رہتے ہیں یہ جو آپ کے اتنے قریب لوگ

رہتے ہیں یہ جو آپ کے اتنے قریب لوگ
اک روز بن نہ جائیں یہ میرے رقیب لوگ
آنا پڑے گا آپ کو سرکار سر کے بل
مانگیں گے رب کی ذات سے جب ہم غریب لوگ
ڈر ہے تمھارے پیار کو مجھ سے نہ چھین لیں
میں نے تمھارے شہر میں دیکھے عجیب لوگ
جڑ کر تمھاری ذات سے خوشیاں ملیں مجھے
کیونکہ تمھارے دوست ہیں سب خوش نصیب لوگ
سب نے دعا کے سائے میں رخصت کیا مجھے
یعنی مریضِ عشق سے عاجز طبیب لوگ؟
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے