روشنی بھی سرِ افلاک مجھے ڈھونڈے گی

روشنی بھی سرِ افلاک مجھے ڈھونڈے گی
میں اگر خاک ہوا خاک مجھے ڈھونڈے گی
غرق ہو جاؤں گا میں اپنے ہی اشکوں میں اور
تُو پسِ دیدہ ء نمناک مجھے ڈھونڈے گی
اب تو یہ مہر ومہ و گُل ہیں گریزاں مجھ سے
میں نہ ہوں گا تو یہ املاک مجھے ڈھونڈے گی
پھول بن کر میں کھلوں گا کسی پتھر اندر
آگ مثلِ خس و خاشاک مجھے ڈھونڈے گی
جب کوئی اور بدن پورا نہیں آئے گا
مجھ سے بچھڑی ہوئی پوشاک مجھے ڈھونڈے گی
اُس جگہ میں نہیں ہوں گا مرا سایہ ہو گا
جس جگہ ساعتِ سفاک مجھے ڈھونڈے گی
میں کہ گنجینہ ء گُم گُشتہ ہوں اس کا ہی شاذ
جب بھی ہو گا اُسے ادراک مجھے ڈھونڈے گی
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے