رات کے پچھلے پہر نے کہہ دیا ہے آج بھی

رات کے پچھلے پہر نے کہہ دیا ہے آج بھی
عشق تو خونِ جگر کو پی رہا ہے آج بھی
مفلسی میں بجھ گئی ہیں میرے فن کی مشعلیں
حرف کوئی دل میں لیکن جاگتا ہے آج بھی
بے ارادہ مرحلوں میں بانٹ دی ہے زندگی
فیصلوں کا ایک سورج ڈھل گیا ہے آج بھی
بے وفا ہے، جاں گسل ہے یا فریبِ آرزو
پر تپاک انداز میں آ کر ملا ہے آج بھی
اے شبِ ہجراں ! تِری طعنہ زَنی ہو نامراد
دل اُسی کا منتظر ہے ، در کھلا ہے آج بھی
موردِ الزام قسمت حادثوں پر ہے مگر
جُرم تو انسان کے ہاتھوں ہوا ہے آج بھی
عقلِ آدم پر جہالت کل بھی تھی سایہ کشا
ہر کسی کے ہاتھ میں اپنا خدا ہے آج بھی
یاد اُس کو آ گیا ناصر تمھارا بچپنا
وہ پرانا سا کھلونا رو پڑا ہے آج بھی
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے