے غلام ہیں
محمود ہو کوئی یا کوئی ہو ایاز، کیا
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے