رونے کی آواز

رونے کی آواز
 
فلاور انڈر ٹری اِز فری
سامنے والی کرسی پر بیٹھا ابھی ابھی وہ گا رہا تھا۔ مگر اب کرسی کی سیٹ پر اس کے جسم کے دباؤ کا نشان ہی باقی ہے۔ کتنا اچھا گاتا ہے وہ۔۔۔ مجھے مغربی موسیقی اور شاعری سے کچھ ایسی دلچسپی تو نہیں ہے۔ مگر وہ کم بخت گاتا ہی کچھ اس طرح ہے کہ میں کھو سا جاتا ہوں۔ وہ گاتا رہا اور میں سوچتا رہا، ’’کیا پھول درخت کے سائے تلے واقعی آزاد ہے؟‘‘
وہ اب جا چکا ہے۔ جن سروں میں وہ گا رہا تھا وہ اپنی گونج بھی کھو چکے ہیں۔ مگر الفاظ سے میں ابھی تک الجھا ہوا ہوں۔
’’فلاور انڈر ٹری اِز فری‘‘ (FLOWER UNDER TREE IS FREE )
اس سے ایک بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ الفاظ کی عمرسر سے لمبی ہوتی ہے۔ شام، جب وہ مجھ سے ملا خاصا نشے میں تھا۔ طالب علموں کے ایک گروہ نے دن میں اسے گھیر لیا تھا، وہ اس کے ملک کے گیت اس سے سنتے رہے اور شراب پیتے پلاتے رہے۔ میرے کندھے پر اپنا دایاں ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے مجھے سارے دن کا قصہ سنایا۔ اور پھر کہنے لگا، ’’ گھر سے جب نکلا تھا تو میرے ذہن میں یہ فتور تھا کہ ساری دنیا پیدل گھوم کر اپنا ہم شکل تلاش کروں گا۔ آٹھ برس ہونے کو آئے مجھے دوسروں کے ہم شکل تو ملتے رہے مگر اپنا ہم شکل اب تک نہیں ملا۔‘‘
’’کیا کہیں تمہیں کوئی میرا ہم شکل ملا؟‘‘ میں نے مسکرا کر پوچھا۔
’’ ہاں! سیکنڈی نیویا میں!‘‘اس نے میری طرف دیکھے بغیر اور اپنے ذہن پر زور دیئے بغیر جواب دیا۔
رات گئے تک ہم سڑکوں پر مارے مارے پھرتے رہے۔ جب تھک گئے تو گھر کا رخ کیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوا، کرسی پر بیٹھا، دو ایک منٹ اِدھر ادھر کی باتیں کرتا رہاپھر اس نے ایک دم اپنا مخصوص گیت گانا شروع کردیا۔
میں نے پوچھا، ’’اس گیت میں جو الفاظ ہیں ان کے معنی کیا ہیں ؟‘‘
’’معنی کوئی ساتھ نہیں دیتا، صرف الفاظ دیتا ہے۔ دیتا بھی کیا ہے بس ان پر اپنے معنی کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔ اور ہم ان میں سے اپنے معنی تلاش کرتے ہیں!‘‘ اس نے جواب دیا۔ کرسی پر سے اٹھتے ہوئے اس نے کمرے کی بے ترتیبی کا جائزہ لیا اور پھر اچانک بول اٹھا، ’’تم شادی کیوں نہیں کر لیتے اچھے خاصے معمولی آدمی ہو۔‘‘ میں بوکھلا سا گیا۔
’’بات دراصل یہ ہے،‘‘ میں نے اس کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔ ’’ہماری بلڈنگ کے اوپر والی منزل میں ایک دشنو بابو رہتے ہیں۔ وہ اس بلڈنگ کے مالک بھی ہیں۔ ہم سب ان کے کرایہ دار ہیں۔ بہت سال پہلے جب وہ بالکل معمولی آدمی تھے تو انہوں نے ایک لڑکی سے شادی کی تھی۔ جس کا نام ’سرسوتی‘ ہے۔ پھر اچانک دشنو بابو ایک مالدار عورت ’لکشمی‘سے ٹکرا گئے۔ تب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے ’لکشمی‘ سے اپنا دوسرا بیاہ رچا لیا۔ اب لکشمی اور دشنو دونوں آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور بے چاری ’سرسوتی‘ رات رات بھر سیڑھیوں میں بیٹھی روتی رہتی ہے۔ اسی ہنگامے کی وجہ سے میں ابھی تک طے نہیں کرپایا کہ مجھے کسی سرسوتی سے شادی کرنی چاہیئے تھی یا کسی لکشمی سے!‘‘
اس نے میرے چہرے کی طرف غور سے دیکھا، اس کی آنکھوں کے سرخ ڈورے اس کے چہرے کو خوف ناک بنا رہے تھے۔ پھر اس نے ایک دم سے گڈ نائٹ! کہا اور تیزی سےسیڑھیاں اتر گیا۔ اپنی اسی طرح کی حرکتوں اور باتوں کی وجہ سے وہ کبھی کبھی مجھے گوشت پوست کے آدمی کی بجائے کوئی خیال لگتا ہے جو سمندر پار سے یہاں آ گیا ہو۔
جس عمارت کے ایک کمرے میں، میں رہتا ہوں۔ اس کے سب کمروں کی دیواریں کہیں نہ کہیں، جیسے تیسے ایک دوسرے سے مشترک ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک کمرے کے اندر کی آواز یا خاموشی دوسرے میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ میں سوچتا ہوں، میری آواز یا خاموشی یا پھر چند لمحے پہلے میرے کمرے میں گونجنے والی اس کے گانے کی آواز بھی ضرور کہیں نہ کہیں پہنچی ہو گی۔
باہر شاید رات نے صبح کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ اردگرد کے سب گھروں کی بتیاں بجھ گئی ہیں۔ ہر طرف اندھیرا ہے۔ اور خاموشی دیمک کی طرح ہر طرف آہستہ آہستہ رینگے جار ہی ہے۔ میں دروازے کی چٹخنی چڑھا کر اور مدھم بتی جلاکر اپنے بستر پر لیٹ گیا ہوں۔
مدھم روشنی میں سفید چادر میں لپٹا ہوا اپنا جسم مجھے کفن میں لپٹی ہوئی لاش کی طرح لگتا ہے۔ تنہائی، تاریکی اور خاموشی میں ایسا خیال خوف زدہ کر ہی دیتا ہے۔ جیسے خواب میں بلندی سے گرتے ہوئے آدمی کا جسم اور ذہن سن ہو جاتے ہیں۔ ایسی ہی میری کیفیت ہے۔ دھیرے دھیرے میں نیچے گِر رہا ہوں اور پھر اچانک مجھے لگتا ہے میں اپنے جسم میں واپس آ گیاہوں۔
باہر سے کسی کے رونے کی آواز آرہی ہے شاید سرسوتی اور لکشمی میں پھر جھگڑا ہوا ہے اورسرسوتی کے رونے کی آواز سیڑھی، سیڑھی اتر کر نیچے میرے کمرے کے دروازے تک آ گئی ہے، مگر یہ تو کسی بچے کے رونے کی آواز ہے!میں محسوس کرتا ہوں۔۔۔ ٹھیک ہے پڑوس والوں کا بچہ اچانک بھوک کی وجہ سے رونے لگ گیا ہو گا۔ اور اس کی ماں بدستور نیند میں بے خبر سو رہی ہو گی یا پھر شاید ایسا بھی تو ہوسکتاہے کہ وہ مر گئی ہو اور بچہ بلک بلک کے رو رہا ہو۔ آواز آہستہ آہستہ قریب ہو کر واضح ہوتی جا رہی ہے۔ پھر مجھے لگتا ہے کہ ایک بچہ میرے ہی پہلو میں پڑا رو رہا ہے۔ اور کفن میں لپٹی میری لاش میں کوئی حرکت نہیں ہو رہی۔
’’اگر درخت تہذیب کی علامت ہے تو ہم اس کے سائے میں روتے ہوئے آزاد پھول ہیں۔ میرے ذہن میں اچانک اس کے الفاظ کے معنی کِھل اٹھے ہیں جن کے سر وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
بچہ بدستور رو رہا ہے۔ دھیرے دھیرے اس کی آواز میں درد اور دکھ کی لہریں شامل ہوتی جا رہی ہیں۔ جیسے اسے پتہ چل گیا ہو کہ اس کی ماں مر گئی ہے۔ مگر اسے یہ کس نے بتایا ہو گا؟ اس کے باپ نے؟ مگر وہ تو بدستور سو رہا ہے۔ کیونکہ اس کی آواز میں اس کے باپ کی آواز ابھی شامل نہیں ہوئی۔ یہ تو ہر کسی کو آپ ہی پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی ماں مر گئی ہے۔ مجھے نہیں پتہ چل گیا تھا!۔۔۔ بچے کے رونے کی آواز میری آواز سے کتنی ملتی جلتی ہے۔۔۔
پھر اس کے الفاظ میرے کان میں گونجنے لگے، ’’اچھے خاصے معمولی آدمی ہو۔‘‘ میں واقعی معمولی آدمی ہوں۔ ہر صبح اپنے گھر سے تیار ہو کر نکلتا ہوں۔ دروازہ بند کرتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الوداع کہتا ہوں۔ سورج کی طرف منہ کر کے دن بھر بھاگتا رہتا ہوں اور رات ہونے پر اپنے آپ کو گھر کے دروازے پہ کھڑا پاتا ہوں۔
صبح سب سے پہلے سارس کی طرح اڑتا ہوا میں اس عمارت تک جاتا ہوں۔ جہاں ایک عورت خوبصورت کیبن میں گلاس ٹاپ کے میز پر اپنی سفید مرمریں باہیں پھیلائے گھومنے والی کرسی پر بیٹھی رہتی ہے۔ وہ اپنے سفید بالوں کو ہر روز خضاب سے رنگ کر آتی ہے۔ میز پر پھیلی ہوئی اس کی باہیں، اس طرح لگتی ہیں کہ جیسے کسی عورت کی برہنہ ٹانگیں ہوں۔
کیبن کے اردگرد سے کئی سیڑھیاں اوپر چڑھتی ہیں۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں اس کیبن کے شیشوں میں سے اکثر جھانکتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اگر وہ واقعی اپنی ننگی ٹانگیں میز پر پھیلائے ہوئے ہے تو۔۔۔
سیڑھیاں جہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ وہاں داہنے طرف ایک بڑی سی الماری لگی ہوئی ہے۔ جس میں چھوٹے چھوٹے بنک کے لاکروں جیسے کئی خانے بنے ہوئے ہیں جن میں ہر آدمی اپنی ذاتی چیزیں رکھ سکتا ہے۔ مگر میں ہر روز اپنی ذات ہی کو اس میں بند کر کے سیڑھیاں چڑھ جاتا ہوں۔ اور پھر شام کو جاتے ہوئے دوبارہ اسے نکال لیتا ہوں۔ باہر تھیٹر والوں کی گاڑی کھڑی رہتی ہے۔ اس کا ڈرائیور مجھے آنکھوں کے اشارے سے بیٹھنے کے لئے کہتا ہے اور میں شہر کے جدید ترین تھیٹر میں پہنچا دیا جاتا ہوں۔ جس کا پنڈال بالکل سرکس کے پنڈال کے جیسا ہے۔ میں اس تھیٹر میں پچھلے اٹھارہ برس سے ایک ہی رول ادا کر رہا ہوں۔ سٹیج بالکل وسط میں ہے۔ اور میرا پہلا میک اپ اتار کر گلی ور، کا میک اپ اور لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ مکالمے سب بیک گراؤنڈ سے ہوتے ہیں۔ مجھے صرف للی پت والوں کی مار کھانے کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ ان کے ننھے ننھے سوئیوں جیسے بھالے میرے جسم میں چبھتے ہیں۔ ان کے کمانوں سے نکلے ہوئے چھوٹے چھوٹے تیر میرے جسم میں پیوست ہو جاتے ہیں۔ میرے مساموں سے خون کی بوندیں پسینے کی طرح نکلتی ہیں۔ مجھ میں خوبی بس یہی ہے کہ میں تکلیف کا اظہار نہیں کرتا اس لئے اتنے برسوں سے یہ سب چل رہا ہے۔ یہاں سے مجھے ملتا کچھ بھی نہیں یہ تو محض ہابی کے طور پر ہے۔ پھر جب شو ختم ہو جاتا ہے تو مجھے ایک اسٹریچر پر لٹا کر ایک باتھ روم میں لے جاتے ہیں۔ جہاں الکوحل سے بھرے ہوئے ٹب میں مجھے ڈال دیا جاتا ہے۔ الکوحل میرے زخموں میں ٹیسیں پیدا کرتی ہے۔ پھر ایک دم ایک خنکی کی لہر میرے جسم میں دوڑ جاتی ہے اور میں تازہ دم ہو کر گھر کی طرف بڑھتا ہوں۔
ایک دن عجیب تماشا ہوا۔ جب اس عمارت کے دروازے بند ہونے کا وقت آیا،تب میں پیشاب خانے میں تھا۔ میرے پیچھے دھپ سے دروازہ بند ہوا۔ میں گھبرا کر زور زور سے دروازہ پیٹنے لگا تب ایک آدمی نے آ کر دروازہ کھولا۔ میں اس تصور سے ہی اس قدر گھبرا گیا تھا کہ اگر مجھے ساری رات اس پیشاب خانے میں بند رہنا پڑتا تو میری کیا حالت ہوتی۔ گھبراہٹ میں چلتے وقت میں نے اس کیبن کی طرف بھی دھیان نہ دیا کہ آیا وہ عورت چلی گئی ہے یا نہیں۔ اور نہ ہی اس لاکر میں رکھی ہوئی اپنی ذات ہی نکالنے کا خیال آیا۔ باہر تھیٹر کی گاڑی کا ڈرائیور ہارن پر ہارن بجائے جا رہا تھا۔ میں بھاگتا ہوا گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی چل دی۔
میں بہت پریشان تھا کہ آج میں اپنی ذات کے بغیر اپنا رول کیسے ادا کر پاؤں گا۔ مگر میری حیرانی کی انتہاء نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ اس دن شو ختم ہونے پر بھیڑ اپنی کرسیوں سے اٹھ کر میری طرف لپکی اور میری اداکاری کو اتنا قدرتی بتایا کہ میں خود بھی حیران رہ گیا۔
تب سے میں نے اپنی ذات کو اس لاکر ہی میں پڑا رہنے دیا ہے۔
ہوا کے ایک جھونکے نے کھڑکی کے پٹ کو زور سے پٹخ دیا ہے۔ میں پھر اپنے کمرے کے ماحول کی خوشبو محسوس کرنے لگا ہوں۔۔ ۔ سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی سرسوتی کی سسکیوں کی آواز روتے ہوئے بچے کی کرب ناک آواز میں اب ایک اور آدمی کی آواز بھی شامل ہو گئی ہے۔ شاید بچے کا باپ بھی جاگ گیا ہے۔ وہ اپنی بیوی کی لاش اور بلکتے ہوئے بچے کو سیکھ کر ضبط نہ کر سکا۔
ایک اچھے پڑوسی کے ناطے میرا فرض ہے کہ ان کے سکھ، دکھ میں حصہ بٹاؤں، کیوں کہ ہم سب ایک ہی درخت کے سائے تلے کِھلے ہوئے آزاد پھول ہیں۔
میرا جی چاہتا ہے کہ، میں اپنے کمرے کی چاروں دیواروں میں سے ایک ایک اینٹ اکھاڑ کر ارد گرد کے کمروں میں جھانک کر انہیں سوتے ہوئے یا روتے ہوئے دیکھوں۔ کیوں کہ دونوں ہی حالتوں میں آدمی بے بسی کی حالت میں ہوتا ہے۔ مگر میں بھی کتنا کمینہ آدمی ہوں لوگوں کو بے بسی کی حالت میں دیکھنے کے شوق میں سارے کمرے کی دیواریں اکھاڑ دینا چاہتا ہوں۔
میں نے پھر اپنے آپ کو اٹھ کر ان کے کمروں میں جا کر ان کے رونے کی وجہ دریافت کرنے پر آمادہ کیا۔ رونے کی آوازیں اب کافی بلند ہو چکی تھیں۔ اور ان کی وجہ سے کمرے میں بند رہنا ممکن نہ تھا۔ میں نے وہی کفن جیسی سفید چادر اپنے گرد لپیٹی اور سیاہ سلیپر پہن کر دروازے کی طرف بڑھا۔ جوں ہی میں نے دروازے کی چٹخنی کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ باہر سے کسی نے دروازے پر دستک دی، میں نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا۔
سیڑھیوں میں بیٹھ کر رونے والی سرسوتی، بلک بلک کر رونے والا بچہ، مری ہوئی عورت اور اس کا مجبور خاوند چاروں باہر کھڑے تھے۔ چاروں نے یک زبان مجھ سے پوچھا۔
’’کیا بات ہے آپ اتنی دیر سے رو رہے ہیں ؟ ایک اچھے پڑوسی کے ناطے ہم نے اپنا فرض سمجھا کہ۔۔۔ !‘‘
سریندر پرکاش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے