قائد ہمیں تیری ضرورت ھے

قائد ہمیں تیری ضرورت ھے
اے میرے پیارے قائد اعظم محمد علی جناح
جس منتشر اور غلام قوم کو تو نے آزاد کیا تھا
ان کو امن وسلامتی کا جو پیغام دیا تھا
ایمان ،اتحاد تنظیم کا جو درس دیا تھا
ملت یہ پیغام بھول گئی
اے مسیحا قائد
اے مرے پیارے قائد
صرف اک بار پلٹ اور
اس پاک وطن کی زبوں حالی کو دیکھ
اس ملک کا نظام تعلیم دیکھ
بکتی ہیں نوٹوں کے عوض ڈگریاں
تو نے جو انصاف و امن کا درس دیا
انصاف کی دھجیاں کیسے اڑائی جاتی ہیں
آ کے تو دیکھ
قانون کے رکھوالے؟ اب میں کیا کہوں خود چور ہیں
تری آزاد ریاست میں آج عورت ظلم میں پس رہی ہے
دیکھ اے قائد
درندے کس طرح بچیوں کو ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
امیر اور امیر
غریب اور غریب
روٹی، کپڑا اور مکان اس ریاست میں پوری نہیں ہو رہی
خود غرض لوگ
محبت سے عاری لوگ
اسلامی ریاست میں گوروں کی نقالی کرتے ہیں
چند سکوں کے عوض بک جانے والے
ترا پیغام بھول گئے ہیں
کام کام کام محنت کی عظمت
یہ قوم مجبور و بے بس ہے
اے قائد نجات دہندہ
اس قوم کو تری ضرورت ہے
پھر آ کے ہمیں دلوا
آزادی آزادی
تسلیم اکرام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے