راہ مشکل سہی بے خوف گزر آتے ہیں

راہ مشکل سہی بے خوف گزر آتے ہیں
ہم کو صحراوں کے آدابِ سفر آتے ہیں
منتظر اپنا کہاں کوئی ہیں خالی کمرے
آج کل دیر بہت دیر سے گھر آتے ہیں
دن بھلانےمیں جنہیں میراگزرجاتا ہے
شام ہوتے ہی نگاہوں میں اتر آتے ہیں
حوصلہ پایا ہےگرداب سےلڑ کر میں نے
راستہ جب ہو سمندر تو بھنور آتے ہیں
خون پانی میں ملا کر جو پلائے مالی
تب کہیں جاکےدرختوں پہ ثمر آتے ہیں
ان کی بے لوث دعاؤں کو غنیمت جانو
یہ جو درویش ترے در پہ نظر آتے ہیں
ہائے عشاق کا شاہد یہ کلیجہ توبہ
اپنے ہاتھوں پہ اٹھائےہوئےسرآتے ہیں
شاہد عباس ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے