فروری 5, 2023
icon urdu
ایک غزل از شہلا خان

روشنی والے وسیلے کی لگی رہتی ہے
بس اندھیرے کو مٹانے کی لگی رہتی ہے

وہ جو گوہر ہے سمندر میں اتر جاتا ہے
صرف سیپی کو کنارے کی لگی رہتی ہے

آنکھ والوں میں بصارت کی کمی ہے شاید
جب ہی اندھوں کو دکھاوے کی لگی رہتی ہے

پھر کسی نقش_کف_پا کو مٹانے کے لیے
راہ کو خاک اڑانے کی لگی رہتی ہے

زرد موسم میں گلابوں کی تمنا کر لی
جس طرح دھوپ میں سائے کی لگی رہتی ہے

خواب بنتی تھیں مگر آنکھوں کو اب شام ڈھلے
در کی،دستک کی، دریچے کی لگی رہتی ہے

دھوپ موسم میں برس جاتی ہے بارش اکثر
اسکو خوشیوں میں بھی رونے کی لگی رہتی ہے

پھر توجہ نہیں جاتی تری خفگی کی طرف
آنسوؤں کو ترے شانے کی لگی رہتی ہے

شہلا خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے