رحمۃللعالمین ﷺ

رحمۃللعالمین ﷺ
الفاظ کے دریا نے کیا رنگ دکھایا
عنوان ”محمد”جومیرے سامنے اؔیا
پھر میرے قلم نے بھی شور مچایا
احساس محبت بھی اسے تھامنے اؔیا
حروف سیرت النبی ﷺ کانام سنتےہی بیتاب ہوگئےاورالفاظ جملوں کی اؔغوش سے سر اٹھا کر کہنے لگے ہم بھی ہم بھی۔
لیکن
میری سوچ کےپہروں پہ صداقت ہےنگہباں
شرافت کایہ سوال ہےکہ میں ہوں کہاں؟
تم صبرکرومیں صبرہوں لکھتی پہلے
شجاعت سے یہ درخواست کہ تومنہ نابنا
چل ٹھہرتو شورمسلسل تو ناکر
اے حلم رک جا!!!اب تجھےکیاہوا؟؟؟
اےسخاوت چل شروع تجھ سےہیں کرتے
لیکن تو صداقت کی جگہ پہ تواؔ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اففففففف!!!اے ذکاوت،اےعبادت،اےعفاوت
ذراچین سےبیٹھ ۔۔۔یوں ہلچل نا مچا
اےقلم توچھوڑسبھی کچھ اورتسمیہ پڑ
قراؔن میں جھانک اور رحمت ہی شروع کر
💐💐وماؔارسلنک الا رحمۃ للعالمین💐💐
قلم اور صفات کی جنگ سے بےنیاز چشم تصور بازار طائف میں جاپہنچتی ہے۔جہاں اوباش لڑکے رسول اللہ ﷺ پرپتھربرسارہےہوتےہیں۔زیدبن حارثہ رضی اللہ بطورڈھال ہیں۔پھربھی نعلین مبارک لہو سےتر ہیں۔وہ ایک پل اؔرام کو ٹھہرتے ہیں توغنڈےانہیں اٹھنےاوردوڑنےپرمجبورکرتےہیں۔عتبہ کاباغ انکی پناہ گاہ بنتاہے۔جبرائیل امیں اورپہاڑوں کافرشتہ دکھائ دیتےہیں اور اجازت کےطلبگارہوتےہیں کہ ایک اشارہ ہو تواہل طائف کودوپہاڑوں میں کچل ڈالیں۔
مگرحیرت کو بھی یہ دیکھ کہ حیرت ہوتی ہےکہ رسول اللہ ﷺ انکےلیے ہدایت کی دعاکرتےہیں۔بحررحمت کی پرسکون موجوں میں طوفان اٹھتا ہے۔
چشم تصوررحمت کی سکرین پہ اس کوڑے کو دیکھ سکتی ہےجوروز نبی اکرمﷺپرپھینکا جاتاہے۔وہ چادر صاف صاف دکھائ دیتی ہےجوعقبہ بن ابی معیط رسول اللہ ﷺ کے گلے میں ڈال کربل دیتا ہے حالانکہ اؔپﷺحالت نماز میں ہوتے ہیں۔وہ کانٹے بخوبی دکھائ دیتے ہیں جو ام جمیل انکی راہ میں بچھایا کرتی تھی۔تصور کی اؔنکھ وہ پتھر دیکھ سکتی ہے جو ابوجہل رسول اللہ ﷺ کے گھر پھینکا کرتا تھا۔
وہ قتل رسولﷺ کی سازشیں،صداقت و امانت کے مصدقوں کا ساحر و مجنوں کے القبات سے نوازنا۔ وہ احد میں رسول اللہ ﷺ کے زخم اور شہید دندان مبارک، وہ مسلسل تیرہ برس کی اذیتیں مگر فتح مکہ پر عام معافی کا اعلان،وہ حضرت حمزہ رضی اللہ کا کلیجہ،،،،، سب صاف دکھائ دیتا ہے مگر
بدلے میں رسول اللہ ﷺ کاحسن سلوک چشم عاصی کو اؔبدیدہ کر دیتا ہے۔
تاریخ کے پنے وہ درخت ہرگز نہیں بھولےجسکے نیچے رسول رحمت ﷺ خطبہ دیا کرتے تھےپھر جب منبر پر خطبہ دیا تووہ درخت احساس جدائ سے بچوں کیطرح رویا۔
🌺وہ اونٹ جو رسول اللہ ﷺ سے اپنے اؔقا کی شکایت کرتا۔
🌺وہ ہرن جسے دیہاتی باندھ کہ سو جاتا ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے اپنے بچوں سے ملاقات کی درخواست کرتی ہے۔
🌺وہ پتھر جا ابو جہل کے ہاتھ میں عقیدت رسول ﷺ سے کلمہ پڑھتا ہے۔
🌺وہ سانپ جو دیدار نبی کوغارحرا میں اؔتا ہے۔
🌺وہ چڑیا جسکےبچوں کوصحابہ کرام اسکی ماں سے جدا کرتے ہیں تو رسول رحمت ﷺ انہیں لوٹانے کا حکم دیتے ہیں۔
🌺ام معبد کی بکری جسے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک کے لمس سے شفا ملتی ہے۔
یہ ”رحمۃ للعالمین” ہیں
ہاں وہی جنہوں نے جہالت کی تاریکی میں علم کا نور پھیلایا،انسانوں کے خون کی پیاسی سرزمین عرب کو امن کے درس سے سیراب کیا۔عورت کو پیر کی جوتی سے سر کا تاج بنایا،زنا،جوا،شراب،چوری اور رہزنیکو فراموش کروا کےاخوت،اخلاص،ایثار احساس کےدیپ جلائے۔عجائب پرستی کے دور میں معراج کا قصہ سنایا۔معجزوں اور شعبدوں کی دنیا میں قراؔن دکھایا،چاند کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ظلم ووحشت،درنگی و بربریتکی بجائے عدل،صلہ رحمی،عبدیت سکھائ۔مالک حقیقی کے باغیوں کو صراط مستقیم دکھائ۔
انسانیت ہلاکت کے دہانے پہ کھڑی تھیکہ جہاں وقت کا ایک تھپیڑا اسے تباہ کردیتا مگررسول اللہ ﷺنے محبت اور حسن اخلاق سے انسانیت کا ہاتھ تھاما۔انہیں گلے لگایاانکی منزل کا تعین کروایا۔
قارئین گرامی!!
رسول اللہ ﷺکے اخلاق حسنہ نے اسلام کے ستونوں کو مضبوطی بخشی۔صرف ایک سینے سے دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کا پرچم لہرایا۔محمد مصطفیٰﷺ۶۳ برس زندگی گزاری،مگر اؔج ساڈھے چودا سو سال بعد بھی انکا کردار، انکی سیرت، ان سےمحبت وعقیدت زندہ ہے۔
اؔئیں اپنے کردار سنواریں! بد سلوکی کرنے والوں سے حسن سلوک کریں،جفا کرنے والوں سے وفا کریں۔ قطع تعلقی کرنیوالوں سے صلہ رحمی کریں۔گالیاں دینے والوں کو دعاوں سے نوازیں۔
اپنے تو کیا عدو بھی شکایت نہ کر سکیں
ایسا طرز زندگی میری جاں اختیار کر🌺🌺
ہمارے پاس اسوہء رسولﷺ ہے۔یہی دارین کی فلاح کی کنجی ہے۔ یہی حب رسول ﷺ کا تقاضہ ہےاور یہی رب کو پانے کا ذریعہ ہے۔
دعا گو ہوں کہ رب کریم ہمیں اسوہ حسنہ پہ عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اؔمین۔
عفرا عبد الکریم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے