رکھیے شغف روایتوں کے سلسلے سے بھی

رکھیے شغف روایتوں کے سلسلے سے بھی
لیکن کوئی خیال نے زاویے سے بھی

لگتا نہیں برا وہ کسی زاویے سے بھی
دیکھا اسے قریب سے بھی فاصلے سے بھی

مسمار کرکے آپ ہی اپنے مکان کو
بارش سے بھی جیت گیا زلزلے سے بھی

اک پھول نے اسیرِ زمیں کر دیا مجھے
میں تو اڑان سے بھی گیا گھونسلے سے بھی

تو نے ہمسفر مجھے اپنا بنا لیا
کیا بن سکے گی میری ترے قافلے سے بھی

اک مستقل سکوت ہے اک مستقل کلام
بے زار ہوں سنگ سے بھی آئینے سے بھی

شاہد کرے گا کون یقیں تیرے خواب کا
یہ لوگ تو مکر گئے تھے معجزے سے بھی.

شاہد ذکی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے