روشنی

روشنی
آئی.سی.ایس پاس کر کے ہندوستان آیا تو مجھے ممالک متحدہ کے ایک کو ہستانی علاقے میں ایک سب ڈویژن کا چارج ملا۔ مجھے شکار کا بہت شوق تھا اور کوہستانی علاقے میں شکار کی کیا کمی۔ میری دلی مراد بر آئی۔ ایک پہاڑ کے دامن میں میرا بنگلہ تھا۔ بنگلے ہی پر کچہری کر لیا کرتا تھا۔ اگر کوئی شکایت تھی تو یہ کہ سو سائٹی نہ تھی ۔اسلیے سیر و شکار اور اخبارات و رسائل سے کمی کو پورا کیا کرتا تھا۔ امریکہ اور یوروپ کے کئی اخبار اور رسالے آتے تھے۔ ان کے مضامین کی شگفتگی اور جدت اور خیال آرائی کے مقابلے میں ہندوستانی اخبار اور رسالے بھلا کیا جچتے! سوچتا تھا وہ دن کب آئے گا کہ ہمارے یہاں بھی ایسے ہی شان دار رسالے نکلیں گے۔

بہار کا موسم تھا۔ پھاگن کا مہینہ۔ میں دورے پر نکلا اور لندھوار کے تھانے کا معائنہ کر کے گجن پور کے تھانے کو چلا۔ کوئی اٹھارہ میل کی مسافت تھی مگر منظر نہایت سہانا۔ دھوپ میں کسی قدر تیزی تھی مگر ناخوش گوار نہیں۔ ہوا میں بھینی خوشبو تھی۔ آم کے درختوں پر بور آگئے تھے اور کوئل کوکنے لگی تھی۔ کندھے پر بندوق رکھ لی تھی کہ کوئی شکار مل جائے تو لیتا چلوں کچھ اپنی حفاظت کا بھی خیال تھا۔ کیوں کہ ان دنوں جابجا ڈاکے پڑ رہے تھے۔ میں نے گھوڑے کی گردن سہلائی اور کہا۔ چلو بیٹا چلو۔ ڈھائی گھنٹے کی دوڑ ہے۔ شام ہوتے ہوتے گجن پور پہنچ جائیں گے اور ساتھ کے ملازم پہلے ہی روانہ کر دیے گئے تھے۔

جابجا کاشت کار کھیتوں میں کام کرتے نظر آتے تھے۔ ربیع کی فصل تیار ہو چلی تھی۔ اوکھ اور خربوزے کے لیے زمین تیار کی جا رہی تھی۔ ذرا ذرا سے مزرعے تھے۔ وہی باوا آدم کے زمانے کے بوسیدہ ہل، وہی افسوس ناک جہالت، وہی شرمناک نیم برہنگی، اس قوم کا خدا ہی حافظ ہے۔ گورنمنٹ لاکھوں روپے زراعتی اصلاحوں پر صرف کرتی ہے۔ نئی نئی تحقیقاتیں اور ایجادیں ہوتی ہیں۔ ڈائرکٹر، انسپکٹر سب موجود اور حالت میں کوئی اصلاح، کوئی تغیر نہیں۔ تعلیم کا طوفان بے تمیزی برپا ہے۔ یہاں مدرسوں میں کتے لوٹتے ہیں۔ جب مدرسے میں پہنچ جاتا ہوں تو مدرس کو کھاٹ پر نیم غنودگی کی حالت میں لیٹے پاتا ہوں۔ بڑی دوا دوش سے دس بیس لڑکے جوڑے جاتے ہیں۔

جس قوم پر جمود نے اس حد تک غلبہ کر لیا ہو اس کا مستقل انتہا درجہ مایوس کن ہے۔ اچھے اچھے تعلیم یافتہ آدمیوں کو سلف کی یاد میں آنسو بہاتے دیکھتا ہوں۔ مانا کہ ایشیا کے جزائر میں آرین مبلغوں نے مذہب کی روح پھونکی تھی۔ یہ بھی مان لیا کہ کسی زمانے میں آسٹریلیا بھی آرین تہذیب کا ممنون تھا۔ لیکن اس سلف پروری سے کیا حاصل۔ آج تو مغرب دنیا کا مشعل ہدایت ہے۔ ننھا سا انگلینڈ نصف کرۂ زمین پر حاوی ہے۔ اپنی صنعت و حرفت کی بدولت بے شک مغرب نے دنیا کو ایک نیا پیغام عمل عطا کیا ہے اور جس قوم میں اس پیغام پر عمل کرنے کی قوت نہیں ہے، اس کا مستقبل تاریک ہے۔ جہاں آج بھی نیم برہنہ گوشہ نشین فقیروں کی عظمت کے راگ الاپے جاتے ہیں۔ آج بھی شجرو حجر کی عبادت ہوتی ہے۔ جہاں آج بھی زندگی کے ہر ایک شعبے میں مذہب گھسا ہوا ہے۔ اس کی اگر یہ حالت ہے تو تعجب کا کوئی مقام نہیں۔ میں انہیں تصورات میں ڈوبا ہوا چلا جارہا تھا۔

دفعتاً ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا جسم میں لگا تو میں نے سر اوپر اٹھایا۔ مشرق کی جانب منظر گرد آلود ہو رہا تھا۔ افق گرد و غبار کے پردے میں چھپ گیا تھا، آندھی کی علامت تھی۔ میں نے گھوڑے کو تیز کیا لیکن لمحہ بہ لمحہ غبار کا پردہ وسیع اور بسیط ہوتا جاتا تھا اور میرا راستہ بھی مشرق ہی کی جانب تھا۔ گویا میں یکہ و تنہا طوفان کا مقابلہ کرنے دوڑا جارہا تھا۔ ہوا تیز ہو گئی۔ وہ پردہ غبار سر پر آپہنچا اور دفعتاً میں گرد کے سمندر میں ڈوب گیا۔ ہوا اتنی تند تھی کہ کئی بار میں گھوڑے سے گرتے گرتے بچا۔ وہ سرسراہٹ، اور گڑ گڑاہٹ تھی کہ الامان۔ گویا فطرت نے آندھی میں طوفان کی روح ڈال دی ہے۔ دس بیس ہزار تو پیں ایک ساتھ چھوٹتیں تب بھی اتنی ہولناک صدا نہ پیدا ہوتی۔ مارے گرد کے کچھ نہ سوجتا تھا یہاں تک کہ راستہ بھی نظر نہ آتا تھا۔ اف ایک قیامت تھی جس کی یاد سے آج بھی کلیجہ کانپ جاتا ہے۔ میں گھوڑے کی گردن سے چمٹ گیا اور اس کے ایالوں میں منہ چھپا لیا۔ سنگریزے گرد کے ساتھ اڑ کر منہ پر اس طرح لگتے تھےجیسے کوئی کنکریوں کو پچکاری میں بھر کر مار رہا ہو۔ ایک عجیب دہشت مجھ پر مسلط ہو گئی۔ کسی درخت کے اکھڑنے کی آواز کانوں میں آ جاتی تو پیٹ میں میری آنتیں تک سمٹ جاتیں ۔کہیں کوئی درخت پہاڑ سے میرے اوپر گرے تو یہیں رہ جاؤں۔ طوفان میں ہی بڑے بڑے تو دے بھی تو ٹوٹ جاتے ہیں کوئی ایسا تودہ لڑھکتا ہوا آجائے تو بس خاتمہ ہے۔ ہلنے کی بھی تو گنجائش نہیں۔ پہاڑی راستہ کچھ سو جھائی دیتا نہیں۔ ایک قدم داہنے بائیں ہو جاؤں تو ایک ہزار فٹ گہرے کھڈ میں پہنچ جاؤں۔ عجیب ہیجان میں مبتلا تھا۔ کہیں شام تک طوفان جاری رہا تو موت ہی ہے۔ رات کو کوئی درندہ آکر صفایا کردے گا۔ دل پر بے اختیار رقت کا غلبہ ہوا۔ موت بھی آئی تو اس حالت میں کہ لاش کا بھی پتا نہ چلے۔ افوہ! کتنی زور سے بجلی چمکی ہے کہ معلوم ہوا ایک نیزہ سینے کے اندر گھس گیا۔

دفعتاً جھن جھن کی آواز سن کر میں چونک پڑا۔ اس ارراہٹ میں بھی جھن جھن کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی جیسے کوئی سانڈنی دوڑی آرہی ہو۔ سانڈنی پر کوئی سوار تو ہو گا ہی مگر اسے راستہ کیوں سوجھ رہا ہے۔ کہیں سانڈنی ایک قدم بھی ادھر ادھر ہو جائے تو بچہ تحت الثریٰ میں پہنچ جائیں۔ کوئی زمین دار ہو گا مجھے دیکھ کر شاید پہچانے بھی نہیں، چہرے پر منوں گرد پڑی ہوئی ہے مگر ہے بلا کا ہمت والا۔

ایک لمحے میں جھن جھن کی آواز قریب آگئی۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک جوان عورت سر پر ایک کھانچی رکھے قدم بڑھاتی ہوئی چلی آرہی ہے۔ ایک گز کے فاصلے سے بھی اس کا صرف دھندلا سا عکس نظر آیا۔ وہ عورت ہو کر اکیلی مردانہ وار چلی جا رہی ہے۔ نہ آندھی کا خوف ہے نہ ٹوٹنے والے درختوں کا اندیشہ نہ چٹانوں کے گرنے کا غم۔ گویا یہ بھی کوئی روزمرہ کا معمولی واقعہ ہے۔ مجھے دل میں غیرت کا احساس کبھی اتنا شدید نہ ہوا تھا۔

میں نے جیب سے رومال نکال کر منہ پونچھا اور اس سے بولا،’’اوعورت! گجن پور یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘

میں نے پوچھا تو بلند لہجے میں مگر آواز دس گز نہ پہنچی۔ عورت نے کوئی جواب نہ دیا۔ شاید اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔ میں نے چیخ کر پکارا، ’’او عورت! ذرا ٹھہر جا۔ گجن پور یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘ عورت رک گئی۔ اس نے میرے قریب آکر، مجھے دیکھ کر، ذرا سر جھکا کر کہا، ’’کہاں جاؤگے؟‘‘

’’گجن پور کتنی دور ہے؟‘‘

’’چلے آؤ۔ آگے ہمارا گاؤں ہے اس کے بعد گجن پور ہے۔‘‘

’’تمہارا گاؤں کتنی دور ہے؟‘‘

’’وہ کیا آگے دکھائی دیتا ہے۔‘‘

’’تم اس آندھی میں کہیں رک کیوں نہیں گئیں؟‘‘

’’چھوٹے چھوٹے بچے گھر پر ہیں۔ کیسے رک جاتی۔ مرد تو بھگوان کے گھر چلا گیا۔‘‘ آندھی کا ایسا زبردست ریلا آیا کہ میں شاید دو تین قدم آگے کھسک گیا۔ گرد و غبار کی ایک دھونکنی سی منہ پر لگی۔ اس عورت کا کیا حشر ہوا مجھے خبر نہیں۔ میں پھر وہیں کھڑا رہ گیا۔ فلسفے نے کہا اس عورت کے لیے زندگی میں کیا راحت ہے۔ کوئی ٹوٹا پھوٹا جھونپڑا ہو گا، دوتین فاقہ کش بچے۔ بیکسی میں موت کا کیا غم۔ موت تو اسے باعث نجات ہو گی۔ میری حالت اور ہے۔ زندگی اپنی تمام دلفریبیوں اور رنگینیوں کے ساتھ میری ناز برداری کر رہی ہے۔ حوصلے ہیں، ارادے ہیں۔ میں اسے کیوں کر خطرے میں ڈال سکتا ہوں۔ میں نے پھر گھوڑے کے ایالوں میں منہ چھپا لیا۔ شتر مرغ کی طرح جو خطرے سے بچنے کی کوئی راہ نہ پا کر بالوں میں سر چھپا لیتا ہے۔

وہ آندھی کی آخری سانس تھی۔ اس کے بعد بتدریج زور کم ہونے لگا۔ یہاں تک کہ کوئی پندرہ منٹ میں مطلع صاف ہو گیا۔ نہ گردو غبار کا نشان تھا نہ ہوا کے جھونکوں کا۔ ہوا میں ایک فرحت بخش خنکی آگئی تھی۔ ابھی مشکل سے پانچ بجے ہوں گے۔ سامنے ایک پہاڑی تھی اس کے دامن میں ایک چھوٹا سا موضع تھا۔ میں جوں ہی اس گاؤں میں پہنچا۔ وہی عورت ایک بچے کو گود میں لیے میری طرف آرہی تھی مجھے دیکھ کر اس نے پوچھا، ’’تم کہاں رہ گئے تھے؟ میں ڈری کہ تم رستہ نہ بھول گئے ہو۔ تمہیں ڈھونڈنے جارہی تھی۔‘‘

میں نے اس کی انسانیت سے متاثر ہو کر کہا۔ ’’میں اس کے لیے تمہارا بہت ممنون ہوں۔ آندھی کا ایسا ریلا آیا کہ مجھے رستہ نہ سوجھا۔ میں وہیں کھڑا ہو گیا۔ یہی تمہارا گاؤں ہے؟ یہاں سے گجن پور کتنی دور ہو گا؟‘‘

’’بس کوئی دھاپ بھر سمجھ لو۔ راستہ بالکل سیدھا ہے کہیں داہنے بائیں مڑیو نہیں۔ سورج ڈوبتے ڈوبتے پہنچ جاؤ گے۔‘‘

’’یہی تمہارا بچہ ہے۔‘‘

’’نہیں ایک اور اس سے بڑا ہے جب آندھی آئی تو دونوں نمبردار کی چوپال میں جاکر بیٹھے تھے کہ جھونپڑیا کہیں اڑنہ جائے۔ جب سے آئی ہوں یہ میری گود سے نہیں اترتا۔ کہتا ہے تو پھر کہیں بھاگ جائے گی۔ بڑا شیطان ہے۔ لڑکوں میں کھیل رہا ہے۔ محنت مزدوری کرتی ہوں بابو جی! ان کو پالنا تو ہے اب میرے کون بیٹھا ہوا ہے جس پر ٹیک کروں۔ گھاس لے کر بیچنے گئی تھی۔ کہیں جاتی ہوں من ان بچوں میں لگا رہتا ہے۔‘‘

میرا دل اتنا اثر پذیر تو نہیں ہے، لیکن اس دہقان عورت کے بے لوث انداز گفتگو، اس کی سادگی اور جذبۂ مادری نے مجھ پر تسخیر کا سا عمل کیا اس کے حالات سے مجھے گو نہ دلچسپی ہو گئی۔ پوچھا، ’’تمہیں بیوہ ہوئے کتنے دن ہو گئے۔‘‘

عورت کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اپنے آنسوؤں کو چھپانے کے لیے بچے کے رخسار کو اپنی آنکھوں سے لگا کر بولی، ’’ابھی تو کل چھے مہینے ہوئے ہیں بابو جی۔ بھگوان کی مرضی میں آدمی کا کیا۔ بس بھلے چنگے ہل لے کر لوٹے، ایک لوٹا پانی پیا، قے ہوئی۔ بس آنکھیں بند ہو گئیں۔ نہ کچھ کہا نہ سنا۔ میں سمجھی تھکے ہیں، سو رہے ہیں۔ جب کھانا کھانے کو اٹھانے لگی تو بدن ٹھنڈا۔ تب سے بابو جی! گھاس چھیل کر پیٹ پالتی ہوں اور بچوں کو کھلاتی ہوں۔ کھیتی میرے مان کی نہ تھی۔ بیل بدھیے بیچ کر انہیں کے کریا کرم میں لگا دیے۔ بھگوان تمہارے ان دونوں گلاموں کو جلا دے میرے لیے یہی بہت ہیں۔‘‘

میں موقع اور محل سمجھتا ہوں اور نفسیات میں بھی دخل رکھتا ہوں لیکن اس وقت مجھ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں آب دیدہ ہو گیا اور جیب سے پانچ روپے نکال کر اس عورت کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا، ’’میری طرف سے یہ بچوں کے مٹھائی کھانے کے لیے لے لو، مجھے موقع ملا تو پھر کبھی آؤں گا۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے بچے کے رخساروں کو انگلی سے چھودیا۔

ماں ایک قدم پیچھے ہٹ کر بولی، ’’نہیں بابوجی، یہ رہنے دیجیے۔ میں غریب ہوں، لیکن بھکا رن نہیں ہوں۔‘‘

’’یہ بھیک نہیں ہے بچوں کی مٹھائی کھانے کے لیے ہے۔‘‘

’’نہیں بابوجی۔‘‘

’’مجھے اپنا بھائی سمجھ کر لے لو۔‘‘

’’نہیں بابوجی۔ جس سے بیاہ ہوا اس کی عزت تو میرے ہی ہاتھ ہے۔ بھگوان تمہارا بھلا کریں۔ اب چلے جاؤ۔ نہیں دیر ہو جائے گی۔‘‘

میں دل میں خفیف اتنا کبھی نہ ہوا تھا۔ جنھیں میں جاہل، کور باطن، بے خبر سمجھتا تھا اسی طبقے کی ایک معمولی عورت میں یہ خود داری، یہ فرض شناسی، یہ توکل! اپنے ضعف کے احساس سے میرا دل جیسے پامال ہو گیا۔ اگر تعلیم فی الاصل تہذیب نفس ہے اور محض اعلا ڈگریاں نہیں، تو یہ عورت تعلیم کی معراج پر پہنچی ہوئی ہے۔

میں نے نادم ہو کر نوٹ جیب میں رکھ لیا اور گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے پوچھا۔’’تمہیں اس آندھی میں ذرا سا ڈر نہ معلوم ہوتا تھا؟‘‘

عورت مسکرائی۔ ’’ڈر کس بات کا؟ بھگوان تو سبھی جگہ ہیں۔ اگر وہ مارنا چاہیں تو کیا یہاں نہیں مار سکتے؟ میرا آدمی تو گھر آکر بیٹھے بیٹھے چل دیا۔ آج وہ ہوتا تو تم اس طرح گجن پور اکیلے نہ جا تے۔ جاکر تمہیں پہنچا آتا۔ تھوڑی خدمت کرتا۔‘‘

گھوڑا اڑا۔ میرا دل اس سے زیادہ تیزی سے اڑ رہا تھا جیسے کوئی مفلس سونے کا ڈلا پاکر دل میں ایک طرح کی پرواز کا احساس کرتا ہے وہی حالت میری تھی۔ اس دہقان عورت نے مجھے وہ تعلیم دی جو فلسفہ اور مابعد الطبیعیات کے دفتروں سے بھی نہ حاصل ہوئی تھی۔ میں اس مفلس کی طرح اس سونے کے ڈلے کو گرہ میں باندھتا ہوا ایک غیر مترقبہ نعمت کے غرور سے مسرور، اس اندیشے سے خائف کہ کہیں یہ اثر دل سے مٹ نہ جائے، اڑا چلا جاتا تھا۔ بس یہی فکر تھی کہ اس پارۂ زر کو دل کے کسی گوشے میں چھپالوں جہاں کسی حریص کی اس پرنگاہ نہ پڑے۔

گجن پور ابھی پانچ میل سے کم نہ تھا۔راستہ نہایت پیچیدہ بیہڑ بے برگ وبار ۔ گھوڑے کو روکنا پڑا۔ تیزی میں جان کو خطرہ تھا۔آہستہ آہستہ سنبھلتا جاتا تھا کہ آسمان پر ابر گھر آیا۔ کچھ کچھ تو پہلے ہی سے چھایا ہوا تھا۔ پر اب اس نے ایک عجیب صورت اختیار کی۔ برق کی چمک اور رعد کی گرج شروع ہوئی۔ پھر افق مشرق کی طرف سے زرو رنگ کے ابر کی اس نئی تہ اس مٹیالے رنگ پر زرد لیپ کرتی ہوئی تیزی سے اوپر کی جانب دوڑتی نظر آئی۔ میں سمجھ گیا اولے ہیں۔ پھاگن کے مہینے میں اس رنگ کے بادل اور گرج کی یہ مہیب گڑ گڑاہٹ ژالہ باری کی علامت ہے۔ گھٹا سر پر بڑھتی چلی جاتی تھی ۔یکایک سامنے ایک کف دست میدان آگیا۔ جس کے پرلے سرے پر گنجن پور کے ٹھاکر دوارے کا کلس صاف نظر آرہا تھا۔ کہیں کسی درخت کی بھی آڑ نہ تھی لیکن میرے دل میں مطلق کمزوری نہ تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مجھ پر کسی کا سایہ ہے، جو مجھے ہر آفت، ہر گزند سے محفوظ رکھے گا۔

ابر کی زردی ہر لمحہ بڑھتی جاتی تھی۔ شاید گھوڑا اس خطرے کو سمجھ رہا تھا۔ وہ بار بار ہنہناتا تھا، اور اڑ کر خطرے سے باہر نکل جانا چاہتا تھا۔ میں نے بھی دیکھا راستہ صاف ہے۔ لگام ڈھیلی کردی۔ گھوڑا اڑا۔ میں اس کی تیزی کا لطف اٹھا رہا تھا ۔دل میں خوف کا مطلق احساس نہ تھا۔

ایک میل نکل گیاہوں گا کہ ایک رپٹ آپڑی۔ پہاڑی ندی تھی جس کے پیٹے میں کوئی پچاس گز لمبی رپٹ بنی ہوئی تھی۔ پانی کی ہلکی دھار رپٹ پر سے اب بھی بہہ رہی تھی۔ رپٹ کے دونوں طرف پانی جمع تھا۔ میں نے دیکھا ایک اندھا لاٹھی ٹیکتا ہوا رپٹ سے گزر رہا تھا۔ وہ رپٹ کے ایک کنارے سے اتنا قریب تھا میں ڈر رہا تھا کہیں گر نہ پڑے۔ اگر پانی میں گرا تو مشکل ہو گی۔ کیوں کہ وہاں پانی گہرا تھا۔ میں نے چلا کر کہا، بڈھے اور داہنے کو ہوجا۔‘‘

بڈھا چونکا اور گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز سن کر شاید ڈر گیا۔ داہنے تو نہیں ہوا اور بائیں طرف ہو لیا اور پھسل کر پانی میں گر پڑا۔ اسی وقت ایک ننھا سا اولا میرے سامنے گرا دونوں مصیبتیں ایک ساتھ نازل ہوئیں۔

ندی کے اس پار ایک مندر تھا۔ اس میں بیٹھنے کی جگہ کافی تھی ۔میں ایک منٹ میں وہاں پہنچ سکتا تھا لیکن یہ نیا عقدہ سامنے آگیا۔ کیا اس اندھے کو مرنے کے لیے چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگوں؟ حمیت نے اسے گوارانہ کیا ۔زیادہ پس و پیش کا موقع نہ تھا میں فوراً گھوڑے سے کودا۔ اور کئی اولے میرے چاروں طرف گرے۔ میں پانی میں کود پڑا۔ ہاتھی ڈبا و پانی تھا۔ رپٹ کے لیے جو بنیاد کھودی گئی تھی وہ ضرورت سے زیادہ چوڑی تھی۔ ٹھیکے دار نے دس فٹ چوڑی رپٹ تو بنا دی مگر کھدی ہوئی مٹی برابر نہ کی۔ بڈھا اسی گڈھے میں گرا تھا۔ میں ایک غوطہ کھا گیا لیکن تیر نا جانتا تھا کوئی اندیشہ نہ تھا۔ میں نے دوسری ڈبکی لگائی اور اندھے کو باہر نکالا۔ اتنی دیر میں وہ سیروں پانی پی چکا تھا۔ جسم بے جان ہو رہا تھا۔ میں اسے لیے بڑی مشکل سے باہر نکلا دیکھا تو گھوڑا بھاگ کر مندر میں جا پہنچا ہے۔ اس نیم جاں لاش کو لیے ہوئے ایک فرلانگ چلنا آسان نہ تھا۔ اوپر اولے تیزی سے گرنے لگے تھے۔ کبھی سر پر کبھی شانے پر کبھی پیٹھ میں گولی سی لگ جاتی تھی۔ میں تلملا اٹھا تھا لیکن اس لاش کو سینے سے لگائے مندر کی طرف لپکا جاتا تھا ۔میں اگر اس وقت اپنے دل کے جذبات بیان کروں تو شاید خیال ہو میں خواہ مخواہ تعلی کر رہا ہوں۔ اچھے کام کرنے میں ایک خاص مسرت ہوتی ہے مگر میری خوشی ایک دوسری ہی قسم کی تھی۔ وہ فاتحانہ مسرت تھی۔ میں نے اپنے اوپر فتح پائی تھی۔ آج سے پہلے غالباً میں اس اندھے کو پانی میں ڈوبتے دیکھ کر یا تو اپنی راہ چلا جاتا یا پولیس کو رپورٹ کرتا۔ خاص کر ایسی حالت میں جب کہ سر پر اولے پڑ رہے ہوں میں کبھی پانی میں نہ گھستا۔ ہر لحظہ خطرہ تھا کہ کوئی بڑا سا اولا سر پر گر کر عزیز جان کا خاتمہ نہ کردے مگر میں خوش تھا کیوں کہ آج میری زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز تھا۔

میں مندر میں پہنچا تو سارا جسم زخمی ہو رہا تھا۔ مجھے اپنی فکر نہ تھی۔ ایک زمانہ ہوا میں نے فوری امداد (فرسٹ ایڈ) کی مشق کی تھی وہ اس وقت کام آئی۔ میں نےآدھ گھنٹے میں اس اندھے کو اٹھا کر بٹھا دیا۔ اتنے میں دو آدمی اندھے کو ڈھونڈتے ہوئے مندر میں آپہنچے۔ مجھے اس کی تیمارداری سے نجات ملی۔ اولے نکل گئے تھے۔ میں نے گھوڑے کی پیٹھ ٹھونکی۔ رومال سے ساز کو صاف کیا اور گنجن پور چلا۔ بے خوف، بے خطر دل میں ایک غیبی طاقت محسوس کرتا ہوا۔ اسی وقت اندھے نے پوچھا، ’’تم کون ہو بھائی، مجھے تو کوئی مہاتما معلوم ہوتے ہو۔‘‘

میں نے کہا، ’’تمہارا خادم ہوں۔‘‘

’’تمہارے سر پر کسی دیوتا کا سایہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘

’’ہاں ایک دیوی کا سایہ ہے۔‘‘

’’وہ کون دیوی ہے؟‘‘

’’وہ دیوی پیچھے کے گاؤں میں رہتی ہے۔‘‘

’’تو کیا وہ عورت ہے؟‘‘

’’نہیں میرے لیے تو وہ دیوی ہے۔‘‘

منشی پریم چند

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے