رہتے ہیں تصور سے بھی اب دور کہیں لوگ

رہتے ہیں تصور سے بھی اب دور کہیں لوگ
پہلے سے نہیں ہم کہ وہ پہلے سے نہیں لوگ
منہ کھولے ہوئے بیٹھے ہیں کشکول کی صورت
یاقوت گراں مایہ سے تا نان جویں لوگ
ملتا ہے جہاں کوئی چمکتا ہوا ذرہ
رُکتے ہیں وہیں لوگ بھٹکتے ہیں وہیں لوگ
کیا آپ کی رفتار کا شعلہ ہے زمانہ
رکھ دیتے ہیں ہر نقش زمانہ پہ جبیں لوگ
آ پہنچا ہے اس نکتے پہ افسانۂ ہستی
کچھ سنتے نہیں آپ تو کچھ کہتے نہیں لوگ
اس دور سے چپ چاپ گزر جا دل ناداں
احساس کی آواز بھی سن لیں نہ کہیں لوگ
حالات بدلنا کوئی مشکل نہیں باقیؔ
حالات کے رستے میں ہیں دیوار ہمیں لوگ
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے