Rahbar Ki Na Fikar

راہبر کی نہ فکر منزل کی

کر رہا ہوں میں پیروی دل کی

کھوگیا جستجوئے شوق میں جب

مل گئی مجھ کو راہِ منزل کی

آہ نہ آئے ، نہ ان کو آنا تھا

آرزو دل میں رہ گئی دل کی

پھر طلاطم میں لے گئیں موجیں

مجھ کو صورت دکھا کے ساحل کی

ترکِ الفت کی کوششیں ہیں فضول

کیا بجھے گی لگی ہوئی دل کی

الاماں پختگی ذوقِ نظر

پست ہیں ہمتیں مقابل کی

شکیلؔ بدایونی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے