رات بھر سبز مزارات نظر آتے رہے

رات بھر سبز مزارات نظر آتے رہے
سیر کرتا رہا ، باغات نظر آتے رہے

خود میں جھانکا تو مجھے گھیرا ہوا تھا سب نے
وسوسے اور سوالات نظر آتے رہے

میں فقط کرسی پہ بیٹھا نظر آتا تھا انہیں
جن کو بس اپنے مفادات نظر آتے رہے

ریل میں بیٹھ کے اندر کی گھٹن کم تو ہوئی
دل کی کھڑکی سے مضافات نظر آتے رہے

میں تو چپ بیٹھا تھا اور ہاتھ مرے بولتے تھے
گونجتے عمل _ مکافات نظر آتے رہے

کھل کے رولینے سے شفاف ہوا میرا دماغ
کچھ بھی سوچا تو خیالات نظر آتے رہے

محبوب کاشمیری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔