قربتوں میں وہ تسَلسُل نہیں ہونے دیتے

قربتوں میں وہ تسَلسُل نہیں ہونے دیتے
یعنی وہ مجھ کو مکمَل نہیں ہونے دیتے
دل میں آتے ہیں ذرا دیر چلے جاتے ہیں
خود کو پابندِ سلاسِل نہیں ہونے دیتے
درد بڑھتا ہے تو فوراً ہی دوا کرتے ہیں
درد کو درد کے قابِل نہیں ہونے دیتے
روز دروازہ بدل لیتے ہیں کاشانے کا
ایک ہی در کو مقفَّل نہیں ہونے دیتے
عشق کرتے ہیں تو مشروط سا وہ کرتے ہیں
عشق میں خود کو وہ پاگَل نہیں ہونے دیتے
وہ دبے پاؤں اتر آتے ہیں دل میں میرے
کوئی آہٹ کوئی ہلچل نہیں ہونے دیتے
ان کو آتا ہے ہُنر کیسا نہ جانے شاہد
پتھروں کو بھی وہ سنگدِل نہیں ہونے دیتے
شاہد عباس ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے