روشن ستارہ

روشن ستارہ
بہت عرصے بعد کل کھلے آسمان کے نیچے سونے کا اتفاق ہوا .میں نے چشمہ اتار کر سائیڈ پر رکھا اور سونے کی ناکام کوشش کرنے لگی. لیکن یہ کیا نیند صاحبہ تو دور کھڑی مجھے منہ چڑا رہی تھیں. خیر میں پھر سے ناکام کوشش کرنے لگی .میری نظریں اب آسمان پر تھی، آسمان اور میرے درمیان حائل ہونے والی بہت سی تاریں مجھے پریشان کررہی تھیں. میں مسلسل آسمان کو تکتی رہی، اچانک سے میری نظر ایک ستارے پر پڑی جو جھل مل ، جھل مل اپنی چمک ظاہر کررہا تھا. میرے دل میں خیال آیا کہ کیا آسمان پر ایک ہی ستارا ہے، جو مجھے دکھائی دے رہا ہے.
اوہ!…. پھر یاد آیا میرا تو چشمے کے بغیر دور کی چیزوں کو دیکھنا نا ممکن سی بات ہے .میں نے چشمہ اٹھایا اور اسے اپنی ناک پر بٹھایا تو پتا چلا کہ اس چمکتے ستارے کے ارد گرد اور بھی بہت سے ستارے ہیں، جو مجھے بغیر چشمے کے دکھائی نہیں دے رہے تھے. مگر صرف وہ ایک ستارا جو مجھے بغیر چشمے کے بھی نظر آگیا، وہ اپنی مثال آپ تھا.انتہائی چمکدار خوبصورت سا لگ رہا تھا، اس میں ایسی کیا خاص بات تھی، جو اس کی چمک دوسروں سے بہت خاص تھی .میں اس ستارے کو بہت دیر تک تکتی رہی، اس میں عجیب سی کشش تھی، جس کی وجہ سے میری نظر اس ستارے پر ہی ٹکی ہوئی تھیں.
بھلا! یہ کیا بات ہوئی اک ستارہ ہی تو تھا. یہ بات بیان کرنا کون سی معقول بات ہے، لیکن یہ بات بیان کرنے کی خاص وجہ کہ ہے کہ اس ستارے کو دیکھ کر میرے ذہن میں ایک آیت رونما ہوئی.
"وُجُوْہٌ يَّوۡمَئِذٍ مُّسۡفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَة”۞( سورۃ عبس : 38,39)
ترجمہ:
"کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے، ہنستے خوشیاں کرتے.”
دراصل وجہ یہ تھی کہ وہ ستارہ مجھے اس قیامت کے دن کی یاد دلا گیا اور اس ستارے کی تشبیہہ ان لوگوں کی سی معلوم ہوئی، جن کو قیامت کے دن ان کے چہرے کی روشنی کی وجہ سے تمام لوگ دور سے پہچان لیں گے کہ یہ "جنتی” ہیں .
اسی طرح سورۃ آل عمران میں بھی اللہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ:
"يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ. وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَـضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِىۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡن”(سورۃ آل عمران :106,107)
ترجمہ:
"جس دن کہ سفید ہوں گے بعض منہ اور سیاہ ہوں گے بعضے منہ سو وہ لوگ کہ سیاہ ہوئے منہ ان کے، ان سے کہا جائے گا کیا تم کافر ہوگئے ایمان لا کر اب چکھو عذاب بدلہ اس کفر کرنے کااور وہ لوگ کہ سفید ہوئے منہ ان کے سو رحمت میں ہیں اللہ کی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے.”
یہ سب بتانے کا مقصد دراصل یہ تھا کہ دنیا میں رہ کر ہم ایسے کام کریں، جو اللہ کو پسند ہیں تاکہ اس دن ہم ایک چمکتے ستارے کی طرح نمایاں نظر آئیں اور دور سے دیکھ کر ہماری پہچان ہوجائے اور قیامت کے دن ہم سے اللہ خوش ہوجائے اور اللہ ہم سب سے راضی ہوجائے ، اپنے نیک بندوں میں ہمیں بھی جگہ دے.ان شاء اللہ
یہ تو تھی آخرت کی بات جو صرف اللہ سے جڑی تھی.. میں نے پہلے آخرت کو بیان کیا کیوں کہ ہم یہاں آخرت کی تیاری کرنے آئے ہیں. اب آتے ہیں دنیاوی کاموں اور لوگوں کی طرف. دنیا میں ہمیں ایسے کام بھی کرنے چاہیئیں، جو لوگوں سے جڑے ہوں، ایسے کام جس سے ہم لوگوں کے دلوں میں مرنے کے بعد بھی زندہ رہیں. کیوں کہ انسان کے مرنے کے بعد لوگ کچھ دن بعد مرنے والے شخص کو بھول جاتے ہیں اور تیزی سے اپنی زندگی کی جانب رواں دواں ہوجاتے ہیں، اسلیے ہمیں ایسے کام کرتے رہنے چاہیئیں، جس سے ہم بھی ایک روشن ستارے کی طرح الگ اور منفرد بن سکیں اور لوگوں کے دلوں ہمیشہ زندہ رہیں.
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
(میر تقی میر)
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو قرآن و حدیث کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سے راضی ہو آمین .
جزاکم اللہ خیرا کثیرا
سیدہ حفظہ احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

6 comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے