روح افزا

روح افزا
السلام علیکم
Good people of planet earth
کیا حال چال ہیں ؟
جناب والا ، کل بہت خوشی کا دن تھا ، آپکی اپنی ہر دلعزیز باجی فرزانہ رانی کا روح افزا آگیا بمعہ کچھ اور دیسی stuff .
اللہ سبحان و تعالی نے ایسا سبب بنایا کہ قریبی دیسی گروسری کے وئیر ہاوس اونر صاحب نے emails آرڈر لے کر گروسری ڈلیور کرنا شروع کر دی ۔
ہمیں جیسے ہی پتا چلا ، ہم نے دعا مانگنا شروع کر دی کہ یا اللہ !!!! یا رحمان و رحیم !!!! روح افزا ، دگڑ پھول، املی کا pulp , آلو بخارا، کیوڑہ اور پیپلی مل جائے ۔
خیر کچھ مل گیا کچھ نا ملا ۔
ہوا یوں کہ ہماری ڈراپ آف ونڈو کا وقت صبح آٹھ بجے سے دوپہر بارہ بجے تھا ۔ ہم ساڑھے سات بجے کسی چاک و چوبند سپاہی کی طرح ریڈی کھڑے تھے ۔ جیسے ہی کال آئے ، ہم باہر کھڑے ہو کر سیلوٹ ماریں اور اپنا سوہنا روح افزا ریسیوو کریں ۔
آٹھ سے 10 بجے پھر پونے بارہ ، سوا بارہ، ایک بج گیا ، ہم چاک و چوبند سپاہی سے آوازار چوکیدار لگنے لگے ۔ ہم بہت فکر مند ہو گئے کہ شاید سامان نا ملا ہو اس لئیے ڈلیوری نہیں آئی ۔ کریڈٹ کارڈ چیک کیا تو پیسے بھی نہیں لئیے گئے تھے ۔ بس قریب تھا کہ ہم انا للہ پڑھ لیتے ۔
ایک دن پہلے صاحب سے فرمائش کی تھی کہ اگر برا نا منائیں تو پنسلوینیا یا میری لینڈ سے جا کر کچھ سامان لے آتے ہیں ۔ صاحب نے پہلے تو ہمیں ان نظروں سے دیکھا ، جن نظروں سے عموما ماں باپ نا خلف ، چول اولاد کو دیکھتے ہیں ۔ نظریں کے تیر وہ بھی
Full of dissatisappoint
پھر کہنے لگے بی بی اپنا نہیں تو ان معصوم بچوں کا خیال ہی کر لو ۔ یہ بچے روح افزا کے بغیر جی لیں گے ، ماں کے بغیر کیا کریں گے ؟ بات میں لاجک تھی ۔
خیر 2 بجے کے قریب کال آئی کے باہر آ کر ڈلیوری لے لیں ۔ باہر گئے تو سردار جی خود تھے ، انہوں نے پیشگی رمضان مبارک کہا ۔جو چیزیں نہیں تھیں انکے بارے میں امید دلائی کہ پتا کر دیں گے ۔ سامان کے ڈبے رکھ کر ، کہنے لگے اک منٹ جی !!!!
ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ڈبہ اور نکال رہے ہیں ، ہم نے کہا سردار جی
This is not my stuff
کہنے لگے یہ تھوڑی سی تازہ میتھی، 5،6 کریلے آپکے حصے کے اور انڈین بینگن ہیں چھوٹے والے ۔ ہم نے کہا بہت شکریہ لسٹ دیکھی تو سبزی کے پیسے چارج نہیں کئیے ہوئے تھے ۔ انھیں کال کی ، کہ شاید بھول گئے ہوں!!!!
پھر ایک ٹیکسٹ آیا
دیدی رمضان کا تحفہ ہے ، مٹھائی مل نہیں سکی ، تو تھوڑی سی تازہ سبزی بانٹ دی ہے ۔ سب کے حصے میں تھوڑی تھوڑی آئی یے ۔
I was speechless truly !!!!
آپ یقین نہیں کریں گے کہ وہ ٹیکسٹ پڑھنے کے بعد ہمارا کیا حال ہوا ، رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔
ڈبے صاحب نے پیچھے patio پر لا کر رکھ دئیے
70% Rubbing alcohol, dish washing soap , sponge ، gloves
سارے ہتھیار وہاں ہم نے صبح سے ریڈی رکھے تھے ۔
کچن کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو بیٹی کا ٹیکسٹ آیا سارا سامان دھو کر رکھئے ، ڈبوں کو
Rubbing alcohol
سے صاف کیجئیے پھر ، گیراج میں جا کر کپڑے تبدیل کیجئیے ، ہاتھ منہ دھو کر کپڑے واشنگ مشین میں ڈالئیے ۔ تب اندر آنے کی اجازت ملے گی ۔
کوئی چار بجے کے قریب ہمیں ڈسپوزبل کپ میں کافی اور ایک سینڈوچ ملا ۔ لیکن اس سے پہلے صاحب کی گرج دار آواز آئی آنکھیں بند
Mask on
اور ساتھ ہی sanitizing spray
کی بوچھاڑ
ڈھن ڈھن ڈھن ڈھن ، شوں شووووووووں!!!!!!
ہم نے چیخ ماری اور کہا صاحب
R u trying to kill your wife with sanitizing spray !!!!
بیٹی کہنے لگی اماں ہم آپکے جراثیم مار رہے ہیں ۔
جناب والا!!!! شام پانچ بجے تک ہاتھ شل اور کمر دہری ہو گئی ۔ بچوں کے ابا کھڑکی کے پاس کھڑے تھے ، بڑی بیٹی انسپکشن کر رہی تھی ۔ اور چھوٹی بیٹی ، دعائیں مانگ مانگ کر بیٹے سے آمین کروا رہی تھی ۔
صاحب کو بیچ بیچ میں نے جوش چڑھتا تو آنکھیں بند اور
Mask on
کا نعرہ مستانہ و خونخارانہ لگا کر کھڑکی کھولتے اور ہم پر سپرے کر دیتے ۔
سارا کام ختم کر کے کپڑے بدل کر اندر آنے کی اجازت ملی ، ہم سوچ رہے تھے، کرونا صاحب کو تو ہو سکتا ہے ہم پر پیار نا آئے لیکن صاحب ہمیں سپرے مار مار کر ختم کر دیں گے ۔ ایک آدھ مرتبہ تو ایسے لگا کہ ہم پٹ سے گر جائیں گے جیسے مکھیاں سپرے کی زد میں آنے پر گرتی ہیں ۔
نا پوچھیں کس قدر تھک چکے ہیں ۔ کل بہت اعلی چنے بنائے تھے لیکن دماغی توازن
Sanitization
کی وجہ سے بگڑ چکا تھا اس لئیے فوٹو نہیں لے سکے ۔ آپ بس زبانی کلامی بنا ثبوت ہی مان جائیں ۔
دماغ اتنا آوٹ آف کنٹرول ہے ایسے لگ رہا ہے جیسے کل چنے چاول نہیں ، بلکہ چاولوں پر بھنگ ڈال کر کھائی ہو ۔
لیکن ہمارا روح افزا آچکا ہے 🥰🥰🥰
آج تک کسی نے روح افزا کے لئیے اتنی قربانی نہیں دی ہو گی ، جتنی ہم نے اپنی جان ، ہاتھ اور کمر پر کھیل کر دی ہے ۔
ف ع 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے