رات بھر دیکھے پہاڑوں پہ برستے موسم

رات بھر دیکھے پہاڑوں پہ برستے موسم
لالہ رُو بھیگے کناروں پہ سلگتے موسم
رات کے خالی کٹورے کو لبالب کر کے
کس قدر خوشبو چھڑ کتے ہیں بہکتے موسم
شام ہوتی ہے تو پھر گیت جگا دیتے ہیں
پائلوں میں کسی گھنگھرو کے کھنکتے موسم
شوخ بوندوں کی طرح جا کے اٹک جاتے ہیں
جسم کی کوری صراحی پہ چمکتے موسم
کیا پتہ کب ،یہ کسی شاخ کو بنجر کر دیں
نرم مٹی کو سکھا کر یہ سسکتے موسم
زرد پتوں میں کسی یاد کی جامن کے تلے
کھیلتے رہتے ہیں بچپن کے چہکتے موسم
باندھ کے پر کہیں لے جائیں گے مجھ کو نیناں
خواب میں اُڑتے پرندوں سے گزرتے موسم
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے