راما پرم کا آدم خور

راما پرم کا آدم خور
یہ کہانی ایک ایسے شیر کی ہے جس نے تین ماہ کے لیے آدھے ضلع کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا جو ساٹھ میل لمبا اور ساٹھ ہی میل چوڑا علاقہ بنتا تھا۔ اگرچہ اس کی حکمرانی نسبتاً مختصر تھی، مگر اس دوران وہ اپنی سلطنت کے 3٫600 مربع میل میں ہر جگہ موجود دکھائی دیتا رہا۔ ہر کوئی اس کے پیچھے تھا مگر وہ کسی کے ہاتھ نہ آیا۔ اس کا انجام انتہائی غیر متوقع تھا۔
شمالی کومبتور کا ضلع زیادہ تر جنگلات اور پہاڑی ہے۔ اس کے جنوبی سرے پر کومبتور کا اصل ضلع ہے جہاں سے اچانک ڈیم بیم کی پہاڑیاں شروع ہوتی ہیں۔ جنوب مغرب میں نیلگری یا نیلے پہاڑوں کا سلسلہ اور جنگلات ہیں۔ مغرب میں میسور کے جنگلات ملتے ہیں۔ شمال مغرب میں بلی ریرنگن کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ شمال، شمال مشرق اور مشرق میں دریائے کاویری بہتا ہے اور اس کے کناروں پر گھنا جنگل پایا جاتا ہے اور جنوب مشرقی اور مشرقی سمتوں میں ضلع سالم کے جنگلات ہیں۔
شمالی ضلع کومبتور میں محض ایک قابلِ ذکر قصبہ ہے جو کولیگل کے نام سے شمال مغربی کنارے پر اور دریائے کاویری سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ کولیگل سے چار سڑکیں نکلتی ہیں۔ مغرب اور میسور کو شمال کی جانب جانے والی سڑکیں ہمارے لیے اہم نہیں۔ تیسری سڑک جنوب کی سمت اور لگ بھگ سیدھی ہی بیلی ریرنگن کی پہاڑیوں کو جاتی ہیں۔ اس سڑک پر لوکن ہالی نامی بڑا دیہات آتا ہے اور اس سے تیرہ میل مزید آگے بیلور ہے جہاں بائسن رینج شروع ہوتی ہے۔ آگے چل کر حسنور 48ویں سنگ میل پر آتا ہے ڈیم بیم ان پہاڑیوں کے اوپر کولیگال سے 52 میل دور واقع ہے۔
چوتھی سڑک جنوب مشرق کی سمت کو پچیس میل دور راماپرم سے ہو کر گزرتی ہے اور پھر اس کا رخ جنوب کی سمت برگور کو ہو جاتا ہے جو 24 میل مزید آگے ہے اور تماراکاری مزید پانچ میل آگے اور آخرکار جنوب مشرق میں ڈیم بیم کی بلندی پر پہنچتی ہے۔ پھر یہ سڑک اچانک نیچے اترتے ہوئے اندیور کو جاتی ہے جو میدانوں میں واقع ہے۔ یہ سڑک کل 81 میل طویل ہے۔
کولیگال، لوکن ہالی، بیلور اور ڈیم بیم والی سڑک پر کبھی کبھار لاریاں چلتی ہیں اور روزانہ بس چلتی ہے۔ راماپرم، تماراکاری اور اندیور والی سڑک موٹروں کے لیے مناسب نہیں اور اس پر صرف جیپیں اور پرانی اونچی امریکی کاریں ہی چل سکتی ہیں۔ اس کی لمبائی 60 میل ہے۔ سارا علاقہ انتہائی خطرناک ہے پوری سڑک پر بڑے بڑے پتھر اور تنگ موڑ عام ہیں۔ یہ راستہ تنگ ہوتا جاتا ہے اور درمیان میں بیل گاڑیوں کے پہیوں سے سڑک کٹی ہوئی ہے اور اطراف میں گھنا جنگل۔ ریتلے اور پتھریلے نالے جگہ جگہ راستے کو کاٹتے ہوئے گزرتے ہیں۔ گہری وادیوں میں بانس کے بڑے جھنڈ ملتے ہیں جن کے جھکے ہوئے سرے کار کی چھت سے مس کرتے جاتے ہیں۔ راستہ اتنا مشکل ہوتا ہے کہ کار کو چھوٹے گیئر میں چلانا پڑتا ہے اور عموماً انجن کا پانی کھول رہا ہوتا ہے۔ کہیں کہیں بانس کے گرے ہوئے تنے یا درختوں کی ٹوٹی ہوئی شاخیں بھی راستے میں پڑی ملتی ہیں جو عموماً ہاتھی اپنا پیٹ بھرنے کے چکر میں گرا کر جاتا ہے۔ ہر بار ڈرائیور کو رک کر کلہاڑی یا ٹوکے سے اسے کاٹ کر راستہ صاف کرنا پڑتا ہے۔ کلہاڑی یا ٹوکے کے بغیر ان راستوں پر گاڑی لے جانا ممکن نہیں۔
شیر عموماً گھنے جنگل کو پسند نہیں کرتے اور نسبتاً کم گھنے جنگل میں رہتے ہیں۔ تاہم بائسن اور ہاتھی ایسے جنگل کو پسند کرتے ہیں۔ شیر کی ناپسندیدگی کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں جن میں سرِفہرست گھنی جھاڑیوں کی وجہ سے چھپ کر جانوروں تک پہنچنا اور ان پر حملہ کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ شیر کا عام کھاجا جیسا کہ ہرن، سور اور مویشی وغیرہ ایسے گھنے جنگلات میں داخل نہیں ہوتے اور گھنے جنگلات میں رہنے والے ہاتھیوں اور بائسن سے شیر کی نہیں بنتی۔ تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں پائے جانے والے حشرات اور دیگر طفیلیے جیسا کہ جونکیں اور پسو وغیرہ یہاں بکثرت ہوتے ہیں جن سے شیر کو نفرت ہوتی ہے۔
راماپرم کا آدم خور دریائے کاویری کے کناروں سے اس مقام سے نکلا جسے پونچا ملائی کہا جاتا تھا۔ یہ جگہ چھ ہزار فٹ سے زیادہ اونچی ہے۔ اس پہاڑ کی ڈھلوانوں پر کافی کے کچھ باغات موجود ہیں جو شلوگا اور ہندوستانی مالکان کے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس آدم خور نے انہی باغات کے آس پاس مویشیوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ اس نے بہت سارے مویشی پھاڑ کھائے اور پھر ایک روز ایک زمیندار نے اس شیر سے نجات پانے کے لیے کومبتور شہر کا رخ کیا اور بہت بڑا اور خوفناک شکنجہ خریدا۔
یہ شکنجہ فولاد سے بنا ہوا تھا جس کو کھولیں تو اس کا قطر اڑھائی فٹ بنتا تھا۔ اس کے دانت دو انچ لمبے تھے۔ جب اس پر دباؤ پڑتا تو اس کا بہت طاقتور سپرنگ برق رفتاری سے شکنجے کو بند کر دیتا اور دانت ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتے۔
جلد ہی شیر نے ایک دودھیل گائے ماری اور اسے ایک کھائی میں گھسیٹ کر لے گیا اور خشک پتوں کے نیچے چھپا دی، مگر اسے کھایا نہیں۔ اس کا پیچھا کر کے گائے کی لاش کو تلاش کیا گیا اور پھر گائے کی پچھلی ٹانگوں کے درمیان یہ شکنجہ انتہائی مہارت سے لگا دیا گیا۔ پھر وہی خشک پتے بکھیر کر شکنجے کو چھپا دیا گیا۔ شیر واپس آیا اور بدقسمتی سے سیدھا اس کا سر اس شکنجے میں پھنس گیا۔ یہ شکنجہ اس کے کانوں کے پیچھے پیوست ہو گیا۔
شکنجے کو لکڑی کے ایک کھونٹے کی مدد سے زمین میں گاڑا گیا تھا۔ شیر نے شکنجے پر زور لگایا تو کھونٹہ نکل آیا مگر شکنجے کی گرفت ڈھیلی نہ پڑی۔ شیر نے سیدھا جنگل کا رخ کیا اور شکنجے کو ساتھ لیتا گیا۔ تقریباً دو میل دور جا کر شیر دو بڑے پتھروں کے درمیان سے گزرا تو شکنجہ وہیں پھنس گیا۔ شیر نے نکلنے کے لیے بہت زور لگایا مگر شکنجے کی گرفت مزید سخت ہوتی گئی۔
شیر تکلیف سے دھاڑتا رہا اور جدوجہد جاری رہی۔ نصف شب تک زمیندار اور اس کے مزارع اور کارندے دو میل دور پلانٹیشن میں یہ آوازیں سنیں۔ آخرکار شکنجے کی گرفت کمزور پڑی اور شیر نکل آیا مگر اس دوران اس کی ایک آنکھ اور بائیاں کان شکنجے میں پھنسے رہ گئے۔ اس کے علاوہ چہرے اور گردن پر بھی شدید زخم آئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ہفتے تک شیر تکلیف کی شدت سے دن رات دھاڑتا پھرا۔
پھر اچانک خاموشی کا دور شروع ہوا۔ ہر کوئی سمجھا کہ زخموں کی وجہ سے شیر مر گیا ہے۔ زمیندار اور اس کے ملازمین نے زمین پر اترتے ہوئے گِدھوں کی تلاش جاری رکھی تاکہ شیر کی لاش تلاش کر سکیں۔ تاہم گدھ فضا میں اونچے اڑتے رہے مگر کوئی بھی نیچے نہ اترا۔
دو ہفتے گزر گئے اور پھر ایک سہ پہر کو ایک چھوٹے کافی کے باغ کے راستے پر مقامی شلوگا اور اس کی اٹھارہ سالہ بیوی گزرے۔ روایتی طور پر بیوی اپنے شوہر سے ایک گز پیچھے چل رہی تھی اور اس کے سر پر گندم کا تھیلا لدا ہوا تھا۔ انہوں نے راستے میں ایک خشک نالہ عبور کیا اور دوسرے کنارے پر چڑھ رہے تھے کہ سرکنڈوں سے اچانک شیر نے عورت پر جست لگائی اور اسے زمین پر گرا دیا۔
مڑ کر شلوگا نے اپنی بیوی کو زمین پر گرے ہوئے دیکھا۔ شیر اس کی پیٹھ پر سوار تھا اور دونوں پنجے اس کے شانوں پر تھے اور کھلا ہوا منہ بیوی کے سر کے عین اوپر۔ شیر کی ایک آنکھ اور بائیاں کان بھی غائب تھے جبکہ چہرے اور گردن کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے۔
شلوگا خوف سے اپنی جگہ گڑ سا گیا۔ نہ وہ کوئی حرکت کر سکا اور نہ ہی کوئی آواز نکال سکا بلکہ اسی جگہ کھڑا حیرت اور دہشت سے دیکھتا رہا۔ شیر بُری طرح غرایا اور خوفناک شکل بنائی۔ پھر اس نے لڑکی کو دائیں شانے سے پکڑا اور اس کے ساتھ ندی عبور کرنے لگا۔ لڑککی کا سر ایک طرف لٹک رہا تھا اور لمبے بال اور بائیں بازو کے علاوہ ٹانگیں بھی ریت پر گھسٹ رہی تھیں۔ اگلے ہی لمحے شیر لڑکی سمیت نالے کے دوسری جانب والے جنگل میں غائب ہو گیا۔
شاید بیچاری لڑکی یا تو بیہوش ہو گئی تھی یا پھر شاید دہشت کے مارے مر گئی تھی۔ اس کے بعد شلوگا کو اس کی بیوی کبھی نہ دکھائی دی۔ عجیب بات یہ تھی کہ حملے کے وقت بھی اس کی بیوی کچھ نہ بولی تھی۔
ایک مہینے بعد ایک چرواہا لڑکا شیر کے ہاتھوں راماپرام سے دو میل کے فاصلے پر مارا گیا۔ اس بار ادھ کھائی لاش جھاڑیوں سے مل گئی۔ تیسری واردات تین ہفتے بعد ہوئی جو کولیگال، لوکن ہالی، بیلور اور ڈیم بیم والی سڑک کے اکیسویں سنگِ میل کے قریب ہوئی۔ اس بار ایک روڈ قلی ماری گئی جو ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ یہ واردات شام پانچ بجے سے پہلے اور اس کے دیگر ساتھیوں کے عین سامنے ہوئی۔ وہ چند منٹ قبل اپنا کام روک کر جنگل میں قضائے حاجت کے لیے گئی تھی کہ شیر اسے اٹھا لے گیا۔ اس نے کافی چیخم پکار کی اور اس کے ساتھیوں نے شیر کو صاف دیکھا۔ اس کے چہرے پر زخم تھے اور ایک آنکھ اور بائیاں کان بھی گم تھے۔
اتفاق دیکھیے کہ انہی دنوں شمالی کومبتور کے لیے میرا شکاری لائسنس ختم ہوا تھا۔ یہ علاقہ دو فارسٹ ڈویژن میں منقسم ہے، شمالی کومبتور اصل اور کولیگال ڈویژن۔ اگرچہ انتظامی اعتبار سے کولیگال شمالی کومبتور کے تحت آتا ہے مگر محکمہ جنگلات نے اس کو دو الگ فارسٹ ڈویژن میں تقسیم کر دیا ہے۔ میرا لائسنس جو ختم ہوا تھا، شمالی کومبتور اور ڈیم بیم کے لیے کارآمد تھا جبکہ لوکان ہالی، بیلور اور راماپرام کولیگال ڈویژن کا حصہ تھے۔ میرا ارادہ تھا کہ پرانے لائسنس کی تجدید کرانے کے لیے مطلوبہ فیس بھیجوں کہ اخبار میں اس شیر کی آخری واردات کے بارے خبر پڑھنے کو ملی۔ فیصلہ کرنا آسان تھا۔ دس روز کی چھٹی بچی ہوئی تھی، سو میں علی الصبح بنگلور سے نکلا اور کولیگال کے محکمہ جنگلات کے دفتر جا پہنچا جو 87 میل دور تھا۔ ابھی یہ دفتر نہیں کھلا تھا۔ جلد ہی میں نے لائسنس کی تجدید کرا لی اور شیر کے بارے تمام تر معلومات بھی جمع کر لیں۔
آدم خور کی جولان گاہ میرے لیے نیا علاقہ تھا، سو میں نے سوچا کہ راماپرام میں قیام کروں جو یہاں سے 25 میل دور تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد میں وہاں جا پہنچا۔ راستہ کافی خراب تھا۔
پہلا کام تو ظاہر ہے کہ یہی تھا مقامی لوگوں کو اعتماد میں لوں کہ میں شیر کو مارنے آیا ہوں۔ لوگ میرے واقف نہیں تھے، سو انہوں نے ملی جلی معلومات مہیا کیں اور بتایا کہ شیر پونچائی ملائی اور بیلور کے درمیان کہیں بھی ہو سکتا ہے جو پہلی اور آخری واردات کے مقامات تھے۔ دونوں کا درمیانی فاصلہ ساٹھ میل بنتا تھا۔
بیلور کے بارے میں بتا چکا ہوں کہ کولیگال سے تیس میل دور چھوٹا گاؤں ہے جو کولیگال، لوکان ہالی اور ڈیم بیم والی سڑک پر واقع ہے۔ اب یا تو میں کولیگال تک کار پر جا کر پھر بیلور کو جاتا یا پھر راماپرم میں گاڑی چھوڑ کر راماپرم سے بیلور تک کا 19 میل کا سفر پیدل طے کرتا۔ میں نے دوسری ترکیب پر عمل کرنے کا سوچا۔ اس طرح مجھے راستے میں آنے والی تمام وادیوں کو دیکھنے اور ان کے لوگوں سے بات کرنے کا موقع مل جاتا اور عین ممکن ہے کہ شیر کے بارے بھی کچھ پتہ چل جاتا۔
سو، اگلی صبح میں راما پرم کے چھوٹے فارسٹ بنگلے سے نکلا اور بیلور کی سمت روانہ ہوا۔ راستہ جنوب مغرب کو جاتا تھا اور کہیں کھیت آتے تو کہیں جنگل اور کہیں راستہ پہاڑیوں سے کتراتا ہوا بڑھتا جاتا اور ایک جگہ محفوظ جنگل سے بھی گزرا۔
میں کئی بستیوں سے گزرا، مگر ان کے مکین یا تو گھروں کے اندر بند تھے یا پھر دہلیز پر بیٹھے ملے۔ مویشی بھی یا تو پاس ہی بندھے ہوئے تھے یا پھر بستی کے کنارے پر چر رہے تھے۔ آدم خور کی خبر دور دور تک پھیل چکی تھی اور لوگ دہشت زدہ تھے۔
میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اور ہر ممکن جگہ پوچھتا جاتا۔ یہاں زیادہ تر شلوگا لوگ آباد ہیں اور ہر کسی نے یہی بتایا کہ شیر یا تو ایک رات قبل ان کی بستی کے قریب دھاڑ رہا تھا یا تین دن سے کم وقت میں اس کی دھاڑ سنائی دی تھی۔ ایک جگہ مجھے ایک بندے نے تازہ ہل چلے کھیت میں شیر کے پگ دکھائے جو اس کے گھر سے سو گز کے فاصلے پر تھا۔ میں نے ان نشانات کا تفصیلی معائنہ کیا اور جلد ہی واضح ہو گیا کہ یا تو یہ سبھی لوگ اتنے دہشت زدہ ہیں کہ غلط خبر دے رہے ہیں یا پھر اس 19 میل کے علاقے میں بہت سارے شیر موجود ہیں۔ ہر بستی کے لوگوں نے یہی کہا تھا کہ پچھلے تین یا چار روز میں شیر ہر بستی سے گزرا تھا۔
تین بجے میں بیلور پہنچا۔ اس بستی میں کل بیس گھر تھے۔ یہاں روڈ گینگ کے لوگ ملے جنہوں نے شیر کے حملے کو دیکھا تھا۔ ان کی دی ہوئی معلومات میں پہلے بتا چکا ہوں۔ یہ لوگ دہشت کے عالم میں کھڑے شیر کو عورت کو لے جاتے دیکھتے رہے جو شور مچا رہی تھی۔
نزدیک ترین فارسٹ بنگلا ساڑھے تین میل دور تھا۔ ریزرو سڑک کے دونوں جانب موجود تھا۔ ساڑھے پانچ بج رہے تھے اور مجھے علم تھا کہ گھنٹے بھر میں اندھیرا ہو جائے گا۔ سو تیز قدمی سے چلتے ہوئے میں اندھیرا چھانے سے ذرا قبل بنگلے پر پہنچ گیا۔
سورج جب بنگلے سے تین میل مغرب میں واقع بیلی ریرنگن پہاڑیوں کے پیچھے چھپا اور پرندے اور جانور سونے کی تیاری میں بولنے لگے تو اس وقت میں برآمدے میں آرم چیئر گھسیٹ کر اس پر نیم دراز ہو گیا۔ دور سے نر سانبھر کی دعوتِ مبارزت سنائی دی جو مغربی پہاڑ سے اتر رہا تھا۔ یہ آوازیں موسیقی کی مانند میرے کانوں کو بھلی لگ رہی تھیں۔ وادی میں گھنا جنگل قالین کی طرح بچھا دکھائی دے رہا تھا۔
نصف گھنٹے بعد مکمل تاریکی چھا گئی اور ہزاروں جگنو چمکنے لگے۔ ہر درخت اور جھاڑی پر جگنو چمکتے دکھائی دیے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ سارے جگنو ایک ہی وقت جلتے اور پاس والے درخت یا جھاڑیاں جگمگا اٹھتیں۔
اس روز میں بنگلے کے چھوٹے وسطی کمرے کے فرش پر جلد ہی سو گیا۔ دو بجے شیر کی آواز نے مجھے جگا دیا۔ وقفے وقفے سے بولتے ہوئے شیر وادی سے گزرا اور پھر اس کی آواز دور کہیں کھو گئی۔
علی الصبح میں بیلور جا پہنچا جہاں میں نے دو مقامی شکاری بھرتی کیے اور تین بچھڑے خریدے۔ ایک بچھڑے کو ہم نے بنگلے کے مغرب میں گزرنے والے نالے میں باندھا جہاں سے گزشتہ رات شیر گزرا تھا۔ دوسرے کو ہم نے سڑک سے سو گز دور ایک گھاس کے قطعے میں باندھا۔ یہ جگہ گاؤں اور فارسٹ بنگلے کے وسط میں تھی۔ تیسرے کو باندھنے کے لیے ہم نے واپسی پر 21ویں سنگِ میل کا رخ کیا جہاں سڑک ایک ندی سے گزرتی ہے۔ اس ندی کے کنارے بانس کا گھنا جنگل ہے۔ یہاں ایک جگہ کچھ زمین خالی کر کے محکمہ جنگلات نے مختلف درختوں کے بیج اگانے کا تجربہ کیا تھا۔ میرے ساتھیوں نے بتایا کہ شیر اکثر اسی جگہ سے گزرتا ہے اور میں نے وہاں شیر کے نئے اور پرانے، ہر طرح کے ماگھ دیکھے۔ پھر میں نے ان نشانات کو پچھلے نشانات سے ملایا تو پتہ چلا کہ دونوں نر شیروں کے پگ ہیں مگر یہ والا شیر زیادہ بوڑھا اور جسیم ہے۔
تیسرا گارا ہم نے یہاں باندھا جہاں ندی اس جگہ سے گزرتی ہے۔
اس کام سے فارغ ہوتے ہوتے ساڑھے پانچ بج گئے اور ہم بیلور لوٹے جہاں ایک مضبوط شلوگا نے میرا استقبال کیا اور بتایا کہ وہ اس لڑکی کا شوہر ہے جو آدم خور کا پہلا شکار بنی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ پونچا ملائی میں کافی کے باغات پر کام کرتا ہے اور وہاں سے گزرنے والے مسافروں نے اسے بتایا کہ ایک صاحب راما پرم آیا ہوا ہے جو آدم خور کو شکار کرنا چاہتا ہے۔ اپنی بیوی کے انتقام کے خیال سے وہ اپنے مالک سے اجازت لے کر میرے پاس آن پہنچا تاکہ میری ہر ممکن مدد کر سکے۔ راماپرم میں اسے پتہ چلا کہ میں بیلور چلا گیا ہوں تو وہ سیدھا وہیں پہنچ گیا۔
میں نے اس کی مدد کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اتنی تکلیف اٹھا کر پہنچا ہے اور اسے فوراً اپنے مددگار کے طور پر بھرتی کر لیا۔ مجھے اس کی شکل و صورت اور اس کا عزم پسند آیا کہ وہ ہر ممکن طریقے سے آدم خور کی ہلاکت چاہتا ہے۔ اس پر وہ مسکرایا اور بولا کہ وہ اس شرط پر میری مدد کرے گا کہ بدلے میں اسے کوئی معاوضہ نہیں چاہیے۔
میں فارسٹ بنگلے کو لوٹا اور انہیں ہدایات کرتا آیا کہ اگلی صبح وہ اور دونوں مقامی شکاری 21ویں سنگِ میل والے گارے کو دیکھ آئیں جبکہ میں بقیہ دونوں کو دیکھ لوں گا۔ صبح اٹھتے ہی میں نے یہی کام کیا اور پہلے میں نے وادی میں نالے والے بچھڑے کو اور پھر دوسرے کو دیکھا۔ دونوں بخیریت تھے اور شیر کے پگ بھی نہیں ملے۔
پھر میں بیلور گیا جہاں ایک گھنٹے بعد تینوں واپس لوٹے اور بتایا کہ بچھڑا سلامت ہے۔
شلوگا اور مقامی شکاری کو وہیں چھوڑ کر دوسرے شکاری کے ساتھ میں روانہ ہوا جو اس علاقے کو بخوبی جانتا تھا۔ ہم نے سیدھا بیلی ریرنگن پہاڑیوں کا رخ کیا۔ یہ سارا علاقہ میرے لیے نیا تھا اور میں نے شکاری کو اپنے آگے رکھا اور خود رائفل لیے اس کے پیچھے تیار چلتا رہا۔ شلوگا پیدائشی شکاری ہوتے ہیں اور اس بندے نے کسی قسم کے خوف یا پریشانی کا مظاہرہ نہیں کیا حالانکہ ہم جنگل میں اور نالوں سے گزرتے رہے اور بعض جگہ تو ہمیں جھک کر چلنا پڑتا تھا کہ بانس جھکے ہوئے ہوتے تھے یا کوئی خاردار جھاڑی راستے میں ہوتی تھی۔ ہمیں شیر کا کوئی تازہ ماگھ نہیں دکھائی دیا۔
راستے میں ایک جگہ ایک نر تیندوا گزرا تھا اور دوسری جگہ ایک مادہ اور اس کا بچہ۔ تاہم شیر کے پگ نہیں دکھائی دیے۔
تین بجے کے قریب ہم فارسٹ بنگلے کو لوٹے اور ٹھنڈا کھانا کھایا۔ شلوگا نے آگ جلا لی تھی جس پر میں نے ہم دونوں کے لیے چائے بنا لی۔ پھر میں نے بنگلے کے کنوین سے پانی نکال کر غسل کیا۔
پانچ بجے میں اور شلوگا دونوں بیلور لوٹ آئے جہاں میں نے ان تینوں کو ہدایت کی کہ اگلی صبح وہ 21ویں سنگِ میل والے گارے کو دیکھیں جبکہ بقیہ دو کو میں دیکھ لوں گا۔ سات بجے کے بعد میں بنگلے پر پہنچا۔ اس رات شیر کی آواز نہ آئی اور میں نے ساری رات سکون سے سو کر گزری۔ اگلی صبح میں دونوں بچھڑوں کو دیکھنے نکلا۔ دونوں سلامت تھے۔
بنگلے پر لوٹ کر میں نے پیٹ پوجا کی اور پھر بیلور کی سمت چل پڑا۔ راستے میں شیر کے پگ نہیں ملے اور سوا نو بجے میں بیلور پہنچ گیا۔ دس بجے سے ذرا قبل وہ لوٹے اور بتایا کہ شیر نے گارا کر لیا ہے اور رسی کتر کر اسے لے گیا ہے۔
خوش قسمتی سے میں پوری طرح تیار ہو کر آیا تھا اور ٹارچ اور دیگر سامان ہمراہ تھیلے میں ہمراہ تھا۔ بعجلت ہم روانہ ہوئے اور بارہ بجے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ بچھڑے سے بیس فٹ دور ہمیں شیر کے پگ نرم مٹی میں دکھائی دیے اور ان کے معائنے سے پتہ چلا کہ یہ واردات شیر نے نہیں بلکہ شیرنی نے کی ہے۔ اس جگہ سے اس نے جست لگا کر بچھڑے کو مارا اور پھر رسی کتر کر لے گئی۔
یہ کہنا مشکل تھا کہ شیرنی گارے کو کتنی دور لے کر گئی ہوگی۔ سو میں نے اپنے ساتھیوں کو وہیں رکنے کا کہا کہ وہ تین بجے تک میرا انتظار کریں جبکہ میں نشانات کا پیچھا کروں گا۔ اگر شیرنی شکار کو لے کر دور گئی ہوگی تو میں وہیں کوئی چھپنے کی جگہ بنا کر شیرنی کا انتظار کروں گا اور تین بجے تک واپسی ممکن نہیں ہوگی بلکہ رات وہیں گزارنی ہوگی۔ سو میرے ساتھی تین بجے کے بعد واپس لوٹ جائیں گے۔ اگر شیرنی شکار کو لے کر دور نہیں گئی تو پھر میں لوٹ کر اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے جا کر مناسب مچان بنواؤں گا۔
میں نے دیکھا کہ دو سو گز تک شیرنی کبھی گھسیٹتی تو کبھی اٹھاتی گئی۔ پھر بانس کے جنگل سے نکل کر وہ خاردار جھاڑیوں میں جا پہنچی جہاں پیش قدمی مشکل تھی۔ سو اس نے لاش کو اپنے شانے پر ڈالا اور پھر تعاقب کرنا بہت مشکل ہو گیا۔ شیر بعض اوقات ایسا کرتے ہیں۔
کھر سے لگنے والی خراش، سینگ، ٹوٹی ہوئی ٹہنیاں ہی شیرنی کے گزرنے کی نشانیاں تھیں۔ سڑتی ہوئی نباتات اور گرے ہوئے پتوں نے پگوں کو بخوبی چھپا دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ پیش قدمی بہت سست ہو گئی تھی۔ مجھے یہ پسند نہیں تھا کہ میری پوری توجہ پگوں کی تلاش پر مرکوز تھی جس کی وجہ سے میں اپنے ماحول پر توجہ نہیں دے پا رہا تھا۔ آخرکار خاردار جھاڑیاں ختم ہوئیں اور نسبتاً کھلا جنگل شروع ہو گیا جس میں درخت اور کجھور کے جھاڑ جگہ جگہ اگے ہوئے تھے۔
دو مرتبہ میں ایسے مقام پر پہنچا جہاں شیرنی نے بھینسے کو رکھ کر آرام کیا تھا اور پھر اٹھا کر چل دی۔ ظاہر ہے کہ شیرنی کے ذہن میں کوئی خاص مقام تھا، شاید ایسی جگہ جہاں اس کے بچے قریب ہوں۔
نشانات آگے بڑھتے گئے اور راستہ پتھریلا ہوتا گیا۔ آخرکار درختون سے مجھے ایک پہاڑی دکھائی دی جو وہاں سے چوتھائی میل دور اور دو سو فٹ بلند تھی۔ نشانات سیدھے اسی پہاڑی کو جا رہے تھے۔ تاہم اس وقت تک مجھے یقین ہو چکا تھا کہ یہ آدم خور نہیں بلکہ عام شیرنی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اب تک کی تمام تر معلومات کے مطابق آدم خور مادہ نہیں بلکہ نر تھا، اگرچہ جانور کے پگ سے جنس کا تعین ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتا۔ تاہم یہ بات سبھی جانتے تھے کہ آدم خور کی ایک آنکھ اور ایک کان غائب ہیں، سو اگر میں اس جانور کی ایک جھلک دیکھ لیتا تو معاملہ آسان ہو جاتا۔
تاہم جھلک کیسے دیکھ سکوں گا، یہ ایک مسئلہ تھا۔ ایک ممکنہ حل تو یہ تھا کہ میں اسی طرح تعاقب جاری رکھتا اور شیرنی تک جا پہنچتا۔ تاہم مجھے یہ پسند نہیں تھا کیونکہ اگر شیرنی آدم خور نہ بھی ہوتی تو بھی وہ اپنے غار میں اور بچوں کے اتنے قریب مجھے برداشت نہ کرتی۔
خیر میں نے تعاقب جاری رکھا۔ اب نشانات کی مدد سے تعاقب آسان ہو گیا تھا کہ شیرنی پتھروں اور چٹانوں سے گزر رہی تھی اور بیل کی لاش ان سے ٹکرا رہی تھی اور خون کے نشانات بکثرت تھے۔
آدھا فاصلہ طے ہو گیا تھا۔ بقیہ آدھا فاصلہ طے کرنے پر چوٹی پر پہنچ جاتا۔ پتھر جگہ جگہ جمع تھے اور نشانات ان کے بیچوں بیچ گھوم کر جا رہے تھے کہ شیرنی بچ بچا کر چل رہی تھی۔ تین بجنے میں دس منٹ رہتے تھے اور سورج بے رحمی سے آگ برسا رہا تھا اور پتھر گرمی سے تپ رہے تھے۔ ہوا اتنی گرم تھی جیسے کسی بھٹی سے نکل رہی ہو۔ میرے کپڑے پسینے سے بھیگ چکے تھے اور پسینہ آنکھوں کو جلا رہا تھا۔ میں نے ہونٹوں پر زبان پھیری تو مجھے ابھی تک یاد ہے کہ نمکین ذائقہ تھا۔
میرے ربڑ کے جوتوں سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ موڑ پر موڑ آ رہے تھے اور کچھ علم نہیں تھا کہ آگے کیا ہوگا۔ پھر میں ایک لٹکی ہوئی چٹان پر پہنچا جو زمین سے شاید 30 درجے کے زاویے پر اٹھی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے دو دھاری دار گول مٹول سے شیرنی کے بچے ایک دوسرے سے کھیل رہے تھے۔
میں وہیں تھم گیا۔ رائفل میں گولی بھرنے کا عمل بہت آہستگی سے کیا مگر ہلکی سی کلک کی آواز آئی۔ اگرچہ بچے چھوٹے تھے مگر ان کی چھٹی حس نے انہیں خطرے سے فوراً آگاہ کر دیا۔ کھیل چھوڑ کر مجھے دیکھنے لگ گئے۔
اب بھی میں اس منظر کو بھلا نہیں سکتا۔ ایک بچہ معصوم سی حیرت سے دیکھ رہا تھا جبکہ دوسرے کے چہرے کے تاثرات نفرت اور غصے سے بگڑ رہے تھے۔ اس نے ہلکی سی آواز نکالی۔
یہ معمولی سی آواز بہت بڑے ہنگامے کا پیش خیمہ تھی۔ غار سے دھاڑتی ہوئی شیرنی بچوں کے اوپر سے جست لگا کر گزری اور سیدھا میری جانب آئی۔
ہمارا درمیانی فاصلہ بمشکل بیس گز رہا ہوگا۔ میں نے اس کی آنکھوں کے درمیان کا نشانہ لیا ہوا تھا۔ شیرنی پانچ گز دور آن کر رکی اور زمین پر بیٹھ کر کھلی آنکھوں اور کھلے منہ سے غرانے لگی۔ شیرنی بہت خوبصورت تھی، مگر آدم خور نہیں تھی۔
حیرت کی بات دیکھیے کہ شیرنی نے حملہ نہیں کیا۔ شاید اس کا حوصلہ عین وقت پر جواب دے گیا۔ وہ زبانِ حال سے مجھے کہہ رہی تھی: ‘یہاں سے دفع ہو جاؤ اور میرے بچوں کو کوئی نقصان پہنچایا تو جان سے مار دوں گی۔‘
ظاہر ہے کہ اس پر عمل کرتے ہوئے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ اس سے نظریں ہٹائے بغیر اور رائفل اسی طرح تانے اور لبلبی پر انگلی رکھے ہوئے میں نے واپسی اختیار کی۔
شیرنی اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔ شاید اسے احساس ہو گیا ہوگا کہ میں واپس جا رہا ہوں۔ اس وقت بھی مجھے احساس ہو گیا تھا کہ شیرنی مجھے نقصان پہنچانے کی بجائے اپنے بچے بچا رہی ہے۔ میں بھی ڈرا ہوا تھا۔ میں بھی اس کو یا اس کے خاندان کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔
اسی طرح میں نے پسپائی جاری رکھی اور شیرنی بھی دھاڑتی رہی۔ جب میں پہلا موڑ مڑا تو شیرنی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ پھر میں نے مڑ کر راستے کو دیکھنے کی ہمت کی کہ میں کہاں جا رہا تھا۔ شیرنی نے اب دھاڑنا بند کر کے غرانا شروع کر دیا تھا۔ مجھے علم تھا کہ جتنی دیر شیرنی غراتی رہے گی، خطرہ نہیں ہے۔ مجھے علم ہوتا رہے گا کہ وہ کہاں ہے۔
ایک بڑا ٹول عبور کیا اور پھر میں نے تیزی سے چلنا شروع کر دیا مبادا کہ شیرنی کا ارادہ بدل جائے اور میرے پیچھے آ جائے۔ اب اس نے غرانا بند کر دیا تھا اور اصل خطرہ شروع ہو رہا تھا۔ شیرنی عین ممکن ہے کہ اپنے بچوں کے پاس چلی گئی ہو یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ میرا پیچھا کر رہی ہو۔ ہر ممکن عجلت سے میں پہاڑی سے نیچے اترا اور اس دوران مڑ مڑ کر دیکھتا رہا۔ جلد ہی درخت اور کھجوروں والے مقام پر جا پہنچا اور پھر خاردار جھاڑیوں سے ہوتے ہوئے بانس کا جنگل اور پھر سڑک آ گئی۔
ساڑھے چار بجے میرے ساتھی بیلور لوٹ گئے تھے۔ ابھی میں نے نو میل کا فاصلہ طے کرنا تھا جبکہ دو گھنٹے جتنی روشنی باقی تھی۔ مگر میں پھر بھی سڑک کے کنارے پانچ منٹ بیٹھ کر پائپ سے لطف اندوز ہوا۔ شکر ہے کہ شیرنی کو گولی مارنے کی ضرورت نہیں پیش آئی تھی اور اس کے بچوں کا خاکہ ابھی تک میرے ذہن میں تازہ تھا۔
ساڑھے چھ بجے کے بعد میں بیلور پہنچا۔ میرے تینوں ساتھی منتظر ملے۔ انہیں تفصیل سے کہانی بتائی تو انہوں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ واقعی شیرنی کا عین وقت پر حملہ مؤخر کرنا عجیب بات ہے۔
تاریکی چھا چکی تھی کہ میں سفر کے آخری حصے پر نکلا۔ میرا رخ بنگلے کی جانب تھا۔ مگر چونکہ ایک بچھڑا اس گاؤں اور بنگلے کے درمیان بندھا ہوا تھا اور سڑک سے زیادہ دور بھی نہیں تھا، سو میں نے سوچا کہ اس کا چکر لگاتا جاؤں۔ یہ خیال کیوں آیا، کچھ کہنا مشکل ہے کہ میں اسی روز صبح کے وقت اس کو دیکھ کر ہی بیلور گیا تھا۔ خیر، میں ہمیشہ اپنی چھٹی حس کے کہنے پر چلا ہوں، سو اس بار بھی میں نے بچھڑے کا رخ کیا۔ گہری تاریکی تھی مگر تاروں کی چھاؤں میں دھندلا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ راستے کے کنارے پر اگی جھاڑیاں عجیب عجیب شکل کی دکھائی دے رہی تھیں۔ کبھی کبھی ہوا کے جھونکے سے ٹیک کا بڑا پتہ زمین پر حرکت کرتا تو ایسی آواز آتی جیسے بہت بڑا پتنگا اڑ رہا ہو۔
میں انجیر کے اس چھوٹے درخت کے نیچے پہنچا جہاں بچھڑا بندھا ہوا تھا۔ یہاں سائے گہرے تھے اور بچھڑا بھورے رنگ کا تھا۔ بہت قریب پہنچا تو بچھڑا میری آمد کو محسوس کر کے اچانک اٹھا۔ تاہم بچھڑا بخیریت تھا۔ میں اس کی دوسری جانب گیا تاکہ پچھلے پیر سے بندھی رسی کا جائزہ لے سکوں کہ کہیں وہ بل کھا کر مڑ نہ گئی ہو۔
عین اسی لمحے آدم خور نے حملہ کیا۔
خوش قسمتی سے میں دوسری جانب چلا گیا تھا، اس طرح میرے اور آدم خور کے درمیان بچھڑا آ گیا۔ تاہم مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ یہ حملہ میری بیخبری میں ہوا تھا۔
اچانک جنگل کے اسی مقام سے زور کی دھاڑ سنائی دی جہاں سے میں ابھی نکل کر بچھڑے کے پاس آیا تھا۔ بچھڑا مڑا اور میں اس کے عین پیچھے جست لگا کر چھپ گیا۔ میری کمر درخت کی جانب تھی اور رسی سے الجھتے الجھتے بچا۔ بہت بڑا بھورے رنگ کا جسم بچھڑے کی پشت پر سوار تھا اور بچھڑا اس کا وزن نہ سہار سکا اور گر گیا۔
تاہم شیر نے بچھڑے کے گلے یا گردن کو نہیں دبوچا۔ اس کا مقصد محض بچھڑے کو پار کر کے مجھ تک پہنچنا تھا مگر بچھڑے کے گرنے سے چھلانگ ادھوری رہ گئی ورنہ پلک جھپکتے ہی وہ مجھ تک پہنچ جاتا۔
جتنی دیر شیر گرے ہوئے بچھڑے سے اٹھتا، میری گولی اس کی آنکھوں کے بیچ لگی۔ بل کھا کر وہ پیچھے کو گرا مگر ابھی تک اس کا دھڑ بچھڑے پر تھا۔ بچھڑا اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا اور شیر کا سر اور اگلا دھڑ بچھڑے پر تھا۔
بغیر سوچے سمجھے میں نے دوسری گولی چلائی جو شیر کے بائیں شانے کے پیچھے لگی۔ بچھڑا گر گیا۔ شیر پھسلتا ہوا میری جانب گرا اور میری تیسری گولی اس کے گلے میں پیوست ہو گئی۔
بچھڑے نے حرکت نہ کی۔ شیر نے لاتیں چلائیں اور پھر ساکت ہو گیا۔
رائفل پر لگی ٹارچ سے پتہ چلا کہ پہلی گولی سے شیر کی کھوپڑی پاش پاش ہو گئی تھی۔ دوسری گولی نیچے گئی۔ اعشاریہ 405 کی بھاری گولی شیر کے سینے کے کنارے سے ہوتی ہوئی بچھڑے میں سوراخ کر گئی۔ تیسری گولی بے فائدہ چلی اور شیر کے گلے سے گزری اور بڑا سوراخ کر گئی۔ اس بچھڑے نے میری جان بچائی تھی، وہ میرے ہی ہاتھوں ہلاک ہوا۔
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے اور گھٹنے جواب دے رہے تھے اور خود کو بہت بیمار محسوس کیا۔ ظاہر ہے کہ ایسے واقعات کا اثر گہرا ہوتا ہے۔ میں انجیر کے درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ میں نے ہاتھ سے پیشانی کو چھوا تو میری پیشانی بہت ٹھنڈی ہو رہی تھی۔
پتہ نہیں میں کتنی دیر اسی طرح بیٹھا رہا۔ پھر میں نے اپنا پائپ نکال کر بھرا اور سلگا لیا۔ چند کش لگانے سے میرے اعصاب قابو میں آنا شروع ہو گئے۔ پھر میں نے سڑک پر پہنچ کر بیلور کا رخ کیا۔
گاؤں میں پہنچا تو سب لوگ گھروں سے باہر نکلے ہوئے اور جوش و خروش سے باتیں کر رہے تھے۔ پاس موجود پہاڑیوں سے میری گولیوں کے دھماکوں کی بازگشت ہوتی ہوئی گاؤں تک پہنچ گئی تھی۔ ان کا اندازہ تھا کہ بنگلے کو جاتے ہوئے مجھ پر حملہ ہوا ہوگا مگر انہیں یہ علم نہیں تھا کہ آیا آدم خور کا حملہ تھا یا کسی ریچھ یا ہاتھی کا۔
مجھے اندھیرے میں آتا دیکھ کر سب میری جانب لپکے اور میرے تینوں ملازمین سب سے آگے تھے۔ میں وہیں راستے کے کنارے پر بیٹھ گیا اور انہیں پوری کہانی سنائی۔ انتہائی حیرت سے انہوں نے ساری کہانی سنی اور مبارکبادوں اور بخیریت واپسی پر شکر کے کلمات سے فضا گونج اٹھی۔
تازہ دودھ کی چاٹی میرے سامنے رکھ دی گئی اور ساتھ کیلوں کا گچھا بھی۔ اگرچہ یہ کوئی بہت بڑا تحفہ نہیں تھا مگر پھر بھی دیہاتیوں کی طرف سے خلوص کا اظہار تھا۔
اگلے نصف گھنٹے بعد سارے دیہاتی لالٹینوں اور مشعلوں، مضبوط ڈنڈے اور رسی سمیت میرے ساتھ شیر کو لانے کے لیے تیار ہو گئے۔ پھر ہم واپس جائے وقوعہ پر گئے جہاں پچاس سے زیادہ دیہاتی حیرت سے سارا منظر دیکھتے رہے۔ آدم خور کی پہلی شکار والی عورت کا شوہر عجیب کام کرنے لگا۔ اس نے چاقو نکالا اور مردہ آدم خور میں گھونپنے لگا۔ میں نے نرمی سے فوراً اسے روک دیا۔ کھال پہلے ہی گولیوں سے کافی چھلنی ہو رہی تھی۔ پھر وہ اپنی بیوی کا سوچ کر رونے لگا۔
بہادر انسان کو پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ چھوت کی طرح پھیلتا ہے اور مجھے خود اپنے گلے میں کچھ اٹکتا ہوا محسوس ہوا۔
اب زیادہ بتانے کو کچھ نہیں رہا۔ اگلی صبح بنگلے کو آتے ہوئے شلوگا اسی راستے سے آیا جس سے میں آیا تھا۔ پچاس گز آگے جا کر وہ قضائے حاجت کے لیے رکا تو دیکھا کہ آلوبخارے کی جھاڑی میں شیر کے بیٹھنے کے نشانات دکھائی دیے۔ یعنی پچھلی رات شیر میری گھات میں بیٹھا تھا اور یا تو مجھے آتے دیکھا یا پھر میری آہٹ سن کر اس نے انسانی موجودگی بھانپ لی ہوگی۔
اس نے مجھے یہ بات بتائی تو میں تصدیق کرنے خود نکل کھڑا ہوا۔ اس کی بات سچ نکلی۔ نرم ریت پر شیرنی کے پگ صاف دکھائی دے رہے تھے اور جھاڑی کے نیچے گھاس کچلی ہوئی تھی جہاں شیر بیٹھ کر میرا انتظار کر رہا تھا۔
کچھ لوگ قسمت یا چھٹی حس پر یقین نہیں رکھتے۔ مجھے ان نہ ماننے والوں پر زیادہ حیرت ہوتی ہے۔

کیینتھ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے