رحمتِ خداوندی کے پھول

رحمتِ خداوندی کے پھول

زمیندار، اخبار میں جب ڈاکٹر راتھر پر رحمت خدا وندی کے پھول برستے تھے تو یار دوستوں نے غلام رسول کا نام ڈاکٹر راتھر رکھ دیا۔ معلوم نہیں کیوں، اس لیے کہ غلام رسول کو ڈاکٹرراتھر سے کوئی نسبت نہیں تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایم۔ بی بی۔ ایس میں تین بار فیل ہو چکا تھا۔ مگر کہاں ڈاکٹرراتھر، کہاں غلام رسول۔ ڈاکٹرراتھر ایک اشتہاری ڈاکٹر تھا جو اشتہاروں کے ذریعے سے قوتِ مردمی کی دوائیں بیچتا تھا۔ خدا اور اس کے رسول کی قسمیں کھا کھا کر اپنی دواؤں کو مجرب بتاتا تھا اور یوں سینکڑوں روپے کماتا تھا۔ غلام رسول کو ایسی دوائیوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ شادی شدہ تھا، اور اس کو قوت مردمی بڑھانے والی چیزوں کی کوئی حاجت نہیں تھی، لین پھر بھی اس کے یار دوست اس کو ڈاکٹر راتھر کہتے تھے۔ اس کا یا کلپ کو اس نے تسلیم کرالیا تھا۔ اس لیے کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ یہ نہیں تھا۔ اس کے دوستوں کو یہ نام پسند آگیا تھا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ غلام رسول کے مقابلے میں ڈاکٹرراتھر کہیں زیادہ موڈرن ہے۔ اب غلام رسول کو ڈاکٹر راتھر ہی کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ اس لیے کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنا چاہیے۔ ڈاکٹر راتھر میں بے شمار خوبیاں تھیں۔ سب سے بڑی خوبی اس میں یہ تھی کہ وہ ڈاکٹر نہیں تھا اور نہ بننا چاہتا تھا۔ وہ ایک اطاعت مند بیٹے کی طرح اپنے ماں باپ کی خواہش کے مطابق میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا۔ اتنے عرصے سے کہ اب کالج کی عمارت اس کی زندگی کا ایک جزو بن گئی تھی۔ وہ یہ سمجھنے لگا تھا کہ کالج اس کے کسی بزرگ کا گھر ہے جہاں اس کو ہر روز سلام عرض کرنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔ اس کے والدین مصر تھے کہ وہ ڈاکٹری پاس کرے۔ اس کے والد کو یقین تھا کہ وہ ایک کامیاب ڈاکٹر کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ اپنے بڑے لڑکے کے متعلق مولوی صباح الدین نے اپنی بیوی سے پیش گوئی کی تھی کہ وہ بیرسٹر ہو گا۔ چنانچہ جب اس کو ایل، ایل، بی پاس کراکے لندن بھیجا گیا توہ بیرسٹر بن کر ہی آیا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی پریکٹس دوسرے بیرسٹوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تھی۔ گو ڈاکٹر راتھر تین مرتبہ ایم۔ بی بی۔ ایس کے امتحان میں فیل ہو چکا تھا، مگر اس کے بات کو یقین تھا کہ وہ انجام کاربہت بڑا ڈاکٹر بنے گا اور ڈاکٹر راتھر اپنے باپ کا اس قدر فرماں بردار تھا کہ اس کو بھی یقیناًتھا کہ ایک روز وہ لنڈن کے ہارلے اسٹریٹ میں بیٹھا ہو گا اور اس کی ساری دنیا میں دھوم مچی ہو گی۔ ڈاکٹر راتھر میں بے شمار خوبیاں تھیں۔ ایک خوبی یہ تھی کہ سادہ لوح تھا۔ لیکن سب سے بڑی برائی اس میں یہ تھی کہ پیتا تھا اور اکیلا پیتا تھا۔ شروع شروع میں تو اس نے بہت کوشش کی کہ اپنے ساتھ کسی اور کو نہ ملائے لیکن یار دوستوں نے اس کو تنگ کرنا شروع کردیا۔ ان کو اس کا ٹھکانا معلوم ہو گیا۔

’’سیوائے بار‘ میں شام کو سات بجے پہنچ جائے مجبوراً ڈاکٹر راتھر کو نہیں اپنے ساتھ پلانا پڑتی۔ یہ لوگ اس کا گن گاتے، اس کے مستقبل کے متعلق بھی حوصلہ افزا باتیں کرتے۔ راتھر نشے کی ترنگ میں بہت خوش ہوتا اوراپنی جیب خالی کردیتا۔ پانچھ چھ مہینے اسی طرح گزر گئے۔ اس کو اپنے باپ سے دو سوروپے ماہوار ملتے تھے۔ رہتا الگ تھا۔ مکان کا کرایہ بیس روپے ماہانہ تھا۔ دن اچھے تھے۔ روز راتھر کی بیوی کو فاقے کھینچنے پڑتے، لیکن پھر بھی اس کا ہاتھ تنگ ہو گیا اس لیے کہ راتھر کو دوسروں کو پلانا پڑتی تھی۔ ان دنوں شراب بہت سستی تھی۔ آٹھ روپے کی ایک بوتل۔ ادھر چار روپے آٹھ آنے میں ملتا تھا۔ مگر ہرروز ایک ادھار لینا، یہ ڈاکٹر راتھر کی بساط سے باہر تھا اس نے سوچا کہ گھرمیں پیا کرے۔ مگر یہ کیسے ممکن تھا۔ اس کی بیوی فوراً طلاق لے لیتی اس کو معلوم ہی تھا کہ اس کا خاوند شراب کا عادی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو شرابیوں سے سخت نفرت تھی، نفرت ہی نہیں، ان سے بہت خوف آتا تھا۔ کسی کی سرخ آنکھیں دیکھتی توڈر جاتی، ہائے، ڈاکٹر صاحب، کتنی ڈراؤنی آنکھیں تھیں اس آدمی کی۔ ایسا لگتا تھا کہ شرابی ہے۔ ‘‘

اور ڈاکٹرراتھر دل ہی دل میں سوچتا کہ اس کی آنکھیں کیسی ہیں، کیا پی کر آنکھوں میں سرخ ڈورے آتے ہیں؟۔ کیا اس کی بیوی کو اس کی آنکھیں ابھی تک سرخ نظر نہیں آئیں؟۔ کب تک اس کاراز راز رہے گا؟۔ منہ سے بو تو ضرور آتی ہو گی۔ کیا وجہ ہے کہ اس کی بیوی نے کبھی نہیں سونگھی۔ پھر وہ یہ سوچتا

’’نہیں‘‘

میں بہت احتیاط برتتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ منہ پرے کرکے اس سے بات کی ہے۔ ایک دفعہ اس نے پوچھا تھا کہ آپ کی آنکھیں آج سرخ کیوں ہیں تو میں نے اس سے کہا تھا، دھول پڑی گئی ہے۔ اسی طرح ایک بار اس نے دریافت کیا تھا، یہ بو کسی ہے، تو میں نے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا، آج سیگار پیا تھا۔ بہت بو ہوتی ہے کم بخت میں۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر اکیلا پینے کا عادی تھا۔ اس کو ساتھی نہیں چاہیے تھے۔ وہ کنجوس تھا۔ اس کے علاوہ اس کی جیب بھی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ دوستوں کو پلائے اس نے بہت سوچا کہ ایسی ترکیب کیا ہوسکتی ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یعنی یہ مسئلہ کچھ اس طرح حل ہو کہ وہ گھرمیں پیا کرے جہاں اس کے دوستوں کو شرکت کرنے کی جرات نہیں ہوسکتی تھی۔ ڈاکٹر راتھر، پورا ڈاکٹر تو نہیں تھا، لیکن اس کو ڈاکٹری کی چند چیزوں کا علم ضرور تھا۔ وہ اتنا جانتا تھا کہ دوائیں بوتلوں میں ڈال کر دی جاتی ہیں۔ اور ان پر اکثر یہ لکھا ہوتا ہے۔

’’شیک دی بوٹل بی فور یوز‘‘

۔ اس نے اتنے علم میں اپنی ترکیب کی دیواریں استوار کیں۔ آخر میں بہت سوچ بچار کے بعد اس نے یہ سوچا کہ وہ گھر ہی میں پیا کرے گا۔ سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ وہ دوا کی بوتل میں شراب ڈلوا کر گھر رکھ دے گا۔ بیوی سے کہے گا کہ اس کے سر میں درد ہے اور اس کے استاد ڈاکٹر سید رمضان علی شاہ نے اپنے ہاتھ سے یہ نسخہ دیاہے اور کہا ہے کہ شام کو ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک خوراک پانی کے ساتھ پیا کرے، انشاء اللہ شفا ہو جائے گی۔ یہ ترکیب تلاش کرلینے پر ڈاکٹر راتھر بے حد خوش ہوا۔ اپنی زندگی میں پہلی بار اس نے یوں محسوس کیا جیسے اس نے ایک نیا امریکا دریافت کرلیا ہے، چنانچہ صبح سویرے اٹھ کر اس نے اپنی بیوی سے کہا۔

’’نسیمہ، آج میرے سرد میں بڑا درد ہورہا ہے۔ ایسا لگتا ہے پھٹ جائے گا۔ نسیمہ نے بڑے تردو سے کہا۔

’’کالج نہ جائیے آج۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر مسکرایا۔

’’پگلی، آج تو مجھے ضرور جانا چاہیے۔ ڈاکٹر سید رمضان علی شاہ صاحب سے پوچھوں گا۔ ان کے ہاتھ میں بڑی شفاہے۔ ‘‘

’’ہاں ہاں، ضرور جائیے۔ میرے متعلق بھی ان سے بات کیجیے گا۔ ‘‘

نسیمہ کو سلان الرحم کی شکایت تھی جس سے ڈاکٹر راتھر کو کوئی دلچسپی نہیں تھی، مگر اس نے کہا۔

’’ہاں ہاں بات کروں گا۔ مگر مجھے یقین ہے کہ وہ میرے لیے کوئی نہایت ہی کڑی اور بدبو دار دوا تجویز کردیں گے۔ ‘‘

’’آپ خوڈد ڈاکٹر ہیں، دوائیں مٹھائیاں تو نہیں ہوتیں۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے، لیکن بدبو دار دواؤں سے مجھے نفرت ہے۔ ‘‘

’’آپ دیکھیے تو سہی کیسی دوا دیتے ہیں۔ ابھی سے کیوں ایسی رائے قائم کررہے ہیں آپ؟‘‘

’’اچھا‘‘

کہہ کر ڈاکٹر راتھر اپنے سر کو دباتا کالج چلا گیا۔ شام کو وہ دوا کی بوتل میں وسکی ڈلوا کر لے آیا اور اپنی بیوی سے کہا۔

’’میں نے تم سے کہا تھا نا کہ ڈاکٹر سیدرمضان علی شاہ ضرور کوئی ایسی دوا لکھ کر دیں گے۔ جو بے حد کڑی اور بدبودار ہو گی۔ لو، ذرا سے سونگھو۔

’’بوتل کا کارک اتار کر اس نے بوتل کا منہ اپنی بیوی کی ناک کے ساتھ لگا دیا۔ اس نے سونگھا اور ایک دم ناک ہٹا کر کہا۔

’’بہت واہیات سی بو ہے۔ ‘‘

’’اب ایسی دوا کون پیے؟‘‘

’’نہیں نہیں۔ آپ ضرور پئیں گے۔ سر کا درد کیسے دور ہو گا۔ ‘‘

’’ہو جائے گا اپنے آپ۔ ‘‘

’’اپنے آپ کیسے دور ہو گا۔ یہی تو آپ کی بری عادت ہے۔ دوا لاتے ہیں مگر استعمال نہیں کرتے۔ ‘‘

’’یہ بھی کوئی دوا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے شراب ہے۔ ‘‘

’’آپ تو جانتے ہی ہیں کہ انگریزی دواؤں میں شراب ہوا کرتی ہے۔ ‘‘

’’لعنت ہے ایسی دواؤں پر!‘‘

ڈاکٹر راتھر کی بیوی نے خوراک کے نشان دیکھے اور حیرت سے کہا۔

’’اتنی بڑی خوراک‘

ڈاکٹر راتھر نے بُرا سا منہ بنایا۔

’’یہی تو مصیبت ہے‘‘

’’آپ مصیبت مصیبت نہ کہیں، اللہ کا نام لے کر پہلی خوراک پئیں۔ پانی کتناڈ النا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر نے بوتل اپنی بیوی کے ہاتھ سے لی اورمصنوعی طور پر بادل ناخواستہ کہا۔

’’سوڈا منگوانا پڑے گا۔ عجیب و غریب دوا ہے۔ پانی نہیں سوڈا۔ ‘‘

یہ سن کر نسیمہ نے کہا۔

’’سوڈا اس لیے کہا ہو گا کہ آپ کا معدہ خراب ہے۔ ‘‘

’’خدا معلوم کیا خراب ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کرڈاکٹر راتھر نے ایک خوراک گلاس میں ڈالی۔

’’بھئی خدا کی قسم میں نہیں پیوں گا۔ ‘‘

بیوی نے بڑے پیار سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔

’’نہیں نہیں۔ پی جائیے۔ ناک بند کرلیجیے۔ میں اسی طرح فیور مکسچر پیا کرتی ہوں۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر نے بڑے نخروں کے ساتھ شام کا پہلا پیگ پیا۔ بیوی نے اس کو شاباش دی اور کہا۔

’’پندرہ منٹ کے بعد دوسری خوراک۔ خدا کے فضل و کرم سے درد یوں چٹکیوں میں دورہو جائے گا۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر نے سارا ڈھونگ کچھ ایسے خلوص سے رچایا تھا کہ اس کومحسوس ہی نہ ہوا کہ اس نے دوا کے بجائے شراب پی ہے، لیکن جب ہلکا سا درد اس کے دماغ میں نمودار ہوا تو وہ دل ہی دل میں خوب ہنسا۔ ترکیب خوب تھی۔ اس کی بیوی نے عین پندرہ منٹ کے بعد دوسری خوراک گلاس میں انڈیلی۔ اس میں سوڈا ڈالا اور ڈاکٹر راتھر کے پاس لے آئی۔

’’یہ لیجئے دوسری خوراک۔ کوئی ایسی بری بُو تو نہیں ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر نے گلاس پکڑ کر بڑی بددلی سے کہا، تمہیں پینا پڑے تو معلوم ہو۔ خدا کی قسم شراب کی سی بُو ہے۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو!‘‘

’’آپ تو بالکل میری طرح ضد کرتے ہیں۔ ‘‘

’’نسیمہ، خدا کی قسم ضد نہیں کرتا۔ ضد کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے، لیکن۔ خیر، ٹھیک ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر ڈاکٹر راتھر نے گلاس منہ سے لگایا اور شام کا دوسرا پیگ غٹاغٹ چڑھا گیا۔ تین خوراکیں ختم ہو گئیں۔ ڈاکٹرراتھر نے کسی قدر افاقہ محسوس کیا، لیکن دوسرے روز پھر سر میں درد عود کر آیا۔ ڈاکٹر راتھر نے اپنی بیوی سے کہا۔

’’ڈاکٹر سید رمضان علی شاہ نے کہا ہے کہ یہ مرض آہستہ آہستہ دور ہو گا، لیکن دوا کا استعمال برابر جاری رہنا چاہیے۔ خدا معلوم کیا نام لیا تھا انھوں نے بیماری کا۔ کہا تھا معمولی سر کا درد ہوتا تو دو خوراکوں ہی سے دور ہو جاتا۔ مگر تمہارا کیس ذرا سیریس ہے۔

’’یہ سن کر نسیمہ نے تردو سے کہا۔

’’تو آپ کو دوا اب باقاعدہ پینی پڑے گی۔ ‘‘

’’میں نہیں جانتا۔ تم وقت پر دے دیا کرو گی تو قہر درویش برجان درویش پی لیا کروں گا۔ ‘‘

نسیمہ نے ایک خوراک سوڈے میں حل کرکے اس کو دی۔ اس کی بو ناک میں گھسی تو متلی آنے لگی مگر اس نے اپنے خاوند پر کچھ ظاہر نہ ہونے دیا۔ کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ وہ پینے سے انکار کردے گا۔ ڈاکٹر راتھر نے تین خوراکیں اپنی بیوی کے بڑے اصرار پر پیں۔ وہ بہت خوش تھی کہ اس کا خاوند اس کا کہا مان رہا ہے، کیونکہ بیوی کی بات ماننے کے معاملے میں ڈاکٹر بہت بدنام تھا۔ کئی دن گزر گئے۔ خوراکیں یپنے اور پلانے کا سلسلہ چلتا رہا۔ ڈاکٹر راتھر بڑا مسرور تھا کہ اس کی ترکیب سود مند ثابت ہوئی۔ اب اسے دوستوں کا کوئی خدشہ نہیں تھا۔ ہر شام گھر میں بسر ہوتی۔ ایک خوراک پیتا اور لیٹ کر کوئی افسانہ پڑھنا شروع کردیا۔ دوسری خوراک عین پندرہ منٹ کے بعد اس کی بیوی تیار کرکے لے آتی۔ اسی طرح تیسری خوراک اس کو من مانگے مل جاتی۔ ڈاکٹر راتھر بے حد مطمئن تھا۔ اتنے دن گزر جانے پر اس کے اور اس کی بیوی کے لیے یہ دوا کا سلسلہ ا یک معمول ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر راتھر اب ایک پوری بوتل لے آیا تھا۔ اس کا لیبل وغیرہ اتار کر اس نے اپنی بیوی سے کہا تھا۔

’’کیمسٹ میرا دوست ہے۔ اس نے مجھ سے کہا۔ آپ ہر روز تین خوراکیں لیتے ہیں، دوا آپ کو یوں مہنگی پڑتی ہے۔ پوری بوتل لے جائیے۔ اس میں سے چھوٹی نشانوں والی بوتل میں ہر روز تین خوراکیں ڈال لیا کیجیے۔ بہت سستی پڑے گی اس طرح آپکو یہ دوا!‘‘

یہ سن کر نسیمہ کوخوش ہوئی کہ چلو بچت ہو گئی۔ ڈاکٹر راتھر بھی خوش تھا کہ اس کے کچھ پیسے بچ گئے، کیونکہ روزانہ تین پیگ لینے میں اسے زیادہ دام دینے پڑے تھے۔ اور بوتل آٹھ روپوں میں مل جاتی تھی۔ کالج سے فارغ ہو کر ڈاکٹر راتھر ایک دن گھر آیا تو اس کی بیوی لیٹی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر راتھر نے اس سے کہا۔

’’نسیمہ کھانا نکالو، بہت بھوک لگی ہے۔ ‘‘

نسیمہ نے کچھ عجیب سے لہجے میں کہا۔

’’کھانا۔ کیا آپ کھانا کھا نہیں چکے۔ ‘‘

’’نہیں تو۔ ‘‘

’’نسیمہ نے ایک لمبی، نہیں‘ کہی۔

’’آپ۔ کھانا کھا چکے ہیں۔ میں نے آپ کو دیا تھا۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر نے حیرت سے کہا۔

’’کب دیا تھا۔ میں ابھی ابھی کالج سے آرہا ہوں۔ ‘‘

نسیمہ نے ایک جمائی لی۔

’’جھوٹ ہے۔ آپ کالج تو گئے ہی نہیں۔ ‘‘

ڈاکٹرراتھر نے سمجھا، نسیمہ مذاق کررہی ہے، چنانچہ مسکرایا۔

’’چلو اٹھو، کھانا نکالوسخت بھوک لگی ہے۔ ‘‘

نسیمہ نے ایک اور لمبی

’’نہیں‘‘

کہی۔ آپ جھوٹ بولتے ہیں میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا تھا۔

’’کب؟۔ حد ہو گئی ہے۔ چلو اٹھو، مذاق نہ کرو۔

’’یہ کہہ کر ڈاکٹر راتھر نے اپنی بیوی کا بازو پکڑا۔

’’خدا کی قسم میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔ ‘‘

نسیمہ کھکھلا کر ہنسی۔

’’چوہے۔ آپ یہ چوہے کیوں نہیں کھاتے؟‘‘

ڈاکٹرراتھرنے بڑے تعجب سے پوچھا۔

’’کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ ‘‘

نسیمہ نے سنجیدگی اختیار کرکے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے خاوند سے کہا۔

’’میں۔ میں۔ سرد میں درد تھا میرے۔ آپکی دوا کی دو خو۔ خو۔ خوراکیں پی ہیں۔ چوہے۔ چوہے بہت ستاتے ہیں۔ ان کو مارنے والی گولیاں لے آئیے۔ کھانا؟۔ نکالتی ہوں کھانا۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر نے اپنی بیوی سے صرف اتنا کہا۔

’’تم سو جاؤ، میں کھانا کھا چکا ہوں۔ ‘‘

نسیمہ زور سے ہنسی۔

’’میں نے جھوٹ تو نہیں کہا۔ ‘‘

ڈاکٹر راتھر نے جب دوسرے کمرے میں جا کر مضطرب حالت میں زمیندار کا تازہ پرچہ کھولا تو اس کو ایک خبر کی سرخی نظر آئی۔ ڈاکٹر راتھر پر رحمت خداوندی کے پھول۔ ‘‘

اس کے نیچے یہ درج تھا کہ پولیس نے اس کو دھوکا دہی کے سلسلے میں گرفتار کرلیا ہے۔ غلام رسول عرف ڈاکٹر راتھر نے یہ خبر پڑھ کر یوں محسوس کیا کہ اس پر رحمت خدا وندی کے پھول برس رہے ہیں۔ 25جولائی1950ء

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے