راہ چلتے ہوئے راہی کا گلہ کون کرے

راہ چلتے ہوئے راہی کا گلہ کون کرے
دل کی بے صرفہ تباہی کا گلہ کون کرے
داغ اس دل کی ضرورت بھی ہیں سرمایہ بھی
پھر مقدر کی سیاہی کا گلہ کون کرے
سخت منزل ہو تو سائے بھی بچھڑ جاتے ہیں
تجھ سے بے ربط نگاہی کا گلہ کون کرے
شہر کیا ہے کوئی الزام سرا ہے جیسے
اپنی ناکردہ گناہی کا گلہ کون کرے
آنکھ آئینے سے کترا کے گزرتی ہے یہاں
وقت کی کور نگاہی کا گلہ کون کرے
درد اشعار میں خود عکس کشی کرتا ہے
چشمِ بے بس کی گواہی کا گلہ کون کرے
ہم بھی اس غفلت خود سوز میں شامل ہیں سعید
اب یہاں چور سپاہی کا گلہ کون کرے
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے