رَہروِ تفتہ

رَہروِ تفتہ
ڈرامہ
(پس منظر میں مسلسل ہلکی المیہ موسیقی۔ دروازہ کھلنے کی دھیمی آواز)
باقر علی خاں: داروغہ کلّو، کیا ہے؟
کلّو: بیگم صاحب نے خیر خبر پوچھی ہے۔
باقر علی خاں: وہی حال ہے۔ کہو دعا کریں۔ خضر مرزا، جاؤ بیٹا تم دادی کے پاس رہو۔ انھیں لیتے جاؤ داروغہ کلّو۔ روتے کیوں ہو؟ تم تو ان کو اور پریشان کر دو گے۔
کلّو: (روتے ہوے) میاں، چودہ برس کی عمر سے ان کی خدمت میں ہوں۔ نوکر ہوں، لیکن مرزا صاحب نے بیٹوں کی طرح رکھا ہے۔ کیسی کیسی دل داری کرتے تھے، اب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہے ہیں۔
باقر علی خاں: (ٹھنڈی سانس) ہاں بھائی، سچ کہتے ہو۔ (بلند تر آواز) تشریف لائیے۔ آئیے، اِدھر نکل آئیے۔
دوست: الله! اب کیا حال ہے؟
باقر علی خاں: بےہوش ہیں، کچھ رہ نہیں گیا ہے۔
دوست: نہیں! کیوں کر یقین کروں! ابھی کل ہی تو خواجہ الطاف حسین ان کو دیکھ کر گئے ہیں۔ بتاتے تھے کہ اس وقت نواب علاؤ الدین خاں کو خط لکھوا رہے تھے۔
باقر علی خاں: جی ہاں، اور خط میں یہ فقرہ بھی لکھایا تھا کہ میرا حال مجھ سے کیا پوچھتے ہو، ایک آدھ روز میں ہمسایوں سے پوچھنا۔ اُس وقت بھی کئی پہر کے بعد ہوش آیا تھا۔
دوست: ہَے ہَے، خواجہ سے یہی فقرہ سن کر تو مجھے خیال ہوا تھا کہ اب ماشا الله رو بہ صحت ہیں۔ یہ تو گمان بھی نہ تھا کہ اس نوبت کو پہنچ گئے ہوں گے۔ بھلا جسے ایسے فقرے بولنے کا دماغ ہو․․․
باقر علی خاں: دماغ نے ان کا ساتھ کب چھوڑا۔ کئی دن سے بےہوشی طاری ہے۔ لیکن ذرا دیر کو ہوشیار ہوتے ہیں تو وہی میرزا اسد الله․․․
(دروازے پر ہلکی دستک)
کون صاحب ہیں؟ اندر تشریف لے آئیے۔
نووارد: آداب بجا لاتا ہوں ․․․ (آواز دھیمی ہو جاتی ہے) ․․․ میرزا صاحب آرام فرما رہے ہیں؟ فیصلہ ہوا ہے کہ جو میرزا صاحب فرمائیں وہی سند ․․․ اجازت ہو تو جب تک میرزا صاحب بیدار ہوں میں یہیں ․․․ لیکن یہ ․․․ میرزا صاحب ․․․ یہ کیا حال ہے؟
باقر علی خاں: وقتِ آخر ہے۔ کل سے ہوش نہیں آیا ہے۔
نووارد: وقتِ آخر؟
باقر علی خاں: حکیم نے جواب دے دیا ہے۔ اب تو جو دم ہے غنیمت ہے۔ لیکن ہوش آنے کی امید نہیں۔
نووارد: یہ کیا ہو گیا! اجازت ہو تو ذرا قریب سے چہرہ دیکھ لوں۔ (وقفہ۔ سانسوں کی آواز) ہا! کیا چراغ بجھ رہا ہے!
دوست: چہرے پہ کیسی مردنی چھا گئی ہے۔ مگر بخدا دیکھیے، اب بھی معلوم ہوتا ہے کچھ سوچ رہے ہیں۔
باقر علی خاں: اور کیا خبر واقعی کچھ سوچ ہی رہے ہوں۔
(المیہ موسیقی تیز ہو کر دوسرے آرکسٹرا میں ڈزالو)
٭٭٭
(سمندر کی آواز کا تاثر)
آوازِ غالب: میں، اسد الله خاں غالب، سوچ نہیں رہا ہوں، ڈوب رہا ہوں۔ اور ڈوبنے والا سوچتا نہیں، دیکھتا ہے۔ میں بھی دیکھ رہا ہوں۔ عالمِ آب و گِل میں آنکھ کھولنے سے لے کر جادۂ راہِ فنا پر قدم رکھنے تک، سب ایک ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ سات پھول دیکھ رہا ہوں کہ ایک کے بعد ایک کھلے اور مرجھا گئے۔ میں کہ عندلیبِ گلشن ناآفریدہ ہوں، اپنے پھولوں کو روتا نہیں، دوسروں کے پھولوں سے جی بہلاتا ہوں۔ مرزا جیون بیگ بھی ایک پھول ہے، لیکن اسے میرے پاس آنے نہیں دیتے۔ ٹھیک ہے بھائی، مرتے ہوے بڈّھوں کے پاس بچوں کو نہ جانا چاہیے۔ لیکن میں مر نہیں رہا، ڈوب رہا ہوں۔ ڈوب رہا ہوں، اس لیے دیکھ رہا ہوں۔ دیکھ رہا ہوں، اس لیے سن رہا ہوں۔
(آرکسٹرا)
آوازِ مغنّی:
کس کا خیال آئینۂ انتظار تھا
ہر برگِ گل کے پردے میں دل بےقرار تھا
اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ تمثال دار تھا
موج سراب دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرّہ مثلِ جوہرِ تیغ آب دار تھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
جاں دادۂ ہوائے سرِ رہ گذار تھا
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو پر اب
دیکھا تو کم ہوے پہ غمِ روزگار تھا
آوازِ غالب: ہاں صاحب، غمِ عشق کم ہوے پر غم روزگار تھا، غمِ روزگار بڑھا تو غمِ عشق فراموش ہو گیا۔
غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستی
وگرنہ کھینچتے تھے ہم بھی لذّتِ الم آگے
(دوسرا آرکسٹرا)
غالب: لو صاحب! ہاتھ آگے بڑھائیے۔ نواب میرزا اسد الله بیگ خاں کہ آپ کے کفیل ہیں، شاعری میں شہرۂ ہندوستاں، سخاوت میں حاتمِ دوراں ․․․
امراؤ بیگم: اچھا بس، باتیں نہ بنائیے۔ لائیے دیکھوں ․․․ (وقفہ) ․․․ یہ کیا؟
غالب: زر ہے، بیگم صاحب، زر! وہی جو شاہدِ گل کو باغ سے بازار میں لاتا ہے۔ میں اسے بازار سے گھر میں لایا ہوں، مگر نہ پوچھیے کیوں کر۔ اب آپ اِسے گھر سے بازار بھیجیے۔
امراؤ بیگم: بنیے کا اُدھار چکانے کے بعد اس میں سے کیا بچے گا، آپ نے حساب بھی لگایا؟
غالب: الحمد لله کہ حساب سے محض ناواقف ہوں۔ دینا میرا کام، حساب کرنا آپ کا کام۔
امراؤ بیگم: یا الله، کیا میری قسمت ․․․
غالب: نہیں نہیں، آپ اپنی زبان کو تکان نہ دیں۔ میں آموختہ دُہراتا ہوں: یا الله! کیا میری قسمت میں یوں ہی سسک سسک کے مرنا لکھا ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مجھ روسیاہ کی طرف۔ معلوم نہیں کن گناہوں کی سزا میں آپ کے پلّے باندھ دی گئی۔ نہ دین کی رہی نہ دنیا کی۔ اچھے بھلے اکبر آباد میں رہتے تھے۔ بیٹھے بٹھائے جی میں سمائی، دلّی میں چلے آئے ․․․ اور مقطع عرض ہے: یا الله تو مجھے اُٹھا کیوں نہیں لیتا۔
امراؤ بیگم: ٹھیک ہے، اسی طرح مسخرے پن سے سب کا پیٹ بھرتے رہیے۔
غالب: نیک بخت! اگر تیرا شوہر مسخرہ پن بھی چھوڑ دے تو کیسی رہے؟ جیتے جی ․․․ کیوں یارچے؟ تم کیا دیکھ رہے ہو۔ جی نہیں، جی نہیں! گود میں آنے کی نہیں ہوتی۔ وہیں بیٹھ کر عالمِ حیرت کی سیر کیجیے۔
امراؤ بیگم: اے تو دم بھر کو لے لیجیے نا؟ کیسا ہمک رہا ہے!
غالب: جی نہیں، ہمارا افراسیاب آپ ہی کی گود میں اچھا لگ رہا ہے۔ واہ وا واہ! بالکل معلوم ہوتا ہے نواب اسد الله خاں غزل سنانے جا رہے ہیں۔ تم ہمارے یارچے کو دیکھنا، دوسرا غالب نکلے گا۔
امراؤ بیگم: نوج! میں ایک ہی سے بھر پائی۔ میں تو اسے آپ کا ایک شعر بھی نہ سننے دوں گی۔
غالب: کیوں نہیں سنے گا؟ سنے گا اور کہے گا مکرّر ارشاد۔ اور میں مکرّر ارشاد کروں گا۔ کیوں یارچے؟
امراؤ بیگم: ضرور، ضرور! یہ تو آپ کو پہچانے گا بھی نہیں۔ جب سے ہوا ہے ایک بار بھی تو گود میں نہیں لیا۔ آخر یہ کیا وحشت ہے؟
غالب: یوں ہی، سوچتا ہوں گود میں لوں گا تو اتارنے کو جی نہ چاہے گا۔ اے لو، وہ ہنسے۔
(المیہ ساز۔ امراؤ بیگم کی سسکیوں کی آواز۔)
آوازِ غالب: میں دیکھ رہا ہوں۔
(المیہ ساز ڈزالو۔ سمندر کی آواز تیز)
آوازِ غالب: بند آنکھوں سے میں وہ بھی دیکھ رہا ہوں جو میں نے نہیں دیکھا تھا۔ افراسیابِ تورانی سے ترکانِ سلجوقی تک، ترکان سلجوقی سے عبد الله بیگ خاں تک، شہ سواروں کا ایک سلسلہ․․․
(گھوڑوں کی ٹاپوں اور تلواروں کی جھنکار کی آواز)
آوازِ غالب: یہ وہ شہ سوار ہیں جو کبھی اپنے لیے تلوار چلاتے تھے۔ اب اوروں کے لیے چلاتے ہیں۔ عبد الله بیگ خاں راجا بختاور سنگھ کے لیے تلوار چلاتا ہے۔ میں اسے الوَر کی خاک پر لوٹتے دیکھ رہا ہوں۔ اس کا خون راج گڑھ کی مٹی میں مل رہا ہے اور اکبر آباد میں اس کی بیوہ تین بچوں کو سینے سے چمٹائے رو رہی ہے۔ عبد الله بیگ کا بھائی نصر الله بیگ ان بچوں کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے۔ کوئی اسے روکو! (بلند آواز) نصر الله بیگ! کیا کرتا ہے! وہ دیکھ، ان بچوں میں میرزا نوشہ بھی ہے۔ یہ مربی کش محسن سوز تجھے بھی․․․ نصر الله بیگ! نہیں سنتا؟
(ہاتھی کے گھنٹوں کی آواز)
آوازِ غالب: ․․․ لو وہ ہاتھی پر سے گرا! لوگ دوڑ رہے ہیں، لیکن اب وہاں کیا رکھا ہے۔ عبدالله بیگ کی طرح نصرالله بیگ بھی․․․ قصور اس کا یہ تھا کہ وہ میرزا نوشہ اسد الله بیگ کا چچا تھا۔
آوازِ مغنّی:
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
آوازِ غالب: خاک کیا خاک جواب دے گی۔ گنج ہائے گراں مایہ کا حساب میرزا نوشہ سے پوچھا چاہیے۔ لیکن وہ تو حساب سے محض ناواقف ہے۔ اسے حساب کرنے کی فرصت بھی نہیں۔ اس لیے کہ وہ طوفانِ طرب سے اٹھتی ہوئی چار موج میں ڈوب چکا ہے۔
(سارنگی کی آواز، طبلے کی تھاپ، گھنگھروؤں پر رقص کے توڑے، قلقل مینا)
آوازِ غالب: مگر وہ دودِ چراغ کا تریاکی بھی ہے۔ اسے نشۂ فکر سخن بھی رہتا ہے۔ رات کو وہ دیوانِ بیدل کے اوراق میں ڈوبتا ہے، اور خود ریختے کا بیدل بن کر اُبھرتا ہے:
گدائے طاقتِ تقریر ہے زباں تجھ سے
کہ خامشی کو ہے پیرایۂ بیاں تجھ سے
فسردگی میں ہے فریادِ بے دلاں تجھ سے
چراغِ صبح و گلِ موسمِ خزاں تجھ سے
بہار حیرتِ نظّارہ سخت جانی ہے
حنائے پائے اجل خونِ کشتگاں تجھ سے
چمن چمن گلِ آئینہ در کنارِ ہوس
امیدِ محوِ تماشائے گلستاں تجھ سے
پری بہ شیشہ و عکس رُخ اندر آئینہ
نگاہِ حیرت مشّاطہ خوں فشاں تجھ سے
نیاز پردۂ اظہارِ خود پرستی ہے
جبینِ سجدہ فشاں تجھ سے آستاں تجھ سے
اسد طلسمِ قفس میں رہے قیامت ہے
خرام تجھ سے، صبا تجھ سے، بوستاں تجھ سے
(رقص و سرود کی آوازیں تیز ہو کر ڈزالو)
آوازِ غالب: اور وہ نشے سے ذرا چونکتا ہے تو دیکھتا ہے زمانہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا:
رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے
اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
(سمندر کی آواز تیز)
دوست: حضرت آداب بجا لاتا ہوں۔ مجھے پہچانا؟
غالب: آؤ صاحب! اجی یوں نہیں، گلے سے لگو․․․ ہاں، اب ذرا حساب لگا کر بتاؤ، کتنی مدّت کے بعد ملے ہو؟
دوست: بس آپ کی شادی میں آخری بار ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں بھی اِدھر اُدھر رہا۔
غالب: تو یوں کہو اگلے جنم کے ملاقاتی ہو۔ بھائی، اس کے بعد سے تو میں کئی بار مر چکا ہوں۔ سنو، شادی کے بعد دلّی میں آ رہا۔ پنشن کا روپیہ ساڑھے باسٹھ روپے ماہوار۔ کچھ الور سے لے مرتا تھا، کچھ والدہ مرحومہ دے گذرتی تھیں۔ شعر کہتا اور فسق و فجور میں مبتلا رہتا تھا۔ گاہے گاہے دل پر داغ پڑتا سو اسے شراب سے دھو دیتا تھا۔ لے بھائی، ۱۸۲۵ء میں میرزا یوسف، جوان بھائی، دیوانہ ہو گیا۔ دوسرے برس نواب احمد بخش خاں کہ میری پنشن کے ذمّےدار تھے، لوہارو کی حکومت سے بیٹوں کے حق میں دست بردار ہوے اور پنشن کی ادائی نواب شمس الدین خاں کے ہاتھ میں آئی۔
دوست: اوہو! نواب شمس الدین احمد خاں تو آپ سے کچھ ․․․
غالب: کچھ نہیں، بہت کچھ۔ پنشن میرے حق میں بھیک سے بدتر ہو گئی۔ سرکارِ انگریزی میں داد خواہی کو کلکتے پہنچا۔ عجب شہرِ دل پذیر ہے۔ مگر خیر، دو سال وہاں تلف کیے اور نامراد دلّی واپس آیا۔ کوشش اپنی سی کیے جا رہا ہوں۔ لیکن بھائی، اب ڈوبی ہوئی اسامی ہوں۔ ہاتھ خالی دیکھ کر قرض خواہ ہاتھ پھیلائے ہوے دوڑ پڑے۔ عجب خلقت ہے ان لوگوں کی بھی۔ جب یقین ہو گیا کہ میں کچھ دے نہیں سکتا تو مانگنے آتے ہیں۔ اوندھے پیالے میں شراب ڈھونڈ رہے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ قرض کی ڈگری ہو چکی ہے۔ ادائی پر قادر نہیں۔ وارنٹ جاری ہے، مگر چوں کہ اشراف میں شمار ہوتا ہوں، گھر سے گرفتار نہیں کیا جاؤں گا۔ البتہ دروازے سے قدم نکالا کہ پکڑا گیا۔ یوں سمجھو کہ آشیانے کے قریب دامِ سخت پنہاں ہے۔
دوست: اس وقت مجھ کو آپ کا احوال معلوم کر کے نہایت قلق ہوا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ آپ خانہ قید ہیں۔
غالب: نہیں، خانہ قید بھی نہیں۔ کبھی کبھی شام کو سوار ہو کر باہر نکل لیتا ہوں۔ چلو تو چلو، تمھیں بھی تھوڑی سیر کرا دوں۔
(دروازہ کھلنے کا دھڑاکا)
یا وحشت! آنا ہی سمجھ میں نہیں آتا مری گو آئے۔ خیر تو ہے کلّو؟
کلّو: غضب ہو گیا حضور، کسی نے فریزر صاحب کو گولی مار دی۔
غالب: ولیم فریزر کو؟
دوست: رزیڈنٹ صاحب کو؟ نہیں بھائی!
کلّو: حضور، شہر کی ناکہ بندی ہو گئی ہے۔ لوگ نواب شمس الدین احمد خاں کا نام لے رہے ہیں۔
دوست: نواب شمس الدین احمد؟ ہاں جاگیر کے معاملے میں رزیڈنٹ صاحب نے نواب کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ یہ بات مشہور تو تھی کہ نواب رزیڈنٹ سے عداوت رکھتے ہیں۔ لیکن یہاں تک عداوت․․․ سمجھ میں نہیں آتا۔
غالب: نواب رزیڈنٹ سے عداوت رکھتے تھے، ہاں۔ لیکن ولیم فریزر کی موت کا سبب یہ ہے کہ غالب اس سے محبت رکھتا تھا۔
(آرکسٹرا سمندر کی آواز)
آوازِ غالب: میں آپ اپنا تماشائی بن گیا ہوں۔ نواب شمس الدین احمد خاں کے پھانسی پانے اور ان کی ریاست کی ضبطی کے بعد غالب کو سرکارِ انگریزی سے پنشن کی بھیک مانگتے دیکھتا ہوں۔ لفٹننٹ گورنر سے لے کر حضور ملکۂ معظمہ تک کے یہاں اس کو گڑگڑاتے دیکھتا ہوں۔ دیکھتا ہوں کہ وہ گھر پر جُوا کھلا رہا ہے، پکڑا جاتا ہے، قید ہوتا ہے۔ چھوٹتا ہے۔ اب مفلس ہی نہیں، بے آبرو بھی ہے۔ لیکن تین برس کے اندر درباری تاریخ نویس مقرر ہو جاتا ہے۔ حضرت ظلِ سبحانی سے خلعت پاتا ہے، خطاب پاتا ہے۔ نجم الدولہ! دبیر الملک! نظامِ جنگ! تنخواہ پاتا ہے، خوش ہوتا ہے۔ خوش ہوتا ہے اور عارف سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ عارف کو مرنا ہی تھا، اس لیے کہ غالب اسے اولاد کی طرح چاہتا تھا۔
آوازِ مغنّی:
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
جاتے ہوے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلکِ پیر جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
(آرکسٹرا۔ سمندر کی آواز)
٭٭
(داد کی آوازیں جو غزل خوانی کے دوران جاری رہتی ہیں)
غالب:
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
مجھے تو خُو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جائے
نگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
کہیں حقیقتِ جاں کاہیِ مرض لکھیے
کہیں مصیبتِ ناسازیِ دوا کہیے
کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجے
کہیں حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
روانیِ روشِ مستی و ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہے
طراوتِ چمن و خوبیِ ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے سے آ لگا غالب
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے
دوست ۱: میرزا صاحب، سمجھ میں نہیں آتا کس طرح تعریف کروں۔
غالب: تو صاحب پریشان کیوں ہوتے ہو، تعریف نہ کرو۔
دوست ۱: واہ حضّت، تعریف نہ کروں تو کافر ٹھہروں۔ بس، خاموشی از ثنائے تو حدِّ ثنائے تُست۔
دوست ۲: میں تو مقطع میں گم ہو کر رہ گیا۔ سفینہ جب کہ کنارے سے آ لگا، خدا سے کیا… ہائے ہائے، کیا سچا نقشہ ہے آپ کی زندگی کا! کیا تو وہ پریشانی کے دن تھے کہ ہم آپ کا حال دیکھتے تھے اور کڑھتے تھے کہ ایسا صاحبِ کمال اور یوں آشفتہ حال پھرے․․․
دوست ۱: خیر، خدا نے وہ دن دور کیے۔ قلعے کی ملازمت، پھر حضرتِ ظلِّ سبحانی کی استادی، شہزادوں کی استادی، دربار رام پور سے توسّل، حضرت واجد علی شاہ کی سرکار سے وظیفہ․․․
غالب: ہاں، سچ پوچھو تو غالب علیہ الرحمۃ ان دنوں مزے میں ہیں۔ کھانے کو آم، پینے کو شراب، اترانے کو رسوخ کی کمی نہیں۔ شاعری بھی ذریعۂ عزت بنی ہوئی ہے۔ ذریعۂ عزت ہی نہیں، ذریعۂ معاش بھی۔ اس پر کبھی کبھی اپنے تئیں نفریں بھی کرتا ہوں۔
دوست ۱: نفریں؟ نفریں کیسی میرزا صاحب؟ میں تو کہتا ہوں آپ نے اپنی شاعری سے کچھ بھی نہیں پایا۔ آج آپ سا دوسرا شاعر کوئی ہے؟ ایسے کلاموں پر تو اگلے شاعر ہزاروں روپے سمیٹ لیتے تھے۔
دوست ۱: ایک ایک قصیدے پر ہزاروں سمیٹ لیتے تھے۔ یہ کہیے اب وہ زمانہ نہیں رہا، ورنہ آپ کا وہ قصیدہ عرفی کی زمین میں․․․ ابھی ایک دن نواب ضیاء الدین خاں سنا رہے تھے․․․ وہ․․․ کون سی زمین تھی؟
غالب: اچھا وہ رفتم والا۔ ہاں وہ قصیدہ شاہ اودھ نصیرالدین حیدر مرحوم کی خدمت میں بھیجا تھا۔
دوست ۱: بس تو حضور، عرفی کو جلال الدین اکبر ملا، آپ کی قسمت میں نصیرالدین حیدر․․․
غالب: نہیں بھائی، یہ نہ کہو۔ نصیرالدین حیدر بھی بڑا حوصلے کا بادشاہ تھا۔ قصیدے کا قصّہ سن لو اور عبرت کھینچو۔ یہ قصیدہ منشی محمد حسن کی معرفت وزیرِ اودھ روشن الدولہ کے پاس اور روشن الدولہ کے توسط سے نصیرالدین حیدر کے پاس گذرا۔ جس دن گذرا اسی دن پانچ ہزار روپے بھیجنے کا حکم ہوا۔
دوست ۱: و الله؟
غالب: سنے جاؤ۔ منشی محمد حسن نے مجھ کو اس کی کچھ اطلاع نہ دی۔ تو وہ کہیے مظفر الدولہ لکھنؤ سے دلّی آئے، انھوں نے یہ راز مجھ پر ظاہر کیا اور کہا، خدا کے واسطے منشی محمد حسن کو میرا نام نہ لکھنا۔ ناچار میں نے امام بخش ناسخ کو لکھا کہ تم دریافت کر کے لکھو کہ میرے قصیدے پر کیا گذری۔ انھوں نے جواب لکھا کہ پانچ ہزار روپے ملے، تین ہزار روشن الدولہ نے کھائے، دو ہزار منشی محمد حسن کو دیے اور فرمایا کہ اس میں سے جو مناسب سمجھو غالب کو بھیج دو۔ کیا اس نے ہنوز تم کو کچھ نہ بھیجا؟ میں نے لکھ بھیجا کہ مجھے پانچ روپے بھی نہیں ملے۔ اس کے جواب میں انھوں نے لکھا کہ اب تم مجھے خط لکھو۔ اس کا مضمون یہ ہو کہ میں نے بادشاہ کی تعریف میں قصیدہ بھیجا ہے اور یہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ قصیدہ حضور میں گذرا، مگر یہ نہیں جانا کہ اس کا صلہ کیا مرحمت ہوا۔ میں کہ ناسخ ہوں، اپنے نام کا خط بادشاہ کو پڑھوا کران کا کھایا ہوا روپیہ ان کے حلق سے نکال کر تم کو بھیج دوں گا۔
دوست ۲: آہاہا، ناسخ تو ناسخ!
غالب: بھائی، یہ خط لکھ کر میں نے ڈاک میں روانہ کیا۔ آج خط روانہ ہوا، تیسرے دن شہر میں خبر اُڑی کہ نصیرالدین مر گیا۔ اب کہو، میں کیا کروں اور ناسخ کیا کرے؟
دوست ۱: الله الله! اس تنگ دستی میں پانچ ہزار کی رقم کا آتے آتے ہاتھ سے نکل جاتا۔
غالب: خیر وہ دن بھی رفت گزشت ہوے۔ اب ان کا ذکر کیا۔ اچھا صاحبو، اب میں روٹی کھانے جاتا ہوں۔ یار زندہ صحبت باقی۔
دونوں دوست: خدا حافظ، خدا حافظ۔
(وقفہ)
غالب: (بلند آواز) ارے بھائی، حضرت موسیٰ کی بہن کہاں ہیں؟ (قدرے دھیمی آواز) اچھا یہیں تشریف رکھتی ہیں؟ لاؤ صاحب، کھانا دلواؤ۔ پھر لطفِ خاص فرماؤ، آم کھلواؤ۔ اچھی طرح بھیگ گئے ہیں نا؟
امراؤ بیگم: توبہ ہے، وظیفہ پڑھنا دوبھر کر دیا۔
غالب: اچھا اچھا، خدا سے راز و نیاز ہو رہے ہیں۔ کیوں نہ ہو، حضرت موسیٰ کی بہن جو ٹھہریں۔ اے بی کبھی تو الله کو چین سے بیٹھنے دیا کرو۔
امراؤ بیگم: گستاخی کے کلمے منھ سے نکالتے چلے جا رہے ہیں۔ خود تو کبھی توفیق نہیں ہوتی․․․
غالب: توفیق بہ اندازۂ ہمّت ہے بڑی بی۔ ہم تو یوں کہتے ہیں:
سفینہ جب کہ کنارے سے آ لگا غالب
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے
امراؤ بیگم: سبحان الله!
غالب: کیا! یہ کون بولا؟
امراؤ بیگم: کہاں؟
غالب: ابھی کسی نے میرے شعر کی تعریف کی۔ آواز کچھ آپ کی سی معلوم ہوئی تھی۔
امراؤ بیگم: اچھا شعر ہو گا تو تعریف کیوں نہ ہو گی۔
غالب: کیوں صاحب، مجھے تو اس شعر میں کوئی سقم نظر نہیں آتا۔ پھر بھلا یہ آپ کو اچھا کیوں معلوم ہوا؟
امراؤ بیگم: سن کر مجھے خیال آگیا کہ الله نے کن کن دکھوں کے بعد ناؤ کنارے لگائی ہے۔
غالب: (ٹھنڈی سانس) ہوں۔ سفینہ جب کہ کنارے سے آ لگا․․․ لیکن کیا واقعی سفینہ کنارے سے․․․
(آواز توپوں کے دھماکوں میں ڈوب جاتی ہے۔ غدر کا تاثر۔ گھوڑوں کی ٹاپیں اور ہنہناہٹ۔ تلواروں کی جھنکار۔ بندوق کے فائر۔ لوگوں کا شور۔)
آوازِ غالب:
ہے موج زن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا میرے آگے
(غدر کی آوازیں تیز تر ہو کر سمندر کی آواز میں ڈزالو)
آوازِ غالب: وہ سفینہ کہ کنارے سے آ لگا تھا، ۱۸۵۷ء میں پھر قلزم خوں کی موجوں پر تھا۔ ناخدا کوئی نہ تھا جس کی خدا سے شکایت کرتا۔ قلعے کی تنخواہ گئی، سرکارِ انگریزی کی پنشن گئی، دربارِ اودھ کا وظیفہ گیا۔ وہ آگ بھڑکی، سرد ہوئی اور غالب کو خاکستر کر گئی۔ اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو۔ لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں۔ انگریز کی قوم میں سے جو قتل ہوے ان میں کوئی میرا امید گاہ تھا اور کوئی میرا شفیق، اور کوئی میرا دوست، اور کوئی میرا یار، اور کوئی میرا شاگرد۔ ہندوستانیوں میں کچھ عزیز، کچھ دوست، کچھ شاگرد، کچھ معشوق، وہ سب کے سب خاک میں مل گئے۔
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
ذوقِ نظّارۂ جمال کہاں
دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
شورِ سودائے خطّ و خال کہاں
تھی وہ ایک شخص کے تصوّر سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں
ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشق
واں جو جائیں گرہ میں مال کہاں
فکرِ دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں
ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
(سمندر کی آواز)
آوازِ غالب: غالب ٹھوکریں کھا رہا ہے، غالب بہرا ہو رہا ہے، غالب اندھا ہو رہا ہے۔ لیکن میں اسے نہیں دیکھ رہا ہوں۔ میرے سامنے وہ دشتِ خیال ہے جس میں اسد الله خاں ساری عمر سرگرداں رہا۔ یہ دشتِ خیال بھی ایک عالم ہے۔ زمین کے آئینے پر آفتاب کا عکس پڑ رہا ہے۔ کبھی موجِ رنگ کے طوفان میں شمعیں جلتی ہیں، کبھی اُڑتی ہوئی ریت میں بھاگتے ہوے آہو کی آنکھ چمکتی ہے۔ کبھی کوئی گریباں چاک ہوتا ہے اور سرِ کہسار تک جادہ بن جاتا ہے۔ کبھی فرشِ گل پر شاخِ گل کا سایہ پڑتا ہے۔ یہ سب کیا ہے، یہ سب کیوں ہے، میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ میں صرف دیکھ رہا ہوں، اور ڈوب رہا ہوں۔ مگر․․․ میں کچھ اور دیکھنا چاہتا ہوں۔ معلوم نہیں کیوں، لیکن․․․ کاشکے ڈوبنے سے پہلے صرف ایک بار․․․ کوئی ایک پھول․․․
(سمندر کی آواز تیز ہو کر ابتدا والی المیہ موسیقی میں ڈزالو)
٭٭
باقر علی خاں: حکیم صاحب، ذرا دیکھیے، کیا ختم ہو گئے؟
حکیم محمود خاں: ختم ہی سمجھیے، معلوم نہیں کس چیز میں دم اٹکا ہوا ہے۔
باقر علی خاں: کون چیز ہو سکتی ہے۔ انھیں تو اب خواہش ہی نہیں رہ گئی تھی ․․․
(دروازہ کھلنے کی دھیمی آواز)
ہاں، داروغہ کلّو؟
کلّو: بیگم صاحب نے کہوایا ہے کہ بےہوش ہونے سے پہلے انھوں نے کہا تھا مرزا جیون بیگ کو بلاؤ۔
حکیم محمود خاں: مرزا جیون بیگ؟
باقر علی خاں: میری بیٹی کو وہ پیار سے مرزا جیون بیگ کہتے تھے۔ ہاں، سچ ہے، داروغہ کلّو، جاؤ جندو بیگم کو لے آؤ۔
کلّو: یہ کیا آ گئی ہیں۔
باقر علی خاں: جندو بیگم، بیٹی آؤ، اِدھر آؤ۔ رو نہیں۔
جندو بیگم: (روتے ہوے) دادا ابّا کیوں نہیں بولتے؟
حکیم محمود خاں: آؤ بیٹی، ذرا ان کو پکارو۔ وہ ضرور بولیں گے، اچھے ہو جائیں گے۔ ہاں، آؤ، شاباش۔
باقر علی خاں: کان میں پکارو بیٹی، شاباش۔
(وقفہ)
جندو بیگم: (تیز آواز) دادا ابّا!
(سمندر کی ہلکی آواز)
جندو بیگم: (تیز تر آواز) دادا ابّا!
(بازگشت کی طرح سمندر کی آواز بہت تیز ہو کر غائب)
کلّو: دیکھیے دیکھیے۔ وہ آنکھیں کھول رہے ہیں!
حکیم محمود خاں: انا لله و اِنّا الیہ راجعون۔ ہا! اسد الله خاں تمام ہوا۔
باقر علی خاں: داروغہ کلّو، جاؤ، خبر کر دو۔ (رو کر) مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں․․․
(سمندر کی تیز آواز میں غالب کی مدھم آواز)
آوازِ غالب:
رہروِ تفتۂ در رفتہ بہ آبم غالب
توشۂ بر لبِ جو ماندہ نشان است مرا
(صرف سمندر کی آواز)
نیر مسعود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے