Qurbatein Hote Hoye

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں

کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی

کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں

شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول

اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں

پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی

ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں

یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دن

پھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں

اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑتی ہے ہوا

منزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں

کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔ

سرپھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے