رستہ ہوں فقط رختِ سفر میں تو نہیں ہوں

محترم شہزاد نئیر کی زمین میں غزل
رستہ ہوں فقط رختِ سفر میں تو نہیں ہوں
گم گشتہ تخیر کا ثمر میں تو نہیں ہوں
اسلوب مرے جیسا نظر آیا ہے سب کو
لہجے میں ترے آیا نظر میں تو نہیں ہوں
ہجرت کی سہولت سے پریشان پرندو
سائے سے گریزاں ہے شجر میں تو نہیں ہوں
آواز ندامت کا لبادہ جہاں پہنے
اک خامشی رہتی ہے اُدھر میں تو نہیں ہوں
قسمت کی کلائی سے بندھی صبر کی امید
خوش بخت نصیبوں کی ڈگر میں تو نہیں ہوں
تجھکو بھی بچھڑنے کا کوئی صدمہ نہیں ہے
آ دیکھ مجھے دیدہ ء تر میں تو نہیں ہوں
دیوار ہے, تصویر ہے, آئینہ ہے, ارشاد
تڑخن کی اذیت سے نہ ڈر میں تو نہیں ہوں
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے