روکش ہوا جو شب وہ بالاے بام نکلا

روکش ہوا جو شب وہ بالاے بام نکلا
ماہ تمام یارو کیا ناتمام نکلا
ہو گوشہ گیر شہرت مدنظر اگر ہے
عنقا کی طرح اپنا عزلت سے نام نکلا
تھا جن کو عاشقی میں دعواے پختہ مغزی
سودا انھوں کا آخر دیکھا تو خام نکلا
نومید قیس پایا ناکام کوہکن کو
اس عشق فتنہ گر سے وہ کس کا کام نکلا
کیونکر نہ مر رہے جو بیتاب میر سا ہو
ایک آدھ دن تو گھر سے دل تھام تھام نکلا
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے