رات تھک ہار کے جب رخت ِسفر کھولتے ہیں

رات تھک ہار کے جب رخت ِسفر کھولتے ہیں
یاد کے پنچھی قفس توڑ کے پر کھولتے ہیں

کیا ضروری ہے کہ جذبے کو تراشا جاۓ
آپ کہتے ہیں تو ہم دست ِہنر کھولتے ہیں

رات بھر کس کی صدا آتی ہے اس بستی سے
آنکھ سب لوگ جہاں وقت سحر کھولتے ہیں

اس کی تصویر کو آنکھوں میں مقفل کر کے
اپنے جذبات کا ہم ساتواں در کھولتے ہیں

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے