روشنی سے شبیں چراتی ہوں

روشنی سے شبیں چراتی ہوں
روز دکھ کے دئیے جلاتی ہوں
چاند چاہت کے لکھتی رہتی ہوں
خواہشیں لفظ سے بناتی ہوں
پاؤں دھرتی سے کھینچ لیتی ہوں
تارے آکاش سے بلاتی ہوں
عشق ہے شکوہ سنج ویسے بھی
میں کہاں تم کو آزماتی ہوں
پاگلوں کی طرح نہیں روتی
کھل کے آنسو مگر بہاتی ہوں
بات رہ جاتی ہے ادھوری سی
اس کے لہجے میں ڈوب جاتی ہوں
دھیرے دھیرے اترتی ہیں یادیں
دھیرے دھیرے مکاں سجاتی ہوں
گہری گہری سی کالی آنکھوں میں
اجلے سپنوں کو میں چھپاتی ہوں
جاگنے والے چاند کو نیناں
دور سے لوریاں سناتی ہوں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے