راہ و رسم خط کتابت ہی سہی

راہ و رسم خط کتابت ہی سہی
گل نہیں تو گل کی نکہت ہی سہی
دل لگی کا کوئی ساماں چاہئے
قحط معنی ہو تو صورت ہی سہی
بے دماغی بندہ پرور اس قدر
آپ کی سب پر حکومت ہی سہی
دوستی کا میں نے کب دعویٰ کیا
دور کی صاحب سلامت ہی سہی
بسکہ ذکرالعیش نصف العیش ہے
یاد ایام فراغت ہی سہی
وقت ملنے کا معین کیجئے
خواہ فردائے قیامت ہی سہی
حسن صورت کا نہ کھا اصلاً فریب
کلک صنعت گر کی صنعت ہی سہی
کچھ نہ کرنا بھی مگر اک کام ہے
گر نہیں صحبت تو عزلت ہی سہی
اسماعیلؔ میرٹھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے