رشتوں کی قدر کریں

 

رشتوں کی قدر کریں

انسان فانی ہے۔دنیا کا مہمان ہے۔لیکن اس مہمان داری کے چکر میں میزبان بن بیٹھتا ہے۔عارضی ہے مگر خود کومستقل سمجھنے لگتا ہے۔امانت دار ہے پر مالک بن جاتا ہے۔ اور یہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔اور اِس فانی دنیا کا حضرت ِانسان بڑا جھگڑالو ہے۔ہر ایک سے لڑتا ہے۔بیگانوں سے کم اپنوں سے ذیادہ الجھتا ہے۔کبھی مفاد اُسے لڑاتا ہے تو کبھی انا ا ُس کو دوسروں کی دشمنی اور نفرت پر اُکساتی ہے۔غلط فہمیوں کے گھوڑے پر سوار بدلے کی آگ کا کوڑا ہاتھ میں لیے ہوئے انجانی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے اور اسے کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔اُسے دوسروں کا طریقہ کار پسند نہیں آتا تو کبھی دوسروں کی سوچ اس کے ذہنی معیار پر پورا نہیں اترتی۔کبھی دولت درمیان میں حائل ہو جاتی ہے تو کبھی عہدے محبت و خلوص کی راہ کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔معیارِ زندگی کا یہ اختلاف بھائی کو بھائی سے جدا کر دیتا ہے اور ساری زندگی وہ آپس میں مل نہیں پاتے۔غیبت پسندیدہ موضوع بن جاتا ہے۔چغلی کھا کر سکون ملتا ہے۔اپنی شخصیت کا رعب اور برتری کا احساس لطف دیتا ہے۔اپنے سگے خونی رشتے شریک لگتے ہیں اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔بسا اوقات دشمنی اس حد تک بھی بڑھ جاتی ہے کہ خون کے پیارے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ جائیداد کی تقسیم دلوں کو بھی تقسیم کر دیتی ہے۔کوئی خاص دشمنی نہ بھی ہو تو اتفاق اتفاق میں بھی ایک دوسرے کو ہم اچھا سمجھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ہماری نظر میں دوسرے بے وقوف ہوتے ہیں اور ہم خود اپنے آپ کو صاحبِ عقل ہی تصور کرتے ہیں۔سادہ الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نظر اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ ہمیں اپنی خامی اور دوسروں میں کوئی خوبی کم ہی نظر آتی ہے۔

کسی اختلاف رائے کی صورت میں ہمیں اپنا موقف ہی درست لگتا ہے۔اس کے بعد پھراچانک ایک وقت آتا ہے کہ اجل کسی کو اُچک کر لے جاتی ہے اور باقی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔اپنے پیاروں کو روتے ہیں۔اس کی جدائی کی آگ میں جلتے ہیں۔خوشیاں ادھوری لگنے لگتی ہیں۔مرنے والے کی ہزاروں خوبیاں سامنے آنے لگتی ہیں کہ بندہ خود حیران ہو جاتا ہے۔پہلے جو بہت فضول اور ارزاں تھا اب انتہائی قیمتی اور ضروری لگنے لگتا ہے۔اس کی ایک ایک ادا جس پر طیش آتا تھا پھر کمال لگتی ہے۔اس کی ایک ایک بات جو احمقانہ لگتی تھی پھر حکمت سے پُر نظر آتی ہے۔اس کے فیصلے جو بے انصافی پر مبنی لگتے تھے پھر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔بس یوں کہہ لیں کہ جو پہلے بے دین لگتا تھا پھر جانے کے بعد وہ ہمیں کسی ولی اللہ سے کم نہیں لگتا۔اس کی ایک ایک بات کے معرفت بھرے معنی ہمیں سمجھ آنے لگ جاتے ہیں۔اس کی موجودگی میں جو ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا اس کے رخصت ہونے کے فوراََ بعد اس کے وجود کی برکت کا احساس ہو جاتا ہے۔اس کی موت کی خبر سن کر اس کی آواز سننے کو کان ترسنے لگتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟کیا اس کے پیچھے ہماری خود غرضی ہے یا خود پسندی؟یااس سوچ کے پیچھے ہماری متعصب سوچ ہے جو کسی کے بارے میں ہمیں کچھ اچھا گمان کرنے ہی نہیں دیتی۔ کتنے ہی ایسے رشتے دار ہیں جن سے ہم زندگی میں ذرا ذرا سی بات سے ناراض ہوئے بیٹھے ہیں اور سال ہا سال سے ملنا تو دور کی بات ہے ملنے کا سوچتے تک نہیں۔بسا اوقات ہم یہی نفرت وراثت میں اپنے بچوں کو بھی دے کر جاتے ہیں۔اس کاسیدھا سا مطلب ہوتا ہے کہ ہم اپنی اولادوں سے یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ہم غیرت کے نام پر نفرت کی آگ میں خوب جلے اب تم بھی ساری زندگی اس آگ میں ضرور جلنا۔ہم نے اپنا سکون برباد کر کے رکھا ہے تو ہمارے پیارے بچو! تم بھی کہیں زندگی میں سکون سے نہ بیٹھ جانا۔یہ ہم مختصر ترین عارضی زندگی کو کیسے گذارنے لگ گئے ہیں؟ہم نے یہ سبق کہاں سے پڑھا ہے؟یہ عقل کہاں سے سیکھی ہے؟کیا ہی اچھا ہو کہ ہم زندہ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی خوبیاں تلاش کریں اور ان کو سراہیں۔زندہ رہتے ہوئے حتی الامکان ایک دوسرے کی دل جوئی کریں۔ایک دوسرے کی مدد کریں۔ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں۔خود کو دوسرے کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں۔دوسروں کی مجبوری کو سمجھیں۔جو کام سب سے آخر میں کرنے کا ہوتا ہے وہ ہم سب سے پہلے کر گذرتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ کسی کی خامی کی صورت میں اس سے نفرت کرنے سے قبل اس کی وجہ تلاش کریں اور اس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کریں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم دوسروں کی خامیوں سے درگذر کرنا سیکھ لیں گے۔ جب ہم اعلی ظرف ہو جائیں گے۔ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس اپنائیت بھرے ماحول میں زندگی کتنی آسان اور خوب صورت ہو جائے گی۔ہمارا دین اسی لیے تو صلہ رحمی پر زور دیتا ہے۔اسے لیے تو جوڑنے کا حکم دیتا ہے۔اگر ہم ایسے بن جائیں تو زندگی کے کتنے پچھتاووں سے بچ سکتے ہیں جو ہمیں کسی اپنے کے جانے کے بعد ہوتے ہیں۔

اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے