Qissay Khaniyoun Mein

قصّے کہانیوں میں چھپایا گیا مجھے
پہلو بدل بدل کے سنایا گیا مجھے

آواز دے رہا تھا مجھے کوئی خواب میں
کیا جانئے کہاں پہ بلایا گیا مجھے

ایسا نہ ہو خزانہ کوئی اور چھین لے
دیوار کی طرح سے اُٹھایا گیا مجھے

قید ِ بدن میں روح تڑپتی ہے کس لیے
یہ کون آئنہ میں دکھایا گیا مجھے

یوں سامنے مرے مرا سودا کِیا گیا
پوچھا گیا مجھے نہ بتایا گیا مجھے

ابہام ہے رفیق مرے نقش میں کوئی
پوری طرح نہ دل میں بسایا گیا مجھے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے