رفوگر

رفوگر
(۱)
آسمان جیسے پھٹے پشمینے کا شامیانہ۔
نیل گگن پہ دودھیا میگھ، جیسے مدھوبن میں مست ہاتھی۔ ہندوستان کی قسم۔ کارواں سرائے سلامت یا الٰہی مٹ نہ جائے دردِ دل!
ترہی والا سفید گھوڑے پر کالا شہسوار۔
ترہی بجی۔۔۔ پہلے دیوگیری بِلاوَل پھر مالکوس۔
دوکان کی اونچی سیڑھیاں چڑھ کے آئی آئینہ خانم اور رفوگر سے بولی،
’’پہلے میری شال رفو کیجیے۔ پیشگی مزدوری۔‘‘
پانچ کا نوٹ دے کر وہ چلی گئی۔
جس کی چاہو سوگند لے لو۔ کوئی رائے قائم کرنی مشکل۔
دل کی دل ہی میں رہی بات نہ ہونے پائی۔
برگد کی آنکھ میں ابابیل کا گھونسلا، جہاں سورج کی پہلی کرن داخل ہوتی۔
برگد تلے پگلی بھکارن بڑبڑاتی،
’’کچھ نہ کہو لوگو، میرے علی کو کچھ نہ کہو۔‘‘
کارواں سرائے اپنی خبر رکھتی ہے۔ محبوب کی سرگوشی ہو یا ماں کی لوری۔
جن کے قدموں کے نشان مٹ گئے، ہم ان کا کوئی پتہ نہ لگا سکے۔
رفوگر علی جو امام کی گنبد والی دوکان۔ اونچی سیڑھیاں، تین کھڑکیاں۔
دوستانہ جذبے سے چمکتی آنکھیں۔ جگ درشن کا میلہ۔ کون گرو کون چیلا،
ترہی والا اپنی دھن اَلاپتا رہا۔
وہی کارواں سرائے، وہی بیگم بازار، وہی دوڑتی نظریں۔ اور وہی گم ہوتی پرچھائیاں۔ سب کی توجہ کا مرکز علی لجو امام۔
یہ علی جو تو ہوا، یہ علی لجو امام کیا ہوا؟
پیر باورچی بہشتی خر،
ہرفن مولا۔
کوئی اسے علی کہتا، کوئی امام۔ کوئی استاد۔
اس کے ہاتھ دعا کے لیے اوپر اُٹھ گئے۔
یا پیر، دست گیر، روشن ضمیر!
سامنے دیوار پر کالا ریشم، سنہرے حروف، فاختئی چوکھٹے میں جڑا شاعر کا کلام، رسم الخط کو سلام،
ڈھوتے ڈھوتے پربت غم کا، پان59و میں پڑگئے چھالے
بین کرے دیوانی پچھوا، رو دیے ماتم والے
انہونی کا چاک گریباں، کون رفو کر پائے
بول سپیرے! تم نے اب کے، کتنے پھنیئر پالے
بغل والی دیوار پر لال صوفی کے ساتھ رفوگر کی تصویر۔ دونوں کی ہنسی ہم آغوش۔ بیس برسوں پہلے کی یادگار۔
لال صوفی ہوتا تو یہیں سے شروع کرتا اپنا سفر نامہ،
میخانوں کا عام رویہ، دھینگا مشتی تاتاتھیا،
سدھی کا چمتکار
من کے آر پار
مزارِ گل شہید پر قوالی کی رات۔
آتے جاتے لوگ۔ کارواں سرائے خوش، محفل میں چہل پہل،
کہانی کا کیا کمال، سپنا نہیں اگیا بیتال۔
رفوگر کی ننھی منی نواسی جگنی اپنی گڑیا سے کھیلتے ہوئے گیت کا بول اُچھالتی،
جاگ اری جنت کی گڑیا
جاگ اری جنت کی چڑیا
کھالے یہ پچ میل مٹھائی
اوری گڑیا! اوری چڑیا
لال صوفی ہوتا تو جگنی کے ساتھ سُر میں سُر ملاکر گاتا۔
پنا لال کی تان یہیں ٹوٹتی کہ سب کتے کاشی گئے تو ہنڈیا کس نے چاٹی!
لال صوفی کو اولاد احمد اور وارث معصوم کا سلام۔ اس کا ایک اور نام گل شہید۔
خلیل اور رحمان نے یہ کہہ کر دم لیا کہ لال صوفی تو جوانی میں بڑھاپے کا مزا لیتا رہا۔
’’اللہ میگھ دے رے اللہ میگھ دے!‘‘ گنگناتے ہوئے اولاد احمد رفوگر کی دوکان میں آیا اور ایک کونے میں بیٹھ گیا۔
چنچل سنگھ اور پنّا لال کا وہی مذاق کہ آرہی ہے چائے دارجلنگ سے،
آچاریہ مہادیو ’’دس آئے دس گئے!‘‘ کہتے ہوئے کتاب محل کی طرف چل دیے۔
گل آئینہ خانم کی موڑ پر بوڑھا برگد، رفوگر کا پڑوسی۔ امیرخسرو کی کہہ مکرنی۔
استاد سے پوچھا ’’آپ کی عمر؟‘‘
بولے ’’برگد سے پوچھ لو۔‘‘
برگد کی داڑھی ہنسنے لگی۔ جیسے ہوا کہہ رہی ہو کہ بوڑھا برگد سب جانتا ہے۔
جگنی سے پوچھا۔ ’’تمھاری عمر؟‘‘
’’میری گڑیا سے پوچھ لو۔ ‘‘ وہ ہنس پڑی۔
آگے چلتے ہیں، پیچھے کی خبر نہیں۔۔۔ کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگے۔۔۔
جو سب سے پیچھے رہنا چاہتا ہے، اسی کو سب سے آگے بڑھاتی ہے کارواں سرائے۔ ایک ہی داؤ میں پاسہ پلٹ سکتا ہو۔
وہ خودستائی کبھی نہ کرتا۔ گاہک سے یہی کہتا ’’شاید میرا کام آپ کو پسند نہ آ سکے!‘‘
اگر کسی کو اس کا کام پسند نہ آتا تو وہ جھگڑے میں پڑنے کی بجائے صاف صاف کہہ دیتا ’’آپ کچھ بھی نہ دیجیے اور رفوکی ہوئی اپنی اچکن لیتے جائیے۔‘‘
پنا لال جگنی کو چڑیا کہہ کر چھیڑتا تو وہ کہتی،
’’وہ چڑیا جاپان گئی!‘‘
رفوگر کے ابادست گیر کی موت پر چنچل سنگھ افسوس کرتے ہوئے کہتا،
’’آگے مرنا پیچھے مرنا، پھر مرنے سے کیا ڈرنا!‘‘
کسی کے ہاتھ میں کئی تہوں میں لپٹا ہوا کاغذ۔
کسی کی بات چاکلیٹ اور بسکٹ کے بیچ۔
کسی کی نظر ایک کونے میں پڑی جگنی کی لہنگے والی گڑیا پر۔
پتھر کی دیوار پر رنگ برنگے پوسٹر،
’’سچ کو سولی۔‘‘
’’آنکھ کا پانی مرگیا۔‘‘
’’ڈھائی دن کی بادشاہی۔‘‘
’’پاؤں میں سنیچر۔‘‘
’’سفر نامہ ابنِ بطوطہ۔‘‘
’’چوڑیاں پہن لو۔‘‘
’’سفید گھوڑے پر کالا شہسوار۔‘‘
امرت گیسٹ ہاؤس کے آگے مغل اعظم ہوٹل۔ اور بیگم پل سے آگے ترکمان دروازہ۔
بھول بھلیاں اور بارہ دری کے بیچ کتاب محل۔
بک لینڈ پریس کی بغل میں لبرٹی کینٹین۔
کہیں اوپر کوٹ، کہیں نیچا نگر۔
کہیں اُشا ڈی لکس، ہوٹل، کہیں مٹیا محل۔
کارواں سرائے کا نام بدل کر پانڈولِپی رکھ دیا۔
یہ اور بات ہے کہ لوگوں کی زبان سے کارواں سرائے نہیں اترتی۔
واہ ری کارواں سرائے،
ندیا میں مچھلی جال
بھکارن پھٹے حال
نام بن پھول بائی۔
اس کی ہتھیلی پر پانچ پیسے کا سکہ رکھنا نہ بھولتا علی لجو امام۔ اور ہتھیلی میں گدگدی ہونے لگتی۔
کل کی نرتکی آج کی بھکارن۔ سونے چاندی کے سکّوں کی کھنک اس کے پان59و چومتی تھی۔
پانچ پیسے کا سکہ لیتے وقت آج اس کی آنکھیں پان59و کی طرف جھک جاتیں۔
کون سی داستان سنوگے؟ کچھ سنائیں گے، ذرا اور قریب آجاؤ۔
دو نینوں کی ایک کہانی
ماں کی لوری ایک نشانی
جو گزروگے ادھرسے، میرا اجڑا گان59و دیکھوگے
شکستہ ایک مسجد ہے، پرانا ایک مندر ہے
’’عمر بھر کون محوِ رقص رہا؟‘‘ رفوگر نے رفو کرتے ہوئے پوچھا۔
نغمے کی سوغات۔ قوالی کی رات۔ صحیح گئے، سلامت آئے۔
شِلالیکھ کے روپ میں کس یُگ کی رچنا آگے آئی؟
ننھّی منّی جگنی اور اس کی بڑی بہن نسیم۔
’’تو نسیم کی بہن ہے جگنی؟‘‘ پنا لال نے پوچھا۔
’’نہیں نسیم میری بہن ہے۔‘‘ وہ ہنس پڑی۔
کہاں تک چپ رہیں، جب سر سے اوپر ہوگیا پانی!
آچاریہ مہادیو یہ کہتے ہوئے محل میں آئے کہ سو سنار کی، ایک لوہار کی،
’’سونے سے مہنگی گھڑائی!‘‘ وارث معصوم نے تھاپ لگائی۔
’’رام دہائی! رام دہائی!‘‘ سب کی ملی جلی آواز۔
’’وہ اپنا دامن چھڑا کر چلی گئی۔ کام روپ کے پاس جا کر رکیں گے اس کے قدم۔‘‘ اولاد احمد نے کہا۔ اشارہ بن پھول بائی کی طرف۔
براتِ عاشقاں بر شاخِ آہو۔۔۔ ہرن کے سینگ پر عاشقوں کی برات۔
کچھ اور پوچھیے، یہ حقیقت نہ پوچھیے!
پھولوں جیسے بازو، تھکن سے چور!
اپنی گڑیا کا بیاہ رچائی، جگنی گاتی رہی،
دھوئیں دھوئیں! تو گھر کو جا!
تیری ماں نے کھیر پکائی!
بن پھول کو دیکھ کر رفوگر بادشاہ بن جاتا۔ گویا اس کے ہاتھوں میں اشرفیاں کھنکنے لگتیں۔
تیس دن، چالیس میلے
میلے میں سب لوگ اکیلے
ہم کہاں سب سے الگ؟
آج پروئیاں چلی پچھوا کے بعد!
مرنے والے کی نہیں، جینے والے کی موت!
اے روشنئ طبع تو برمن بلا شدی!
’’میں تو بن پھول کو چتر لیکھا سے کم نہیں مانتا۔‘‘ پنّا لال کا اعلان۔
وہ سوچتا ایک دن بن پھول سڑک پر چلتے چلتے ڈھیر ہوجائے گی۔ اور اس کی ارتھی کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی بھیڑ کندھے بدلتی رہے گی۔
کارواں سرائے کا یہی احساس کہ علی لجو امام جس کا بھی کام کرتا ہے، بڑی ایمانداری سے اور دن رات ایک کر کے۔
وہ تو گاہک کو اَنّ داتا مانتا تھا۔
اس کی نظر پرندوں کے اسپتال پر، جس کا سنگِ بنیاد لال صوفی نے رکھا تھا۔
چنچل سنگھ بات کو گھیرگھار کر لاہور تک لے آیا،
’’لاہورشہر،
گربانی کا شبد۔۔۔ جانے کون سا اشارہ۔
’’یہیں رہنا ہے، جب تک سوئی دھاگے کا ساتھ ہے۔‘‘ رفوگرکا اپنا انداز۔
’’تیرے دل میں تو بہت کام رفوکا نکلا!‘‘ اولاد احمد نے اپنی کتاب کا حوالہ دیا۔
’’ سو سال جئیں، سو سال دیکھیں۔‘‘ آچاریہ مہادیو کی تان یہیں ٹوٹتی کہ مندر میں دیوتا جاگے۔
چنچل سنگھ یہ کہہ کر دم لیتا کہ وہ پانی ملتان رہ گیا!
اولاد احمد کے زورِ قلم کا نتیجہ’’ادھورا آدمی، آدھی کتاب۔‘‘
پنّا لال کا قد۔۔۔ سوا تین فٹ مگر اس کا یہی دعویٰ،
’’میں لنکا سے آیا!‘‘
جیسے وہ اپنے آپ کو باون گزا مانتا ہو۔
گلی آئینہ خانم کی شان۔۔۔ نوگزے کی زیارت، سب پر مہربان۔
گڑیا سے باتیں کرتے کرتے جگنی بول اُٹھی،
’’اللہ اللہ لوریاں، دودھ بھری کٹوریاں!‘‘
راگ راگنی ہاتھ باندھے کھڑی رہتی۔
’’پاؤں تلے پرکھوں کی ہڈیاں۔‘‘ آچاریا مہادیو گیان بگھارتے۔
سرکٹے دھڑکو دفنا کر مزار گل شہید کا نام دیا گیا۔
لال صوفی کا ایک اور نام۔۔۔ گل شہید۔
اولاد احمد کی کتاب کا انتساب۔۔۔ گل شہید کے نام۔
’’لوگوں کے دماغ بھی رفو ہونے چاہئیں!‘‘ رفوگر مسکرایا۔
آنکھ کی پتلی۔۔۔ پتلی بائی۔۔۔! کارجہاں دراز ہے!
موتی جھیل غائب۔۔۔ اب وہاں چترلیکھا کالونی کی چہل پہل۔
گاندھی گارڈن۔۔۔ کمپنی باغ کا نیا نام۔
کبھی آواز کا چہرہ، کبھی پہچان چہرے کی!
خوشبو سے کہو یہ کہ ہماری طرف آئے!
بُھس میں آگ لگا کے جما لُو دور کھڑی!
’’کہیں بھی آگ لگے، بیچاری جمالو بدنام۔
آسام سے آیا کام روپ، جسے بن پھول نے الکھ نرنجن مان لیا۔
پیروں میں گھنگھرو باندھے، وہ اس کے آگے ناچتی رہتی۔
پاگل بھکارن کی اور بات، جو سڑک پر کھڑی آنے جانے والوں کو دعائیں دیتی رہتی۔
کام روپ کو دیکھ کر آسام سامنے آ جاتا۔
اوپر کوٹ۔۔۔ سرگوشیاں ہی سرگوشیاں۔
بن پھول کے جوڑے پر گجرے کی خوشبو۔
گفتگو۔۔۔ گل شہید کے مزار تک۔
علی جو امام یہ بتانا نہ بھولتا کہ وہ سورج اُگنے سے پہلے ہی پیدا ہوا اور اسی روز اس کوٹھری میں ابابیل کا بچہ انڈے سے باہر نکلا۔
آچاریہ مہادیو جب کبھی ’’کشمیری بے پیری!‘‘ کہہ کر چھیڑتے تو رفوگر کہتا،
’’مہاراج! میں تو آپ کو بھی بے پیر مانتا ہوں۔‘‘
وقت کا احساس جیسے جنگلی کبوتر کی اڑان۔ اڑتا ہی جائے بس اُڑتا ہی جائے!
دنگے فساد شروع ہوگئے تو کام روپ مارا جائے گا۔ اور اسے الکھ نرنجن مان کر پیروں میں گھنگھرو باندھے اس کے آگے ناچنے والی بن پھول کی جھنکار بھی ختم ہوجائے گی۔
کبھی میوزک کانفرنس، کبھی کتابوں کی نمائش، کبھی آل انڈیا مشاعرہ۔
ہیرا لال کا بیٹا موتی لال اور موتی لال کا بیٹا پنّا لال تینوں بونے۔ مگر نفرت کے خلاف جہاد، ان کا ایمان، جیسے بسم اللہ خاں کی شہنائی یا پنّا لال کا بانسری وادن۔
پٹھان کا پوت۔۔۔ کبھی اولیا، کبھی بھوت۔
مغل کی اور بات۔
اب کیا شاہانہ آن بان!
تاتاری کا قصّہ ختم!
لال صوفی۔۔۔ تاتاری سوداگر کے خاندان کی آخری کڑی۔
’’برف کے پھول سے اُٹھتا ہے دھواں دیر تلک!‘‘
’’رفوگر رفو کرتے کرتے گنگناتا رہا۔‘‘
اتہاس گوسوامی کا نام آتے ہی، مس فوک لور اور گل ہما کا نام آئے بغیر نہ رہتا۔
گل ہما یعنی برف کا پھول۔
اتہاس گوسوامی کی ’’نیل یکشنی‘‘ میں لال صوفی کو شردھانجلی دی گئی۔
بہار آئی ہے جو بن پر اُبھار آیا۔
پیچھے رہ گیا بھٹیاری کا رنگ محل۔
ناک کے سیدھے چلے جاؤ تو کتاب محل کا ریڈنگ روم۔
کبھی گرمی کا رونا کہ چیل انڈا چھوڑے!
کبھی کڑاکے کی ٹھنڈ کہ بلبلیں مرگئیں اکڑ کے تمام!
(۲)
ایک روز اچاریہ مہادیو بس پر سوار ہونے سے پہلے نیند کی چودہ گولیاں کھاگئے اور بس سے اُتر کر کارواں سرائے کے بارہ ٹوٹی چوک میں نیلا گنبد کے فٹ پاتھ پر گرتے ہی بیہوش ہوگئے۔
کسی نے ٹیگور اسپتال کو فون کردیا۔ اسپتال کی وین آئی اور اچاریہ مہادیو کو لے گئی۔
وہاں انھیں مردہ سمجھ کر مردہ گھر میں بھیج دیا گیا۔
اگلے روز ان کا پوسٹ مارٹم ہونا تھا۔
صبح چار بجے آچاریہ مہادیو کو ہوش آیا تو اس کے ساتھ کئی مردے۔
اپنے آپ کو مردہ گھر میں پاکر ان کے منھ سے چیخ نکل گئی ۔ بڑی مشکل سے اپنے اوپر قابو پا سکے۔
دروازہ کھلا تھا۔
وہ سرکتے سرکتے باہر اندھیرے میں جا پہنچے اور پہرے داروں سے بچتے بچاتے اسپتال کے احاطہ سے باہر۔
کئی گھنٹے تک یہی احساس رہا کہ موت دبے پاؤں ان کا پیچھا کر رہی ہے۔
یہی خدشہ لگا رہا کہ کہیں سرکار اقدام خودکشی کے الزام میں نہ دھر پکڑے۔
پرانے دوستوں میں سے، جس سے بھی ملے، وہی انھیں بھوت سمجھ کر سہم گیا۔
علی جو امام نے اولاد احمد اور وارث معصوم کو ساتھ لے کر ٹیگور اسپتال سے پوچھ تاچھ کی تو پتہ چلاکہ بارہ ٹوٹی چوک کے فٹ پاتھ سے لائی گئی لاوارث لاش کو سرکاری خرچ پر جلا دیا گیا۔
جب آچاریہ مہادیو اچانک بک لینڈ پریس کے پروف ریڈر پنّا لال کے سامنے آئے تو وہ انھیں بھوت سمجھ کر اتنا خوفزدہ ہوا کہ تین دن تک اسپتال میں رہنا پڑا۔
’’میں بیراگی بھیا انوراگی۔‘‘ جانے کس کس بات پر زور دیتے رہے آچاریہ مہادیو۔
چاند تاروں کے تلے، کون سا قصّہ چلے!
ہماری پہچان۔۔۔ رفوگر کی دوکان۔
بھاری ڈیل ڈول، لمبی داڑھی، بڑی بڑی آنکھیں، آنکھوں پر چشمہ۔ ہاتھ میں سوئی دھاگا۔
سگریٹ جلانے کے لیے ماچس نہیں، لائٹر۔۔۔ گل ہما کی سوغات۔
’’لونگ لو مِس فوک لور! اور گل ہما زندہ باد!‘‘
اولاد احمد نے تھاپ لگائی۔
کبھی تو ہنسائے، کبھی یہ رُلائے۔۔۔ زندگی کیسی ہے پہیلی ہائے۔‘‘
’’ہم تو ہر آدمی کو اپنے سے آگے مانتے ہیں۔ اس کا پیار ہمیں ملے نہ ملے۔ وارث معصوم نے جیسے اندھیرے میں روشنی کی پگڈنڈی پر اتہاس گوسوامی کو چلتے دیکھا۔ دائیں مِس فوک لور، بائیں گل ہما۔‘‘
اب کیا ہوگا۔ کسے خبر! لوک یان کے لیے جینا اور مرنا اتہاس گوسوامی کا دھرم ایمان۔
’’پیار کر کے بھلانا نہ آیا ہمیں۔‘‘ رفوگر نے رفو کرتے کرتے کہا۔
کتاب محل بڑھیا لائبریری ہے جیسے کسی مفلس نے پرانے خزانے کا پتہ چلایا۔
’’یہ کون سی پستک تھی، جو تم پڑھ رہے تھے۔‘‘ پنا لال نے چنچل سنگھ سے پوچھا۔
جتنی پرچھائیاں، اتنی سیڑھیاں۔۔۔ ساتھ صدیوں پرانا ہے اپنا!
’’دکھیا کیوں اتنا سنسار!‘‘، ’’نظم بن پھول کا۔‘‘
اٹ پٹا سا بول ’’پگلا کہیں کا!‘‘
اپنے دھاگے، سدا آگے کہیں خیرمقدم، کہیں الوداع۔
سونی ڈگر ہو یا ہو میلہ۔ تشریف لائیے حضور!
’’رفوگر کے لیے ضروری ہے کہ کپڑے میں جان ہو۔‘‘ رفوگر نے رفو کرتے کرتے کہا۔
’’اب تو اپنے آپ پر آئے نہ وشواس۔‘‘ چنچل سنگھ بول اُٹھا۔
بال بچّے دار پنّالال نئی دُلہن بیاہ لایا۔
دلہن نے اسے نیا خطاب دے ڈالا،
’’چیونٹیوں بھرا کباب!‘‘
گفتگو ہوتی رہی گھنٹوں۔
چنچل سنگھ کو یہی بات ناگوار گزرتی کہ کوئی اسے ہوٹل مہاراجہ سمجھ کر ہی اس کا احترام کرے۔
ہم کتنا ٹوٹ کے روئے جب لال صوفی کا دھڑملا، سر غائب۔
وارث معصوم گنگناتا رہا،
قصیدے سے نہ چلتا ہے، نہ یہ دوہے سے چلتا ہے
حکومت کا ہے جتنا کام، سب لوہے سے چلتا ہے
وہ کون تھا، جو مسکرا کے پاس سے گزر گیا؟
آچاریہ مہادیو نے جوگی بننے کا سپنا دیکھا۔
یوگ آشرم سے لگاؤ۔
شادی سے دور۔
اس ہپی کا ناش ہو، جس کی دوستی کے کارن انھیں مینڈکس کی لت پڑگئی۔ مٹی میں مل گیا یوگ کا سپنا۔
ہاتھ میں اخبار کا سنڈے ایڈیشن۔
چرخ نے پیش کمیشن کہہ دیا اظہار میں
قوم کالج میں اور اس کی زندگی اخبار میں
اب کس بات کا پردہ، جب نغمہ گونج اُٹھا؟
’’بارہ دری‘‘ نے سدھارتھ سینما میں گولڈن جوبلی منائی۔
رفوگر کو کیا چاہیے؟ چاک گریباں یا پھٹا ہوا دامن۔
بلبلیں مرتی ہیں اپنی بات پر!
لال صوفی کے مزار پر پھول چڑھاکر چنچل سنگھ نے دعا مانگی۔
دولت خاں کی دولت کا کرشمہ کہیے یا جادو، جو سر چڑھ کے بولا۔
وہ تین بار لوک سبھا کا ممبر چنا گیا۔
یہ تہذیب کس نے سکھائی ہمیں؟
کون سے رسم الخط میں لکھتا رہا وارث معصوم؟
کالج کی کتاب پر، جگنی کا اتنا ہی اعتماد، جتنا کہ گڑیا کے کھیل پر۔
دھک دھک دھک دھک دل کی ڈفلی
ڈم ڈم ڈم ڈم ڈمرو باجے!
واہ رہے اگیا بیتال!
سامنے اس موڑ پر پرندوں کا اسپتال۔
محرابوں سے چھن کر آتی دھوپ۔
سو کے قریب پرندے ہر ہفتے علاج کے لیے آتے۔ آشیاں سے دور، بڑھیا علاج۔
(۳)
کارواں سرائے گل ہما کی طرح اپنی ہی بانہوں میں سمٹ جاتی اور کبھی نفرت کی آندھی پر جھنجھلائی سی لگتی ۔
پنا لال استاد کے لیے چلم بھرلاتا۔
سوالوں کی راتیں، جوابوں کے دن۔
جب آچاریہ مہادیو اخبار پڑھ کر سناتے تو پنا لال اور اولاد احمد انھیں مذاق کا نشانہ بنانا نہ بھولتے۔ ٹیگور اسپتال میں ایک بار انھیں لاوارث لاش مان لیا تھا۔
دنگے فساد کی خبریں سنتے سنتے کبھی رفوگر کی سوئی سے دھاگا نکل جاتا، کبھی سوئی ہاتھ میں چبھ جاتی خون کی بوند چھلک جاتی۔
بادلو! او بادلو! او بادلو
مرگیا طوطا ہمارا مر گیا!
علی جو امام کو پسند کرنے والوں کے ڈھیر سارے نام۔
’’دیکھ مجھے جھوم گیا ندیا کا درپن!‘‘ بن پھول کا نغمہ۔
جانے کون کون سی یاد محفل کا دامن تھامتی رہی۔
چائے آئی اولاد احمد نے تھاپ لگائی،
چائے آئی چائے آئی
دگنے بھاؤ کی چائے آئی
(۴)
آچاریہ مہادیو نے لائٹر سے سگریٹ سلگایا اور کش لے کر گنگناتے رہے،
’’دوری نہ رہے کوئی، آج اتنے قریب آجاؤ!‘‘
’’چاندنی جب مل گئی۔ ہم چاندنی سو لیے۔۔۔‘‘ اولاد احمد کی تھاپ۔
ہم نے تو ہر طرح کے پھول ہار میں پرو لیے۔۔۔ وارث معصوم کی تان۔
قصہ پناّ لال کا۔
رفو کرتے کرتے علی جو امام کو جانے کیا خیال آیا کہ اُٹھ کر چلے گئے۔
جانے سے پہلے جیب سے نکال کر پچاس کا نوٹ چوکی پر رکھ دیا۔ شیشے کے پیپرویٹ کے نیچے۔
اتنے میں پنا لال آیا اور چپکے سے نوٹ اُٹھا کر نو دو گیارہ۔
اولاد احمد نے اسے نوٹ اٹھاتے دیکھ لیا تھا۔
رفوگر واپس آیا تو اولاد احمد نے پنا لال کی شکایت کی۔
’’وہ نوٹ تو اسی کے لیے تھا۔‘‘ رفوگر مسکرایا۔
رحمان یہ خبر لایا کہ دولت خاں نے کام روپ اور بن پھول کے لیے دونوں وقت کھانے کا انتظام کر دیا سماواز ریستوران میں۔
’’ووٹ حاصل کرنے کا نیا ہتھکنڈا۔‘‘وارث معصوم ہنس پڑا۔
’’آج قصے کو پھپھوندی لگ گئی۔۔۔!‘‘ اولاد احمد گنگناتے رہے۔
(۵)
قاتل بڑا بے رحم تھا، جو لال صوفی کا سر کاٹ کر لے گیا اور دھڑ جھاڑیوں میں چھپا گیا۔
سوال پوچھو، جواب دیں گے۔
’’قتل ناحق صوفی معصوم کا!‘‘ اولاد احمد کی تھاپ۔
ذرا سی بھول یہ رنگ لائی۔
اب کہاں وہ کتھا گھاٹ!
پرندوں کا اسپتال۔۔۔ کارواں سرائے کی شان۔
اسپتال کی نئی عمارت پر دولت خاں نے دولت نچھاور کی۔
سدھارتھ سینما کا مالک۔۔۔ دولت خاں۔ بک لینڈ پریس کا بھی وہی پروپرائیٹر۔
سینما۔۔۔ بیوی کے نام۔
پریس۔۔۔ چھوٹے بھائی کے نام۔
اصل بنیاد تو عقیدت ہے۔۔۔ یہی ایمان کی حقیقت ہے۔
سدھارتھ سینما میں نئی فلم ’’لوگ کہتے ہیں۔‘‘
مرگئے، کھوگئے، جاتے رہے ۔
اللہ اللہ لوریاں۔۔۔ دودھ بھری کٹوریاں۔
رشوت کا ایک نام۔۔۔ چاندی کی لگام۔
کارواں سرائے پر علی جو امام کی چھاپ۔ اس کی دوکان کارواں سرائے کی پہچان۔
(۶)
پگلی بھکارن سوکھے پیڑ کے تنے پر پانی ڈالتی رہی۔
پیڑ پر نئے پتّے آگئے۔
خواب میں ہم اپنے ہی جنازے کے ساتھ چلتے رہے۔
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں!
پنالال کے دماغ پر سوار۔۔۔ بن پھول۔
وہ مدھومتی کے کنارے موجود رہتا، جب بن پھول مدھومتی سے نہا کر نکلتی۔
اس نے بھیگے ہوئے بالوں سے جو جھٹکا پانی
جھوم کے آئی گھٹا، ٹوٹ کے برسا پانی
’’میں نے پیروں میں گھنگھرو باندھے، جتنے کہو اتنے گھنگھرو بولیں۔‘‘ ناچنا شروع کرنے سے پہلے بن پھول کا اپنے الکھ نرنجن سے یہی نویدن۔
دولت خاں چوتھی لوک سبھا کا انتخاب جیت گیا۔
علی جو امام کی اور بات۔
آنکھوں ہی آنکھوں میں سب کا احترام
ہو مبارک او علی جو او امام
سکھ دکھ رہتے جس میں مل کر، جھلمل بستی اس کا نام۔
لال صوفی کا سر کاٹ کر لے گیا ہتیارا۔
آج تک اس کا پتہ نہ چل پایا۔
پرندوں کا اسپتال۔۔۔ اس کی سچی یادگار۔ وہ جب تک زندہ رہا، پرندوں پر جان چھڑکتا رہا۔
مارا گیا لال صوفی۔۔۔ جو نفرت کو اپنے خون سے تولتا رہا۔
مزار میں دفن۔۔۔ سرکٹا لال صوفی۔
لوگوں کا گل شہید، جو زندگی بھر نفرت کے خلاف لڑتا رہا۔
لال صوفی کا مرثیہ۔۔۔ اولاد احمد کی کتاب کا حرف آخر،
بانس کے پتے پر یہ شبنم
ماتم والے بولے کم کم
آنکھوں سے پلکوں کی باتیں
پتھر ڈھوڈھو روتے رہے ہم
آنسو کی کیا آب و تاب
کیسے پڑھتے رہے کتاب
یہ زندہ اور مردہ لوگ
آنسو میں موتی کی آب
کیسا پلٹا ہے یہ موسم
دم توڑے پتوں پر شبنم
وہی سوال اور وہی جواب
کہاں گیا وہ اپنا ہمدم
کھنڈر کے پیچھے چاندنی رات میں چمیلی کے منڈوے تلے سو رہی تھی بن پھول۔
اسے ناگ نے ڈس لیا۔
اس کی ارتھی کے ساتھ علی جو امام دوکان سے شمشان تک چونیاں اور اٹھنیاں نچھاور کرتا رہا۔
اب کہاں بن پھول کی جھنکار!
اولاد احمد کی زبان پر جاپان کا ایک ہائیکو،
بس ایک تتلی۔۔۔ ننھی جان
مندر کے گھڑیال پر
بے خبر سوتی رہی!
کارواں سرائے پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
بن پھول کے الکھ نرنجن کام روپ کی آتما بھی پنجرا خالی کرگئی۔
کارواں سرائے ارتھی کے ساتھ ساتھ۔
چھتیس گڑھ کے چودھری بھی شامل ہوئے
’’رام رام ستّ ہے‘‘ کے ساتھ ’’اللہ ہو‘‘ کی آواز بھی بلند ہوتی رہی۔
چنچل سنگھ نے چندن کی چتا سجائی۔
آچاریہ مہادیو نے چتا کو آگ دکھائی۔
تیرہ دن تک کارواں سرائے کام روپ کا سوگ مناتی رہی۔۔۔ چولھے آگ نہ گھڑے پانی۔
بچوں کا شور،
دھوئیں دھوئیں تو گھر کو جا!
تیر ماں نے کھیر پکائی!
(۷)
آج مزار گل شہید پر قوالی کی رات۔
اپنا لال صوفی۔۔۔ کارواں سرائے کا گل شہید۔
یاد رہے گا اس کا نغمہ،
وہ ہندو ہوں کہ مسلم ایک ہی مٹی کے برتن ہیں
کوئی ہیں شیخ جی ان میں، کوئی ان میں برہمن ہیں
دائیں رحمان اور خلیل، بائیں اولاد احمد اور وارث معصوم۔
بیچ میں آچاریہ مہادیو۔
چپ کیوں ہوگئے؟ جواب دو۔
علی جو امام کیوں نہ آیا ہمارے ساتھ؟
رفوگر کی دوکان سے چل کر وہ بیگم پل سے گزرے۔ دائیں کھچڑی پور، بائیں چترلیکھا کالونی۔
بارہ دری سے ہوکر عیدگاہ مارگ پر چلتے چلتے کتاب محل کو پیچھے چھوڑا۔
جھلمل بستی سے آگے مزار گل شہید۔
شیطان طوفان، اللہ نگہبان۔ ہم قربان!
ان کا یہی احساس کہ یہاں نہ کوئی دوست ہے نہ دشمن ۔ نہ راجہ نہ بھکاری، نہ رانی اور داسی کے بیچ کوئی دیوار!
جہاں ڈر، وہیں ہمارا گھر!
اب وہ زمانہ کہاں کہ سونا اچھالتے جاؤ۔
اولاد احمد کی یہی شکایت کہ اتہاس گوسوامی تشریف نہ لائے۔
جھوٹی قسم کون کھائے،
وارث معصوم کہہ رہا تھا کہ گل ہما اور مس فوک لور ہی چلی آتیں۔
آچاریہ مہادیو بولے،
اگر مِس فوک لور کو بھی فرصت نہ تھی تو گل ہما ہی چلی آتیں۔
ہر طرف جنگل نظر آنے لگا۔
وصل ہو یا وصال ہو یا رب!
ہم قربان!
سات قرآن درمیان!
سب نے نہاکر کپڑے بدلے!
قوالی کی رات!
سازوں کی ہم آہنگی ہی سنگیت کی پہلی منزل ہے۔
اس وقت کی گردش یاد کرو، جب ساز ملائے جاتے ہیں!
وارث معصوم اور اولاد احمد یہ دیکھ کر جھوم اُٹھے کہ اتہاس گوسوامی پہلے سے محفل میں موجود ہیں۔
مٹی میں گلاب کی سگندھ۔
آچاریہ مہادیو نے ہاتھ جوڑ کر اتہاس گوسوامی کو پرنام کیا۔
جانے کون سی ان بوجھی پہیلی بوجھی جارہی تھی۔
اپنے تو ہیں سَو سَو یار
دُھنئے، بُنکر اور منہار
دل کی دنیا بہت اندھیری
اندھیارے میں کاروبار
اچانک درگاہ کے اندر ایک آدمی آکر چلاّیا،
’’فساد شروع ہوگیا!‘‘
بکھرے بال، کندھے گھائل، سر لہو لہان۔
چیختے چلاّتے وہ گر پڑا۔
قوالی کی محفل درہم برہم۔
اب کیا ہوگا؟
خلیل اور رحمان کا کہیں پتہ نہ تھا۔
اولاد احمد اور وارث معصوم بولے،
’’چلو آچاریہ مہادیو! اب بھاگ چلیں۔‘‘
وہ چلتے رہے، گرتے پڑتے چلتے رہے۔
افراتفری، وحشت غم کا پہاڑ۔
بلند عمارتیں آگ کی نذر۔
گلیاں لہو لہان۔
کالی سڑکیں سرخ ہوگئیں۔
راہیں لاشوں سے پٹ گئیں۔
اپنی ہی دوکان کی سیڑھیوں پر مارا گیا علی جو امام۔
سفید گھوڑے کا کالا شہسوار
اس کے آنسو ٹپ ٹپ گرتے رہے۔۔۔ گھوڑے کی ایال پر!
آنسو ٹپ ٹپ گِرتے رہے، گرتے رہے!
مارا گیا علی جو امام،
ایک ہاتھ میں سوئی، دوسرے میں دھاگا۔۔۔!
دیوندر ستیارتھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے