رشوت اور اس کےنقصانات

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
*رشوت اور اس کےنقصانات*
کافی عرصے سے ایک تحریر لکھنے کا سوچ رہی تھی.مگر شاید اللہ کو منظور نہیں تھا ،کیوں کہ جب اللہ چاہے تو وہ ” کن” فرمادیتا ہے. بچپن میں بہت سارے بچے ڈائریاں لکھتے ہیں، پھر تھوڑے بڑے ہوتے ہیں، تو ان ڈائریوں میں اپنے اساتذہ سے قلمی دستخط (Autographs)لینے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے ۔پھر نو عمری میں ان ہی ڈائریوں میں شعروشاعری لکھی جاتی ہے.
اسی طرح میری چند دوست بھی ایسا ذوق وشوق رکھتی تھیں.کچھ شعروشاعری لکھا کرتی تھیں، تو کچھ اپنے روزمرہ کےمعمولات زندگی، مگر مجھے ان سب میں دلچسپی نہیں تھی ۔ حال ہی ميں ایک دوست ایسی ملی جو صرف اللہ کے لیے لکھتی ہیں. مجھے بھی کچھ عمدہ لکھنے کی تمنا تھی، مگر مجھ میں لکھنے کی صلاحیت نہ تھی. میں جب بھی اس کی تحریر دیکھتی تو اپنے لیے وہ دعا کرتی، جو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے لیے کی تھی، يعنی "ربّ الشرح لی صدری” لیکن جب اللہ تعالی نے مجھے شرح صدر سے نوازا تو لکھنے کی چھوٹی سی کوشش کی ہے. كیوں کہ جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے، تو اللہ کی مدد بھی اس میں شامل ہوجاتی ہے.
آج جو میں نے "موضوع” چنا ہے وہ سنجیدہ سا ہے، کیوں کہ جو میں عنوان دیا ہے اس کا ہمارے معاشرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے. بظاہر تو یہ عنوان ایک سطر پر مشتمل ہے ،مگر اس میں جذبات اور گہرائی چھپی ہوئی ہے ،اس لیے سوچا اس سے متعلق کچھ لکھوں اور الحمداللہ پہلے ہی دن آدھے سے زیادہ تحریر مکمل کرلی. اس عنوان میں رشوت ، اس کی برائیاں اور اس کے نقصانات کا ذکر ہے. ساتھ ہی ظلم کا بیان بھی کیا ہے، کیوں کہ رشوت ایک طرح سے ظلم بھی ہے.
آج ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں، اس معاشرے میں رشوت نے اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں، جس کی وجہ سے باصلاحیت لوگ بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ کیوں کہ رشوت دینے والوں کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، اور نا اہل افراد کو اہم عہدوں پر فائز کردیا جاتا ہے. جس کی وجہ سے ہمارا ملک دنیا کا تینتیسواں بڑا ملک ہونے کے باوجود دوسرے ملکوں سے بہت پیچھے ہے.
ایسا ہی واقعہ ایک میڈیکل یونیورسٹی میں پیش آیا ، جہاں رشوت کی بنیاد پر ایسے نا اہل لوگوں کو لیکچرر شپ کے عہدے پر فائز کردیا گیا ، جو اپنے وقت میں پوزیشن ہولڈر تو دورکی بات، سپلیاں دے دے کر اپنی آدھی زندگی وہیں پر گزاردی (Failures Became lecturer)۔ جبکہ حقیقی پوزیشن ہولڈرز کو بلکل نظر انداز کردیا گیا ۔
اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو کیا ہوگا ہماری آنے والی نسل کا؟ جبکہ ان کا مستقبل ایسے اساتذہ کے ہاتھوں میں دیا جارہا ہے، جو صرف پیسے کو ہی سب کچھ مانتے ہیں ۔اور ایسے عطائی ڈاکٹرز جن کو انجکشن لگانا تو دور کی بات ،انجکشن میں دوائی تک بھرنی نہیں آتی تو کیا ہوگا مریضوں کا؟؟؟؟
چند دن پہلے میں نے کسی سے سنا کہ ان کے ہاں ایک جان پہچان والے کی فوتگی ہوگئی ہے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان کے پتے کا آپریشن تھا. آپریشن سے پہلے ان کو بے ہوش کیا گیا، لیکن تھوڑی ہی دیر میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ کیوں کہ ان کے خون کا فشار (Blood Pressure) کم تھا.اور آپریشن سے پہلے خون کے فشار (Blood Pressure) کو اچھی طرح سے چیک کیا جاتا ہے. کیا اس ڈاکٹر کو پتا نہیں تھا ؟؟ یا تو وہ ڈاکٹر نہیں تھا، یا پھر پیسوں کی پٹی اس کی آنکھوں میں بندھی ہوئی تھی ۔
یقیناً یہ ڈاکٹر بھی ان ہی میں سے ایک ہوگا، جو رشوت دے کر ڈگری پر اپنا نام لکھوا کر ڈگری حاصل کرتے ہیں. اسی طرح کے اور بھی واقعات ہمیں روز بہ روز سننے کو ملتے ہیں۔ ویسے تو زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور قرآن کا یہ بھی تو فرمان ہے کہ: "واذا مرضت فھو یشفین” ۔مگر اس کے لیے دوا ہمیں خود ڈھونڈنی ہے.
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رشوت کے لیے ایک خاص لفظ "السحت” کا استعمال کرکے اسکی مذمت فرمائی ہے. السحت کے لفظی معنی "کسی چیز کو اس کی جڑ سے کھود کر برباد کرنے کے ہیں”. رشوت کو سحت کہنے کی وجہ یہ ہے: کہ یہ صرف رشوت لینے اور دینے والوں کو برباد نہیں کرتی بلکہ پورے ملک وملت کی بنیاد اور وہاں کے امن وامان کو تباہ کردیتی ہے. جس ملک یا جس محکمے میں رشوت کا بازار گرم ہوجائے تو وہاں کا قانون معطل ہوکر رہ جاتا ہے. اور اگر قانون معطل ہوجائے تو نہ کسی کی جان محفوظ رہتی ہے ،نہ آبرو اور نہ ہی مال.
رشوت کی شرعی تعریف یہ ہے کہ "جس چیز کا معاوضہ لینا شرعاً درست نہ ہو اس کا معاوضہ لیا جائے” . مثلاً : جو کام کسی شخص کے فرائض میں داخل ہے ،اور اس کا پورا کرنا اس کے ذمہ لازم ہے ، اس پر کسی شخص سے معاوضہ لینا. جیسے : حکومت کے افسر اور کلرک جو سرکاری ملازمت کی رو سے اپنے فرائض ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں. وہ صاحبِ معاملہ سے کچھ لیں تو یہ رشوت ہے . (معارف القرآن, جلد سوم)
جس سفارش پر کوئی معاوضہ لیا جائے وہ رشوت ہے، اس میں ہر طرح کی رشوت داخل ہے, خواہ وہ مالی ہو یا یہ کہ اس کا کام کرنے کے عوض اپنا کوئی کام اس سے لیا جائے. (معارف القرآن جلد دوم)
اسی طرح کوئی کسی سےمعاوضہ لے کر اس کے مطابق اس کا کام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے حق پر ہونے والے شخص کا نقصان ہوتا ہے تو یہ بھی رشوت کے زمرے میں آتا ہے. یہ مال اس شخص کے لیے حرام ہے اور جہنم میں لے جانے کا باعث ہے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے.
” الراشي والمرتشي کلاھما في النار ”
” رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں” .
ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے. شاید یہ بات اس وقت سمجھ نہیں آتی تھی یا یوں کہنا درست ہے کہ کبھی اسکی گہرائی تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں ملا.
جس طرح قران میں رشوت کو "اکل بالباطل” (باطل /حرام طریقے سے مال حاصل کرنا),برا اور حرام کہا گیا ہے ۔اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی اس کے خلاف سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.
"اللہ رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت کرتے ہیں اور اس شخص پر بھی جو ان دونوں کے درمیان معاملات طئے کرے.”(الجصاص)
رشوت دینے اور لینے والے اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتے ہیں.
رشوت چوں کہ ایک ظلم بھی ہے کیوں کہ اس کے ذریعے دوسروں کی حق تلفی بھی ہوتی ہے. اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے.
"جب مؤمنوں کو دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں ایک پل پر (جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگا)روک لیا جائے گا اور وہیں پر ان کے مظالم کا بدلہ دیا جائے گا”.(بخاری شریف)
مزید فرمایا:
"خبردار ہوجاؤ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہوگی”. (صحیح بخاری) ”
مزید فرمایا:
"الظلم ظلمات یوم القيامة”
"ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں سے ایک اندھیرا ہوگا۔” ( بخاری ومسلم)
ہمارے نبی نے بھی ہمیں ظلم سے بچنے کی تاکید کی ہے اور ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے.
"اتقو دعوة المظلوم, فانه ليس بينه وبين الله حجاب”(متفق علیہ)
"یعنی مظلوم کی بددعا سے بچو ،کیوں کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے.”
ايک اور جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” من كانت له مظلمة لاخيه من عرضه او شيء” …الخ (بخاری شریف)
"اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے پر ہو تو وہ آج ہی (اس دن کے آنے سے پہلے) معاف کرالے، جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم . بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا ،تو وہ اس کے ظلم کے بدلے میں وہ ہی لے لیا جائے گا .اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہوگا ،تو اس کے (مظلوم) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی” .
کیا ہوگا اس دن ؟ جب کوئی کسی کی مدد کے لیے نہیں آئے گا. انسان اپنے کیے ہوئے اعمال پر شرمسار ہوگا. بھاگے گا، اپنے بھا ئی سے، اپنے تمام رشتے داروں سے.
اللہ تعالی نے قرآن میں اس لمحے کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے:
"يوم يفر المرء من اخيه. وامه وابيه. وصاحبته وبنيه” . (العبس)
"اس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے, اپنی ماں سے اپنے باپ سے, اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے ”
اور تمنا کرے گا اس وقت جب تمام جانوروں کو ان کا بدلہ دے کر مٹی کردیا جائے گا کہ کاش میں بھی مٹی ہوجاتا.
ارشاد باری تعالی ہے:
"يليتني كنت ترابا” (نبا)
"اے کاش کہ میں مٹی ہوجاتا” !
جب اتنی شاندار تعلیم ہمیں دی گئی ہے تو ہم کس راستےپر رواں دواں ہیں؟ کبھی سوچتے نہیں کہ کیا کریں گے ؟جب ہمارے پاس کچھ نہ ہوگا.جب کوئی رشوت قبول نہیں کی جائے گی. اس دنیا اور آسمان کے درمیان تمام چیزیں اس کے عوض دینے کی کوشش کی جائے گی، تب بھی یہ سب قبول نہ کیا جائے گا. کیوں کہ اس دن فیصلہ کرنے والی ذات اللہ رب العالمین کی ہوگی.
قرآن کریم نے اس کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے:
"فلن یقبل من احدھم ملء الارض ذھبا ولوافتدی به "(ال عمران)
"ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا بھی قبول نہیں کیا جائے گا, خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے. ”
اس تحریر کا مقصد کسی پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ یہ صرف اسلیے ہے کہ شاید اس تحریر کی وجہ سے کسی کو اللہ رب العالمین کی طرف سے ہدایت مل جائے ،اور یہ تحریر کسی کی نجات کا سبب بن جائے . اللہ رب العالمین ہم سب کو بد بختی, آزمائش کی مشقت اور برے خاتمے سے بچائے .(آمین)
آخر میں ایک مختصر حدیث بیان کرنا چاہوں گی.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"تعوذوا من جهد البلاء ,ودرك الشقاء , وسوء القضاء وشماتة الاعداء”(صحیح بخاری)
” اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت سے ، بد بختی کی پستی سے ،برے خاتمےسے اور دشمن کے ہنسنے سے”.
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات۔
(علامہ اقبال)
اللہ پاک میرے والدین اساتذہ اصحاب اور میرے بہن بھائی کو جزائے خیر عطا فرمائے.
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین
19-October-2019
Saturday, 10:53pm
٢٠ صفر المظفر ١٤٤١
حافظہ سیدہ حفظہ احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے