قدرت کے امتحان سے لگتا ہے ڈر مجھے

قدرت کے امتحان سے لگتا ہے ڈر مجھے
برسا ت میں مکان سے لگتا ہے ڈر مجھے
کرتا ہوا شکار نہ ہو جاؤں خود شکار
ٹوٹی ہوئی کمان سے لگتا ہے ڈر مجھے
ہر زخم کے نشان میں اِک داستان ہے
ہر زخم کے نشان سے لگتا ہے ڈر مجھے
میرے پروں کو تیرا سہارا ضروری ہے
تیرے بِنا اُڑان سے لگتا ہے ڈر مجھے
میرے تمام راز کسی پر نہ کھول دے
خاموشی کی زبان سے لگتا ہے ڈر مجھے
مالک الگ جہان بنا دے مرے لیے
مالک ترے جہان سے لگتا ہے ڈر مجھے
مجھ کو بھی کوئی شاذؔ نہ لے جائے شاخ سے
پھولوں کی ہر دُکان سے لگتا ہے ڈر مجھے
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے