راہ میں شمع جلا بیٹھے ہیں

راہ میں شمع جلا بیٹھے ہیں
کس سے ہم آس لگا بیٹھے ہیں
رنگ محفل سے ہمیں کیا مطلب
جانے کیا سوچ کے آ بیٹھے ہیں
ختم ہوتی نہیں دل کی باتیں
اپنا قصہ تو سنا بیٹھے ہیں
کون سنتا ہے کسی کی آواز
ہم ابھی کر کے صدا بیٹھے ہیں
مسکرایا ہے زمانہ کیا کیا
کھا کے جب تیر وفا بیٹھے ہیں
خود کو دیکھا تو نہ پہچان سکے
ہم بھی کیا حال بنا بیٹھے ہیں
ابھی کچھ ملتے ہیں منزل کے سراغ
ابھی کچھ آبلہ پا بیٹھے ہیں
منزلوں رہ گئے پیچھے باقیؔ
وہ گھڑی راہ میں کیا بیٹھے ہیں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے